٢ والافضل ہو الجہر لیکون الاداء علٰی ہیأة الجماعة (٣١٥)ویخفیہا الامام فی الظہروالعصر وان کان بعرفة ) ١ لقولہ علیہ السلام صلوة النہار عجماء ای لیست فیہا قراء ة مسموعة ٢ وفی عرفة
ترجمہ: ٢ اور افضل یہ ہے کہ زور سے پڑھے تاکہ ادا جماعت کے طور پر ہو جائے ۔
تشریح : تنہا آدمی کے لئے فرض نماز میں آہستہ پڑھنا جائز تو ہے لیکن زور سے پڑھے تو افضل ہے تاکہ نماز جماعت کی ھیئت پر ہو جائے ۔
ترجمہ: (٣١٥) امام ظہر اور عصر میں قرأت آہستہ پڑھے چاہے عرفہ میں ہی کیوں نہ ہو ۔
وجہ: (١)عن انس أن جبرئیل اتی النبی ۖ بمکة حین زالت الشمس و أمرہ أن یوذن للناس بالصلوة حین فرضت علیھم ، فقام جبرئیل امام النبی ۖ و قاموا الناس خلف رسول اللہ ۖ قال : فصلی أربع رکعات لا یجھر فیھا بقرأة....ثم امھل حتی اذا دخل وقت العصر ، صلی بھم أربع رکعات لا یجھر فیھا بالقرأة ۔ ( دار قطنی ، باب امامة جبرئیل ، ص ٢٦٨ ، نمبر ١٠١١ ) اس حدیث میں ہے کہ ظہر اور عصر میںقرأت آہستہ کی ۔(٢)عن ابی قتادة عن ابیہ قال کان النبی ۖ یقرأ فی الرکعتین من الظھر والعصر بفاتحة الکتاب وسورة سورة ویسمعنا الآیة احیانا (بخاری شریف ، باب القراء ة فی الظہر والعصر ص ١٠٥ نمبر ٧٦٢ مسلم شریف ، باب القراء ة فی الظہر والعصر ص ١٨٥ نمبر ٤٥١) یسمعنا الآیة احیانا سے معلوم ہوا کہ آپۖ پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت آہستہ کرتے تھے ۔لیکن کبھی کبھار ّایک دو آیت سنا بھی دیتے تھے۔اسی حدیث کے یقرأ فی الرکعتین سے معلوم ہوا کہ دوسری دو رکعتوں میں قرأت پڑھنا ضروری نہیں ہے۔کیونکہ آپۖ پہلی دو رکعتوں ہی میں قرأت کرتے تھے (٣)عن الزھری قال عن رسول اللہ ۖ ان یجھر بالقراء ة فی الفجر فی الرکعتین وفی الاولیین من المغرب والعشاء ویسر فیما عدا ذلک (اخرجہ ابو داؤد فی مراسلہ درایة ص ٩١ اعلاء السنن ج رابع ص٦ مصنف ابن ابی شیبة ،١٣٩ فی قراء ة النہار کیف ھی فی الصلوة، ج اول، ص ٣٠٢، نمبر ٣٦٦١) اس سے بھی معلوم ہوا کہ ظہر اور عصر میں قرأت سری ہو نی چاہئے۔
ترجمہ: ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ دن کی نماز گونگی ہے ۔ یعنی اس میں ایسی قرأت نہیں ہے جسکو سن سکے ۔
تشریح : اصل دلیل تو اوپر کی حدیث ہے ۔ صاحب ھدایہ نے یہ اثر پیش کی ہے ۔ عن الحسن قال : صلوة النھار عجماء و صلاة اللیل تسمع اذنیک ۔(مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٩ فی قرأة النھار کیف ھی فی الصلوة ،ج اول ، ص ٣٢٠، نمبر ٣٦٦٤ مصنف عبد الرزاق باب قرأة النہار ، ج ثانی ، ص ٤٩٣ ، نمبر ٤١٩٩) اس اثر میں ہے کہ دن کی نماز گونگی ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور عرفہ کے بارے میں حضرت امام مالک کا اختلاف ہے ، اور انکے اوپر حجت وہ ہے جو ہمنے روایت کی ۔