Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

498 - 627
٢ والافضل ہو الجہر لیکون الاداء علٰی ہیأة الجماعة (٣١٥)ویخفیہا الامام فی الظہروالعصر وان کان بعرفة )  ١ لقولہ علیہ السلام صلوة النہار عجماء ای لیست فیہا قراء ة مسموعة ٢  وفی عرفة 

ترجمہ:   ٢   اور افضل یہ ہے کہ زور سے پڑھے تاکہ ادا جماعت کے طور پر ہو جائے ۔
تشریح :   تنہا آدمی کے لئے فرض نماز میں آہستہ پڑھنا جائز تو ہے لیکن زور سے پڑھے تو افضل ہے تاکہ نماز جماعت کی ھیئت پر ہو جائے ۔
ترجمہ:   (٣١٥) امام ظہر اور عصر میں قرأت آہستہ پڑھے چاہے عرفہ میں ہی کیوں نہ ہو ۔
وجہ:   (١)عن انس أن جبرئیل  اتی النبی  ۖ بمکة حین زالت الشمس و أمرہ أن یوذن للناس بالصلوة  حین فرضت علیھم ، فقام جبرئیل  امام  النبی  ۖ و قاموا الناس خلف رسول اللہ  ۖ قال : فصلی أربع رکعات لا یجھر فیھا بقرأة....ثم امھل حتی اذا دخل وقت العصر ، صلی بھم أربع رکعات لا یجھر فیھا بالقرأة ۔ ( دار قطنی ، باب امامة جبرئیل ، ص ٢٦٨ ، نمبر ١٠١١ )  اس حدیث میں ہے کہ ظہر اور عصر میںقرأت آہستہ کی ۔(٢)عن ابی قتادة عن ابیہ قال کان النبی ۖ یقرأ فی الرکعتین من الظھر والعصر بفاتحة الکتاب وسورة سورة ویسمعنا الآیة احیانا  (بخاری شریف ، باب القراء ة فی الظہر والعصر ص ١٠٥ نمبر ٧٦٢ مسلم شریف ، باب القراء ة فی الظہر والعصر ص ١٨٥ نمبر ٤٥١) یسمعنا الآیة احیانا سے معلوم ہوا کہ آپۖ پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت آہستہ کرتے تھے ۔لیکن کبھی کبھار ّایک دو آیت سنا بھی دیتے تھے۔اسی حدیث کے یقرأ فی الرکعتین سے معلوم ہوا کہ دوسری دو رکعتوں میں قرأت پڑھنا ضروری نہیں ہے۔کیونکہ آپۖ پہلی دو رکعتوں ہی میں قرأت کرتے تھے (٣)عن الزھری قال عن رسول اللہ ۖ ان یجھر بالقراء ة فی الفجر فی الرکعتین وفی الاولیین من المغرب والعشاء ویسر فیما عدا ذلک  (اخرجہ ابو داؤد فی مراسلہ درایة ص ٩١ اعلاء السنن ج رابع ص٦ مصنف ابن ابی شیبة ،١٣٩ فی قراء ة النہار کیف ھی فی الصلوة، ج اول، ص ٣٠٢، نمبر ٣٦٦١) اس سے بھی معلوم ہوا کہ ظہر اور عصر میں قرأت سری ہو نی چاہئے۔
ترجمہ:   ١   حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ دن کی نماز گونگی ہے ۔ یعنی اس میں ایسی قرأت  نہیں ہے جسکو سن سکے ۔
تشریح :   اصل دلیل تو اوپر کی حدیث ہے ۔ صاحب ھدایہ نے یہ اثر پیش کی ہے ۔ عن الحسن قال : صلوة النھار عجماء و صلاة اللیل تسمع اذنیک ۔(مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٩ فی قرأة النھار کیف ھی فی الصلوة ،ج اول ، ص ٣٢٠، نمبر ٣٦٦٤ مصنف عبد الرزاق باب قرأة النہار ، ج ثانی ، ص ٤٩٣ ، نمبر ٤١٩٩) اس اثر میں ہے کہ دن کی نماز گونگی ہے ۔ 
ترجمہ:   ٢   اور عرفہ کے بارے میں حضرت امام مالک  کا اختلاف ہے ، اور انکے اوپر حجت وہ ہے جو ہمنے روایت کی ۔ 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter