Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

48 - 627
 ٩ والاعتباربالامثال من صنعة الرجال ١٠  وبالوقوف علی الماخذ یعض علیھا بالنواجذ  ١١  وقدجری علیّ الموعدفی مبدأ بدایة المبتدی ان اشرحھا، بتوفیق اللہ تعالی، شرحا ارسمھا بکفایة المنتھی 

تشریح : نامانوس مسائل کو قیاس کر کے استنباط کرنا ،وحشی جانوروں کو گھاٹیوں سے شکار کرنے کی طرح مشکل ہے ۔یہاں نامانوس مسائل کو وحشی جانور سے تشبیہ دی ہے اور اسکو استنباط کرنے کو گھاٹیوں سے شکار کرنے سے تشبیہ دی ہے ۔
لغت: اقتناص:قنص سے مشتق ہے شکار کرنا ۔شوارد : شاردة کی جمع ہے ،وحشی جانور ۔یہاں مراد ہے نامانوس مسائل ۔ اقتباس : قبس سے مشتق ہے آگ کا شعلہ لینا ۔باب افتعال میں جانے کے بعد اسکا ترجمہ ہے علم سے استفادہ کرنا ،کسی اصول پر قیاس کرنا ،اور اس سے نئے مسائل کا استنباط کرنا ۔موارد : ورد سے اسم ظرف ہے آنے کی جگہ ،پانی پینے کا گھاٹ ۔یہاں مراد ہے مسائل کے اصول ۔
ترجمہ:  ٩  اور مثالوں سے اسکا اعتبار کرنا بڑے بڑے مردوں کا کام ہے ۔
تشریح : نیا مسئلہ سامنے آیا ہو اسکو پچھلے مسئلے کے مثل پر قیاس کر کے حکم نافذ کرنا بڑے بڑے مردوں یعنی بڑے بڑے ائمہ کرام کا کام ہے ۔یہ کام اتنا آسان نہیں ہے ۔
لغت :۔  اعتبار : عبرة سے مشتق ہے ۔قیاس کرنا ،اور اعتبار کرنا ۔امثال :مثل کی جمع ہے ۔مثالیں  ۔صنعة : کاریگری ، کام۔رجال : یہاں مراد ہے بڑے قسم کے آدمی ۔
ترجمہ:  ١٠  اوردانتوں سے پکڑے جانے والے ماخذپر واقفیت حاصل کرنا مردوں کا کام ہے ۔
تشریح : شریعت کے ایسے  اصول اور ایسے مآخذ جو اتنے مشکل ہوں جیسے دانتوں سے پکڑنے کے بعد قابو میں رہتے ہوں ان اصولوں پر قابو پانا بڑے بڑے مردوں کا کام ہے ۔عام آدمی کا کام نہیں ۔
لغت :۔ ماخذ : اخذ سے مشتق ہے  پکڑنے کی چیز ۔یہاں شریعت کے اصول مراد ہے ۔یعض : دانت سے کاٹنا ۔نواجذ : ناجذ کی جمع ہے ،داڑھ کا دانت ۔عض بالنواجذ : داڑھ کے دانتوں سے پکڑنا ۔ یہ محاورہ ہے ۔کسی چیز کو سختی سے    پکڑنا ہو تو اس کو دانت سے پکڑتے ہیں اسی طرح کسی مشکل کام کو کرنے کو دانت سے پکڑنا کہا ہے ۔....یہاں ان عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مشکل اصولوں پر واقفیت حاصل کرنا بڑے بڑے ائمہ کا کام ہے اسلئے عام لوگوں کے لئے مجھے اچھی کتاب لکھنی پڑی ۔
ترجمہ:  ١١  کتاب ،بدایة المبتدی ،کے شروع میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں اللہ کی توفیق سے اسکی شرح کرونگا جسکا نام ،کفایة المنتھی ،رکھونگا ۔چنانچہ میں نے اسکو شروع کر دیا ۔اور وعدے میں کچھ گنجائش تو ہوتی ہی ہے ۔پھر جب اس سے فارغ ہونے کے قریب ہواتو مجھے پتہ چلا کہ اس شرح میں کچھ طوالت ہو گئی ہے ۔اور مجھے کھٹکا لگا کہ لمبی شرح کی وجہ سے کتاب (بدایة المبتدی ) ہی نہ چھوڑ دیں ۔پھر دوسری شرح لکھنے کی طرف توجہ کی جسکا نام ،ھدایہ ،ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter