Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

492 - 627
(٣١٠) ولا بدللمقتدی من نیة امامہ فان کان الامام من الجانب الایمن  اوالا یسرنواہ فیہم)  ١ وان کان بحذائہ نواہ فی الاولیٰ عندابی یوسف ترجیحالجانب الایمن 

میں جانا ہی نہیں چاہئے اسلئے اسکی نیت کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فساد کی وجہ سے نہ جانے کی حدیث یہ ہے ۔ أن عائشہ  زوج النبی  ۖ قالت : لو أدرک رسول اللہ ۖ ما أحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل ۔ قال یحی : فقلت لعمرة : أمنعت نساء بنی اسرائیل ؟ قالت : نعم ۔ ( ابوداود شریف ، باب التشدید فی ذالک ( ای فی خروج النساء الی المسجد ) ، ص ٩١ ، نمبر ٥٦٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس زمانے میں عورتوں کو مسجد نہیں جانا چاہئے۔  اسلئے انکی نیت بھی نہ کرے ۔]٢[ اور دوسری بات یہ ہے کہ السلام علیکم میں خطاب حاضرین کو ہے اسلئے جو جماعت سے غائب ہے اسکی نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔  
ترجمہ:  (٣١٠)  اور مقتدی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے امام کی نیت کرے ، پس اگر امام دائیں جانب ہیں تو دائیں جانب انکی نیت کرے  ، یا بائیں جانب ہیں تو اس میں انکی نیت کرے ۔
تشریح :   جس طرح امام سلام پھیرتے وقت مقتدی کی نیت کرے اسی طرح مقتدی سلام پھیرتے وقت اپنے امام کی نیت کرے ، پس اگر دائیں جانب ہوں تو دائیں جانب سلام پھیرتے وقت امام کی نیت کرے ، اور اگر امام اس سے بائیں جانب ہو تو بائیں جانب سلام پھیرتے وقت امام کی نیت کرے ، اور اگر امام سامنے ہو تو دونوں جانب سلام پھیرتے وقت امام کی نیت کرے کیونکہ امام گویا کہ دونوں جانب ہیں ۔ 
وجہ :   (١) دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن سمرة بن جندب قال : أمرنا النبی  ۖ أن نرد علی الامام، و أن نتحاب، و أن یسلم بعضنا علی بعض۔ ( ابوداود شریف ، باب الرد علی الامام ، ص ١٥٢ ، نمبر ١٠٠١ ابن ماجہ شریف ، باب رد السلام علی الامام، ص ١٣١ ، نمبر ٩٢٢)  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے امام کو بھی سلام کر نا چاہئے ۔ (١)اثر میں ہے ۔ عن حماد قال : اذا کان الامام عن یمینک فسلمت عن یمینک ، و نویت الامام فی ذالک ، و اذا کان عن یسارک سلمت و نویت الامام فی ذالک ایضا ً ، و اذا کان بین یدیک فسلمت علیہ فی نفسک ، ثم سلمت عن یمینک و عن شمالک۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الرد علی الامام ، ج ثانی ، ص ٢٢٤، نمبر ٣١٥٢ ) اس اثر سے معلوم ہواکہ امام دائیں جانب ہو تو دائیں جانب اسکی نیت کرے ، اور بائیں جانب ہو تو بائیں جانب اسکی نیت کرے ۔                                                                   
ترجمہ:   ١   اور اگر امام اسکے سامنے ہو تو پہلی مرتبہ سلام کر نے میں اسکی نیت کرے امام ابو یوسف  کے نزدیک دائیں جانب کو ترجیح دینے کے لئے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter