٢ ومالا یستحیل سوالہ من العبادکقولہ اللہم زوجنی فلانة یشبہ کلامہم ومایستحیل کقولہ اللہم اغفرلی لیس من کلامہم وقولہ اللہم ارزقنی من قبیل الاول لاستعمالہا فیمابین العبادیقال رزق الامیرُالجیش(٣٠٨)ثم یُسلّم عن یمینہ فیقول السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وعن یسارہ مثل ذٰلک)
١ لماروی ابن مسعود ان النبی ںکان یسلم عن یمینہ حتی یری بیاض خدہ الایمن وعن یسارہ
الصلوة و نسخ الکلام اباحتہ ، ص ٢٠٣، نمبر ٥٣٧ ١١٩٩ ابو داود شریف ، باب النھی عن الکلام فی الصلوة ، ص ١٤٤ ، نمبر ٩٤٩ ترمذی شریف ، باب فی نسخ اکلام فی الصلوة ص ٩٢ ، نمبر ٤٠٥ ) اس حدیث میں ہے کہ کلام کر نا ممنوع ہے اسلئے نماز میںکلام الناس کی دعا کر نے ست نماز فاسد ہو جائے گی اسلئے ایسی دعا نہ کرے ۔
ترجمہ: ٢ انسان سے جس چیز کا مانگنا محال نہیں ہے ۔ جیسے اے اللہ فلاں سے میری شادی کروا دے ۔یہ کلام الناس کے مشابہ ہے ۔ اور جو انسان سے مانگنا محال ہے ۔ جیسے ائے اللہ مجھے معاف کر دے ۔ یہ کلام الناس، نہیں ہے ۔ اور ائے اللہ مجھے روزی دے ۔ اول یعنی کلام الناس کے قبیل سے ہے ، اسلئے کہ یہ جملہ بندوں کے درمیان بھی استعمال ہو تا ہے ، کیونکہ لوگ کہتے ہیں، امیرنے لشکر کو روزی دی ۔
تشریح : یہاں سے یہ قاعدہ بتا رہے ہیں کہ کس قسم کا جملہ کلام الناس ہے او رکس قسم کا جملہ کلام الناس نہیں ہے ۔ فرماتے ہیں کہ جن چیزوں کا سوال انسان سے کیا جا سکتا ہے وہ دعا کلام الناس ہے ۔ مثلا یہ کہے کہ ائے اللہ فلاں سے میری شادی کرا دے ، یہ کلام الناس ہے ، کیونکہ لوگوں سے بھی کہتے ہیں کہ فلاں سے میری شادی کروا دے ۔ اسلئے ایسی دعا نماز میں جائز نہیں ہے ۔ اور جن چیزوں کا انسان سے مانگنا محال ہے وہ دعا کلام الناس نہیںہے ، مثلا یہ کہے کہ ائے اللہ میری مغفرت کر دے ، تو یہ کلام الناس نہیں ہے اسلئے مغفرت اللہ کے علاوہ کسی سے مانگی نہیں جاتی ۔ یہ دعا نمازمیں بھی جائز ہے ۔ اور جو سوال انسان سے بھی کر تے ہیں ، اور عموما اللہ سے کرتے ہیں وہ کلام الناس میں ہی شمار کیا جائے گا ۔ مثلا روزی عموما اللہ سے مانگی جاتی ہے ، لیکن کبھی کبھار انسان کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے تو وہ کلام الناس میں شمار کیا جائے گا ۔
لوگ بولتے ہیں کہ امیر نے لشکر کو روزی دی ۔ اسلئے یہ دعا بھی نماز میں مانگنا اچھا نہیں ہے ۔
اصول: جو چیز انسان سے مانگی جاتی ہے وہ کلام الناس ہے اور جو چیز انسان سے نہیں مانگی جاتی وہ کلام الناس نہیں ہے ۔
ترجمہ: (٣٠٨) پھر سلام کرے دائیں جانب اور کہے السلام علیکم ورحمة اللہ اور سلام کرے بائیں جانب اسی طرح۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود نے روایت کی ہے کہ نبی علیہ السلام دائیں جانب سلام کرتے یہاں تک کہ آپ ۖ کا دائیں گال کی سفیدی دیکھی جاتی ،اور بائیں جانب سلام کرتے یہاں تک کہ بائیں گال کی سفیدی دیکھی جاتی تھی ۔