الیہ فی التیسیر ما احاولہ۔١٦ انہ المیسّر لکل عسیر، و ھو علی ما یشاء قدیر، و بالاجابة جدیر، و حسبنا اللہ، و نعم الوکیل۔
مدد سے انکے کہنے کے مطابق لکھنا شروع کر دیا ہوں ۔
لغت : املی : املاء سے مشتق ہے ۔لکھوانا ۔افتتح : فتح سے مشتق ہے ۔کھولنا ،شروع کر نا ۔اقاول : قول سے مشتق ہے ۔جو کچھ ان لوگوں نے کہا ۔یا جو کچھ ان لوگوں نے فرمائش کی ۔
ترجمہ: ١٦ جسکا میں ارادہ کر رہا ہوں اسکی آسانی کے لئے اللہ سے عاجزی کے ساتھ درخواست کرتے ہوئے ۔وہ ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے ۔ اور وہ جو چاہتا ہے اس پر قدرت رکھتا ہے ۔اور درخواستوں کی قبولیت اسکی شایان شان ہے ۔ہمکو اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔
تشریح :مصنف یہاں سے اپنی کتاب کی قبولیت کے لئے اللہ سے عاجزانہ درخواست کر رہے ہیں ۔کیونکہ وہ ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے ۔اور دعا کو قبول کرنا اسکی شایان شان ہے ۔فرماتے ہیں اللہ ہمیں کافی ہے اور بہترین کا ر ساز ہے ۔
لغت :۔ متضرعا : تضرع سے مشتق ہے عاجزانہ درخواست کرنا ۔احاول : حول سے مشتق ہے ۔ارادہ کرنا ۔میسّر: یسر کا اسم فاعل ہے۔ آسان کرنے والا ۔عسیر : مشکل کام ۔اجابة : قبول کر نا ۔جدیر : جدر سے مشتق ہے ۔لائق ہونا ۔حسب : کافی ہونا ۔نعم : بہترین ۔ الوکیل : کار ساز ۔