فشرعتہ فیہ، و الوعد یسّوغ بعض المساغ، و حین اکاد اتکأ اتکاء الفراغ تبینت فیہ نبذاً من الاطناب، و خشیت ان یھجر لاجلہ الکتاب فصرفت عنان العنایة الی شرح آخر موسوم، بالھدایة.
١٢ اجمع فیہ بتوفیق اﷲ تعالی بین عیون الروایة، ومتون الدرایة تارکا للزوائد فی کل باب معرضاًعن ھذا النوع من الاسھاب مع ماانہ یشتمل علی اصول ینسحب علیھا فصول
تشریح : مصنف ھدایہ نے فقہ میں متن کی کتاب لکھی جس میںاہمیت کے ساتھ قدوری کے مسئلے کو لیا اور جہاں مسئلے نہ مل سکے وہاں امام محمد کی کتاب جامع صغیر سے مسئلے لئے اور دونوں کو ملا کر کتاب بدایة المبتدی تصنیف کی ۔اسکے دیباچہ میں وعدہ کیا کہ میں اسکی شرح بھی لکھونگا ۔چنانچہ اسی 80 جلدوں میں اسکی شرح لکھی اور اسکا نام ،کفایة المنتھی ،رکھا ۔شرح سے فراغت کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ کتاب اتنی لمبی ہو گئی ہے کہ اسکو کوئی نہیں پڑھے گا ۔اور کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اصل کتاب ،بدایة المبتدی ، ہی کو نہ چھوڑ دیں اسلئے بدایة المبتدی کی دوسری شرح مختصر لکھی جسکا نام ،ھدایہ ، رکھا جوآپکے ہاتھ میں ہے ۔اوپر کی عبارت میں یہی بات کہہ رہے ہیں ۔
لغت :۔ الموعد :وعد سے مشتق ہے ۔مبدأ : شروع میں ۔ارسم : رسم سے مشتق ہے ،لکھنا ۔یہاںترجمہ ہے میں اسکا نام رکھونگا ۔فشرعت فیہ : اسکا ترجمہ ہے ،میں نے کفایة المنتھی ،کو لکھنا شروع کر دیا۔یسوغ : باب تفعیل سے ،جائز ہو نا ۔اسی سے ہے مساغ : گنجائش ۔عبارت کا مطلب ہے کہ وعدہ میں تاخیر کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وعدہ کر لینے کے بعد اس کام کو کرنا جائز ہو جاتا ہے ۔اس لئے وعدے کے مطابق میں نے اسکی شرح لکھنا شروع کردی ۔الوعد یسوغ بعض المساغ ۔جملہ معترضہ ہے اکاد : قریب تھا ۔اتکأ : وکأ سے مشتق ہے ۔تکیہ لگانا ۔اور اتکأ عنہ کا ترجمہ ہے اس سے تکیہ اٹھا لینا ۔اکاد اتکأ عنہ اتکأ الفراغ : کا مطلب ہے کہ میں اس شرح سے فارغ ہو نے کے قریب تھا ۔ تبینت: بین سے مشتق ہے ۔میرے سامنے واضح ہو گیا ۔ نبذا ً: اسکا ترجمہ ہے تھوڑا سا ۔اطناب : کسی نکتے کی وجہ سے بات لمبی ہو جائے اسکو اطناب کہتے ہیں ۔خشیت : خشی سے مشتق ہے۔ مجھے ڈر ہوا ۔یھجر: ھجر سے مشتق ہے چھوڑ دینا ۔الکتاب : سے مراد بدایة المبتدی ،ہے ۔عنان : لگام کی رسی ۔عنان العنایة کا ترجمہ ہے توجہ کی رسی ۔یعنی میں نے اسکی طرف توجہ کی ۔موسوم : سمی : سے مشتق ہے ،جسکا نام ھدایہ رکھا گیا ہے ۔
ترجمہ: ١٢ اللہ کی توفیق سے میں اس میں عمدہ روایت اور مضبوط دلائل عقلیہ جمع کر رہا ہوں ۔اس کے ہر باب میں زوائد چھوڑنے کا ارادہ ہے اور اس قسم کی طول بیانی سے اعراض کرنے کی نیت ہے ۔تاہم ایسے اصول پر شامل ہو گی جن پر فروع متفرع ہو نگے ۔