الیک ٢ ویبدأ بالصلوة علی النبیںلیکون اقرب الی الاجابة (٣٠٧) ولایدعوبمایشبہ کلام الناس) ١ تحرز اعن الفسادولہذا یاتی بالماثور المحفوظ
معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق دعا کرنی چاہئے ، اور دنیاوی دعا نہیں کر نی چاہئے ۔لیکن یہ مسنون ہے واجب نہیں ہے۔
ترجمہ: ٢ دعانبی علیہ السلام پر درود سے شروع کرے تاکہ قبول ہو نے کے زیادہ قریب ہو۔
تشریح : پہلے گزر چکا ہے کہ پہلے تشھد پڑھے ،پھر درود شریف پڑھے ، پھر اپنے لئے دعا کرے ۔ دعا سے پہلے حضور ۖ پر درود اسلئے پڑھے تاکہ اسکے صدقے میں دعا قبول ہو جائے ۔اسکی ترتیب کے لئے یہ حدیث ہے ۔
وجہ : انہ سمع فضالة ابن عبید یقول : سمع النبی ۖ رجلا یدعو فی صلوتہ فلم یصل علی النبی ۖ فقال النبی ۖ : عجل ھذا ، ثم دعاہ ، فقال لہ أو لغیرہ : اذا صلی أحدکم فلیبدأ بتحمیداللہ و الثناء علیہ ، ثم لیصل علی النبی ۖ ثم لیدع بعد ما شاء ( ترمذی شریف ، باب فی ایجاب الدعاء بتقدیم الحمد و الثناء و الصلوة علی النبی قبلہ ، ص ٧٩٤ ، نمبر ٣٤٧٧ مستدرک للحاکم ، باب التامین ، ج اول ، ص ٤٠١، نمبر ٩٨٩ ) اس حدیث میں ہے کہ تشھد کے بعد درود شریف پڑھے پھر دعا کرے۔
لغت: الماثورة : جو احادیث میں یا قرآن میں منقول ہوں۔اطیب : طیب سے مشتق ہے ، پاکیزہ ، اعجب : جو اچھا لگے ۔ اجابة : قبول ہو۔
ترجمہ: (٣٠٧) اور وہ دعا نہ کرے جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو۔
ترجمہ: ١ فساد سے بچنے کے لئے اسلئے وہ دعا پڑھے جو حدیث میں منقول ہے اور محفوظ ہے۔
تشریح: نماز میں اللہ سے ایسی چیز مانگنا جو عام انسانوں سے مانگی جاتی ہو ایسی دعا نہ کرے ، یا جو دعائیں حدیث میں منقول نہ ہوں ایسی دعا بھی نہیں کر نی چاہئے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ کلام الناس سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ اسلئے ایسی دعا نہ کرے ایسیی دعا کرے جو حدیث میں منقول ہے ۔
وجہ : عن معاویة بن الحکم السلمی قال : بینا أنا اصلی مع رسول اللہ ۖ ....قال : ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس ، انما ھو التسبیح و التکبیر و قراء ة القرآن ۔ ( مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ما کان من اباحتہ ، ص ٢٠٣، نمبر ٥٣٧ ١١٩٩) اس حدیث میں ہے کہ نماز میں کلام الناس نہ کرے ۔ (٢)عن زید ابن ارقم قال : کنا نتکلم فی الصلوة : یکلم الرجل صاحبہ و ھو الی جنبہ فی الصلوة ، حتی نزلت (و قوموا للہ قانتین )آیت ٢٣٨ سورة البقرة ٢ ) فأمرنا بالسکوت ، و نھینا عن الکلام ۔ ( مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی