Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

488 - 627
٤ والفرض المروی فی التشہد ہو التقدیر (٣٠٦)  قال  ودعا بما یشبہ الفاظ القراٰن والادعیة الماثورة)   ١ لما روینا من حدیث  ابن مسعود قال لہ النبیں ثم اختر من الدعا اطیبہا واعجبہا 

ترجمہ:   ٤   اور تشہد کے بارے میں جو فرض کی حدیث روایت کی گئی ہے اسکا معنی تقدیر اور متعین کر نے کے ہیں ۔ 
تشریح :   یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔  انہوں نے حدیث پیش کی تھی ۔  عن ابن مسعود قال : کنا نقول قبل أن یفرض التشہد ،  (دار قطنی ،  ، نمبر ١٣١٢ سنن بیھقی ،، نمبر ٢٨١٩) اس حدیث میں ہے کہ تشہد فرض ہو نے سے پہلے ہم یہ کہا کرتے تھے ، جسکا یہ مطلب یہ ہوا کہ بعد میں تشہد فرض ہو گیا ۔ اسکا جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث میں فرض کا معنی فرض کے نہیں ہے ، بلکہ تقدیر اور متعین کر نے کے ہے اسلئے اس حدیث سے تشہد فرض نہیں ہو گا ۔   
ترجمہ:   (٣٠٦)  اور قرآن کے الفاظ کے مشابہ دعا کرے ، اور وہ دعائیں جو حدیث میں منقول ہوں وہ دعا کرے ۔ 
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ عبد اللہ ابن مسعود  کی حدیث میں میں نے روایت کی ،کہ ان سے نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر ایسی دعا منتخب کرو جو تمکو پاکیزہ لگے اور اچھی لگے ۔
تشریح:  درود کے بعد وہ دعا کرے جوقرآن میں ہو یا احادیث میں منقول ہو۔ کیونکہ حضور ۖ نے حضرت ابن مسعود  سے فر مایا تھا کہ تشہد پڑھنے کے بعد اچھی اور پاکیزہ دعا کریں ۔ 
وجہ:  (١)انسانی کلام کی دعا کرے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔اس لئے ایسی دعا نہ کرے جو انسانی کلام کے مشابہ ہو۔ اس حدیث میں اسکا اشارہ ہے ۔عن معاویة بن الحکم السلمی قال : بینا أنا اصلی مع رسول اللہ  ۖ ....قال : ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس ، انما ھو التسبیح و التکبیر و قراء ة القرآن ۔ ( مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ما کان من اباحتہ ، ص ٢٠٣، نمبر ٥٣٧  ١١٩٩) اس حدیث میں  ہے کہ نماز میں کلام الناس نہ کرے ۔ (٢)  صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔  عن عبد اللہ قال اذا کنا مع النبی ۖ فی الصلوة ... ثم لیتخیر من الدعاء اعجبہ الیہ فیدعو۔ (بخاری شریف ، باب ما یتخیر من الدعاء بعد التشھد ولیس بواجب ص ١١٥ نمبر ٨٣٥ ابو داؤد شریف ، باب التشھد ص ١٤٦ نمبر ٩٦٨) (٣)عن عائشة زوج النبی ۖ اخبرتہ ان رسول اللہ ۖ کان یدعو فی الصلوة اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر ،  الخ ۔(بخاری شریف ، باب الدعاء قبل السلام ص ١١٥ نمبر ٨٣٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام سے پہلے حدیث میں منقول دعا ئیں کرنی چاہئے۔(٤)  عن ابراھیم قال : کان یستحب أن یدعو فی المکتوبة بدعاء القرآن ۔(٥)عن محمد قال : کان یکرہ أن یدعو فی الصلوة بشیء من أمر الدنیا ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ٧٣، من کان یستحب أن یدعو فی الفریضة بما فی القرآن ، ج اول ، ص ٢٦٥ ، نمبر ٣٠٣٤، نمبر ٣٠٣٩) اس اثر سے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter