Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

489 - 627
الیک ٢ ویبدأ بالصلوة علی النبیںلیکون اقرب الی الاجابة (٣٠٧)  ولایدعوبمایشبہ کلام الناس)  ١ تحرز اعن  الفسادولہذا یاتی بالماثور المحفوظ 
 
معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق دعا کرنی چاہئے ، اور دنیاوی دعا نہیں کر نی چاہئے ۔لیکن یہ مسنون ہے واجب نہیں ہے۔ 
ترجمہ:   ٢   دعانبی علیہ السلام پر درود  سے شروع کرے تاکہ قبول ہو نے کے زیادہ قریب ہو۔ 
تشریح :   پہلے گزر چکا ہے کہ پہلے تشھد پڑھے ،پھر درود شریف پڑھے ، پھر اپنے لئے دعا کرے ۔ دعا سے پہلے حضور  ۖ پر درود اسلئے پڑھے تاکہ اسکے صدقے میں دعا قبول ہو جائے ۔اسکی ترتیب کے لئے یہ حدیث ہے ۔  
 وجہ :   انہ سمع فضالة ابن عبید یقول : سمع النبی  ۖ رجلا یدعو فی صلوتہ  فلم یصل علی النبی ۖ فقال النبی  ۖ : عجل ھذا  ، ثم دعاہ ، فقال لہ أو لغیرہ : اذا صلی أحدکم فلیبدأ بتحمیداللہ و الثناء علیہ ، ثم لیصل علی النبی  ۖ ثم لیدع بعد ما شاء ( ترمذی شریف ، باب فی ایجاب الدعاء بتقدیم الحمد و الثناء و الصلوة علی النبی قبلہ ، ص ٧٩٤ ، نمبر ٣٤٧٧ مستدرک للحاکم ، باب التامین ، ج اول ، ص ٤٠١، نمبر ٩٨٩ ) اس حدیث میں ہے کہ تشھد کے بعد درود شریف پڑھے پھر دعا کرے۔  
لغت:  الماثورة  :  جو احادیث میں یا قرآن میں منقول ہوں۔اطیب : طیب سے مشتق ہے ، پاکیزہ ، اعجب : جو اچھا لگے ۔ اجابة : قبول ہو۔
 ترجمہ:   (٣٠٧)  اور وہ دعا نہ کرے جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو۔
ترجمہ:   ١   فساد سے بچنے کے لئے اسلئے وہ دعا پڑھے جو حدیث میں منقول ہے اور محفوظ ہے۔
تشریح:   نماز میں اللہ سے ایسی چیز مانگنا جو عام انسانوں سے مانگی جاتی ہو ایسی دعا نہ کرے ، یا جو دعائیں حدیث میں منقول نہ ہوں ایسی دعا بھی نہیں کر نی چاہئے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ کلام الناس سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ اسلئے ایسی دعا نہ کرے ایسیی دعا کرے جو حدیث میں منقول ہے ۔
وجہ :    عن معاویة بن الحکم السلمی قال : بینا أنا اصلی مع رسول اللہ  ۖ ....قال : ان ھذہ الصلوة لا یصلح  فیھا شیء من کلام الناس ، انما ھو التسبیح و التکبیر و قراء ة القرآن ۔ ( مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ما کان من اباحتہ ، ص ٢٠٣، نمبر ٥٣٧  ١١٩٩)  اس حدیث میں ہے کہ نماز میں کلام الناس نہ کرے ۔ (٢)عن زید ابن ارقم قال : کنا نتکلم فی الصلوة : یکلم الرجل صاحبہ و ھو الی جنبہ فی الصلوة ، حتی نزلت (و قوموا للہ قانتین )آیت ٢٣٨ سورة البقرة ٢ ) فأمرنا بالسکوت ، و نھینا عن الکلام ۔ ( مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter