٩ والاعتباربالامثال من صنعة الرجال ١٠ وبالوقوف علی الماخذ یعض علیھا بالنواجذ ١١ وقدجری علیّ الموعدفی مبدأ بدایة المبتدی ان اشرحھا، بتوفیق اللہ تعالی، شرحا ارسمھا بکفایة المنتھی
تشریح : نامانوس مسائل کو قیاس کر کے استنباط کرنا ،وحشی جانوروں کو گھاٹیوں سے شکار کرنے کی طرح مشکل ہے ۔یہاں نامانوس مسائل کو وحشی جانور سے تشبیہ دی ہے اور اسکو استنباط کرنے کو گھاٹیوں سے شکار کرنے سے تشبیہ دی ہے ۔
لغت: اقتناص:قنص سے مشتق ہے شکار کرنا ۔شوارد : شاردة کی جمع ہے ،وحشی جانور ۔یہاں مراد ہے نامانوس مسائل ۔ اقتباس : قبس سے مشتق ہے آگ کا شعلہ لینا ۔باب افتعال میں جانے کے بعد اسکا ترجمہ ہے علم سے استفادہ کرنا ،کسی اصول پر قیاس کرنا ،اور اس سے نئے مسائل کا استنباط کرنا ۔موارد : ورد سے اسم ظرف ہے آنے کی جگہ ،پانی پینے کا گھاٹ ۔یہاں مراد ہے مسائل کے اصول ۔
ترجمہ: ٩ اور مثالوں سے اسکا اعتبار کرنا بڑے بڑے مردوں کا کام ہے ۔
تشریح : نیا مسئلہ سامنے آیا ہو اسکو پچھلے مسئلے کے مثل پر قیاس کر کے حکم نافذ کرنا بڑے بڑے مردوں یعنی بڑے بڑے ائمہ کرام کا کام ہے ۔یہ کام اتنا آسان نہیں ہے ۔
لغت :۔ اعتبار : عبرة سے مشتق ہے ۔قیاس کرنا ،اور اعتبار کرنا ۔امثال :مثل کی جمع ہے ۔مثالیں ۔صنعة : کاریگری ، کام۔رجال : یہاں مراد ہے بڑے قسم کے آدمی ۔
ترجمہ: ١٠ اوردانتوں سے پکڑے جانے والے ماخذپر واقفیت حاصل کرنا مردوں کا کام ہے ۔
تشریح : شریعت کے ایسے اصول اور ایسے مآخذ جو اتنے مشکل ہوں جیسے دانتوں سے پکڑنے کے بعد قابو میں رہتے ہوں ان اصولوں پر قابو پانا بڑے بڑے مردوں کا کام ہے ۔عام آدمی کا کام نہیں ۔
لغت :۔ ماخذ : اخذ سے مشتق ہے پکڑنے کی چیز ۔یہاں شریعت کے اصول مراد ہے ۔یعض : دانت سے کاٹنا ۔نواجذ : ناجذ کی جمع ہے ،داڑھ کا دانت ۔عض بالنواجذ : داڑھ کے دانتوں سے پکڑنا ۔ یہ محاورہ ہے ۔کسی چیز کو سختی سے پکڑنا ہو تو اس کو دانت سے پکڑتے ہیں اسی طرح کسی مشکل کام کو کرنے کو دانت سے پکڑنا کہا ہے ۔....یہاں ان عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مشکل اصولوں پر واقفیت حاصل کرنا بڑے بڑے ائمہ کا کام ہے اسلئے عام لوگوں کے لئے مجھے اچھی کتاب لکھنی پڑی ۔
ترجمہ: ١١ کتاب ،بدایة المبتدی ،کے شروع میں وعدہ کیا گیا تھا کہ میں اللہ کی توفیق سے اسکی شرح کرونگا جسکا نام ،کفایة المنتھی ،رکھونگا ۔چنانچہ میں نے اسکو شروع کر دیا ۔اور وعدے میں کچھ گنجائش تو ہوتی ہی ہے ۔پھر جب اس سے فارغ ہونے کے قریب ہواتو مجھے پتہ چلا کہ اس شرح میں کچھ طوالت ہو گئی ہے ۔اور مجھے کھٹکا لگا کہ لمبی شرح کی وجہ سے کتاب (بدایة المبتدی ) ہی نہ چھوڑ دیں ۔پھر دوسری شرح لکھنے کی طرف توجہ کی جسکا نام ،ھدایہ ،ہے ۔