٤ والفرض المروی فی التشہد ہو التقدیر (٣٠٦) قال ودعا بما یشبہ الفاظ القراٰن والادعیة الماثورة) ١ لما روینا من حدیث ابن مسعود قال لہ النبیں ثم اختر من الدعا اطیبہا واعجبہا
ترجمہ: ٤ اور تشہد کے بارے میں جو فرض کی حدیث روایت کی گئی ہے اسکا معنی تقدیر اور متعین کر نے کے ہیں ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔ انہوں نے حدیث پیش کی تھی ۔ عن ابن مسعود قال : کنا نقول قبل أن یفرض التشہد ، (دار قطنی ، ، نمبر ١٣١٢ سنن بیھقی ،، نمبر ٢٨١٩) اس حدیث میں ہے کہ تشہد فرض ہو نے سے پہلے ہم یہ کہا کرتے تھے ، جسکا یہ مطلب یہ ہوا کہ بعد میں تشہد فرض ہو گیا ۔ اسکا جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث میں فرض کا معنی فرض کے نہیں ہے ، بلکہ تقدیر اور متعین کر نے کے ہے اسلئے اس حدیث سے تشہد فرض نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: (٣٠٦) اور قرآن کے الفاظ کے مشابہ دعا کرے ، اور وہ دعائیں جو حدیث میں منقول ہوں وہ دعا کرے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ عبد اللہ ابن مسعود کی حدیث میں میں نے روایت کی ،کہ ان سے نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر ایسی دعا منتخب کرو جو تمکو پاکیزہ لگے اور اچھی لگے ۔
تشریح: درود کے بعد وہ دعا کرے جوقرآن میں ہو یا احادیث میں منقول ہو۔ کیونکہ حضور ۖ نے حضرت ابن مسعود سے فر مایا تھا کہ تشہد پڑھنے کے بعد اچھی اور پاکیزہ دعا کریں ۔
وجہ: (١)انسانی کلام کی دعا کرے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔اس لئے ایسی دعا نہ کرے جو انسانی کلام کے مشابہ ہو۔ اس حدیث میں اسکا اشارہ ہے ۔عن معاویة بن الحکم السلمی قال : بینا أنا اصلی مع رسول اللہ ۖ ....قال : ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس ، انما ھو التسبیح و التکبیر و قراء ة القرآن ۔ ( مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ما کان من اباحتہ ، ص ٢٠٣، نمبر ٥٣٧ ١١٩٩) اس حدیث میں ہے کہ نماز میں کلام الناس نہ کرے ۔ (٢) صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عبد اللہ قال اذا کنا مع النبی ۖ فی الصلوة ... ثم لیتخیر من الدعاء اعجبہ الیہ فیدعو۔ (بخاری شریف ، باب ما یتخیر من الدعاء بعد التشھد ولیس بواجب ص ١١٥ نمبر ٨٣٥ ابو داؤد شریف ، باب التشھد ص ١٤٦ نمبر ٩٦٨) (٣)عن عائشة زوج النبی ۖ اخبرتہ ان رسول اللہ ۖ کان یدعو فی الصلوة اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر ، الخ ۔(بخاری شریف ، باب الدعاء قبل السلام ص ١١٥ نمبر ٨٣٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام سے پہلے حدیث میں منقول دعا ئیں کرنی چاہئے۔(٤) عن ابراھیم قال : کان یستحب أن یدعو فی المکتوبة بدعاء القرآن ۔(٥)عن محمد قال : کان یکرہ أن یدعو فی الصلوة بشیء من أمر الدنیا ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ٧٣، من کان یستحب أن یدعو فی الفریضة بما فی القرآن ، ج اول ، ص ٢٦٥ ، نمبر ٣٠٣٤، نمبر ٣٠٣٩) اس اثر سے