حتی یری بیاض خدہ الایسر(٣٠٩) ونوی بالتسلیم الاولیٰ من علیٰ یمینہ من الرجال والنساء والحفظة وکذلک فی الثانیة) ١ لان الاعمال بالنیات ٢ ولاینوی النساء فی زمانناولا من لاشرکة لہ فی صلاتہ ہو الصحیح لان الخطاب حظُّ الحاضرین
تشریح : یعنی سلام پھیرتے وقت دونوں جانب منہ اتنا پھیراتے کہ گال کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی ۔
وجہ: صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے (١)عن عبد اللہ ان النبی ۖ کان یسلم عن یمینہ وعن شمالہ حتی یری بیاض خدہ، السلام علیکم ورحمة اللہ ،السلام علیکم ورحمة اللہ (ابوداؤد شریف ، باب فی السلام ص ١٥٠ نمبر ٩٩٦ بخاری شریف ، باب التسلیم ص ١١٦ نمبر ٨٣٧ ترمذی شریف ،باب ما جاء فی التسلیم فی الصلوة ص ٦٥ نمبر ٢٩٥) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سلام پھیرنا چاہئے اس طرح کہ کنارے والوں کو گال نظر آنے لگے (٢) عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ۖ مفتاح الصلوة الطہور وتحریمھا التکبیر وتحلیلھا التسلیم ۔ ( ترمذی شریف، باب ما جاء فی تحریم الصلوة وتحلیلھا ص ٥٥ نمبر ٢٣٨ ابو داؤد شریف نمبر ٦١٨) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ سلام پھیرنا چاہئے ۔
ترجمہ: (٣٠٩) اور پہلے سلام سے مرد وںاور عورتوں میں ان مقتدیوں کی نیت کرے جو امام کے دائیں جانب ہیں ، اور حفاظت کر نے والے فرشتے کی نیت کرے ۔ اور ایسے ہی دوسرے سلام میں بائیں والوں کی نیت کرے ۔
وجہ: (١) حدیث میں ہے ۔ عن جابر بن سمرة .... انما یکفی احدکم أن یضع یدہ علی فخذہ ، ثم یسلم علی أخیہ من علی یمینہ و شمالہ ۔( مسلم شریف ، باب الامر بالسکون فی الصلوة و النھی عن الاشارة بالید ، ص ١٨١، نمبر ٤٣١ ٩٧٠ ابو داود شریف ، باب فی السلام ، ص ١٥٢ ، نمبر ٩٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام میں دائیں اور بائیںجانب مقتدی کی نیت کرے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ۔
تشریح: چونکہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اسلئے سلام میں مقتدیوں اور فرشتوں کی نیت کرے گا تو انکو ثواب ملے گا۔
ترجمہ: ٢ اور ہمارے زمانے میں عورتوں کی نیت نہ کرے ، اور نہ اسکی نیت جو نماز میں شریک نہیں ہیںصحیح یہی ہے اسلئے کہ خطاب حاضرین کو ہے ۔
تشریح : یہاں دو باتیں کہی ہے ]١[ ایک تو یہ کہ اس زمانے میںسلام کر تے وقت عورتوں کی نیت نہ کرے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ امام نماز میں عورتوں کیطرف دھیان کو متوجہ کرے یہ اچھا نہیں ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں فساد کی وجہ سے عورتوں کو مسجد