٢وعند محمد و ہو روایة عن ابی حنیفة نواہ فیہما لانہ ذوحظ من الجانبین (٣١١)والمنفرد ینوی الحفظةلاغیر) ١ لانہ لیسَ معہ سواہم(٣١٢)والامام ینوی بالتسلیمتین ہوالصیحیح) ١ ولاینوی فی
تشریح : امام ابو یوسف کی رائے ہے کہ دائیں جانب کو فضیلت ہے اسلئے دائیں جانب سلام کرتے وقت امام کی نیت کرے ۔ دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عائشہ قالت : کان النبی ۖ یعجبہ التیمن فی تنعلہ ، و ترجلہ ، و طھورہ ، و فی شانہ کلہ ۔ ( بخاری شریف ، باب التیمن فی الوضوء و الغسل ، ص ٢٩، نمبر ١٦٨) اس حدیث میں ہے کہ تمام چیزوں میں دائیں جانب پسند فرماتے تھے اسلئے دائیں جانب جب سلام کرے تو امام کی نیت کرے ۔
ترجمہ: ٢ اور امام محمد کے نزدیک اور وہی امام ابو حنیفہ کی ایک روایت ہے کہ دونوں جانبوں میں امام کی نیت کرے اسلئے کہ یہ دونوں جانب کے حصے دار ہیں ۔
تشریح : امام محمد کی رائے یہ ہے کہ دونوں جانب سلام کر تے وقت امام کی نیت کرے کیونکہ امام سامنے ہیں اسلئے گو یا کہ دونوں جانب پڑ رہے ہیں ۔ اسلئے دونوں جانب انکی نیت کرے ۔
ترجمہ: (٣١١) اور منفرد صرف حفاظت کر نے والے فرشتے کی نیت کرے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اسکے ساتھ اسکے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔
تشریح : آدمی تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو دونوں سلاموں میں دونوں طرف حفاظت کر نے والے فرشتے کی نیت کرے ، اسلئے کہ ٫ السلام علیکم ،میں خطاب حاضر ین کو ہے اور اسکے ساتھ فرشتوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے اسلئے انہی کی نیت کرے ۔
ترجمہ: (٣١٢) اور امام دونوں سلاموں میں مقتدی اور فرشتوں کی نیت کرے ۔ صحیح یہی ہے ۔
تشریح : صحیح یہ ہے کہ امام دونوں سلام کر تے وقت دونوں طرف کے فرشتے کی بھی نیت کرے گا اور مقتدیوں کی بھی نیت کرے گا ، اسلئے کہ دونوں طرف فرشتے ہیں اور دونوں طرف مقتدی ہیںدلیل آگے کی حدیث ہے ۔بعض حضرات نے فرمایا کہ ایک طرف نیت کر نا کافی ہے ۔
وجہ : عن جابر بن سمرة .... انما یکفی احدکم أن یضع یدہ علی فخذہ ، ثم یسلم علی أخیہ من علی یمینہ و شمالہ ۔( مسلم شریف ، باب الامر بالسکون فی الصلوة و النھی عن الاشارة بالید ، ص ١٨١، نمبر ٤٣١ ٩٧٠ ابو داود شریف ، باب فی السلام ، ص ١٥٢ ، نمبر ٩٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام میں دائیں اور بائیںجانب مقتدی کی نیت کرے ۔اور چونکہ فرشتے بھی ہیں اسلئے انکی بھی نیت کرے ۔
ترجمہ: ١ فرشتے میں متعین تعداد کی نیت نہ کرے ۔ اسلئے کہ انکی تعداد کے بارے میں احادیث مختلف ہیں تو انبیاء علیھم السلام