٢ لقولہ ں:اذا قلت ہٰذا اوفعلت فقد تمت صلاتک ان شئت ان تقوم فقم وان شئت ان تقعد فاقعد٣ والصلوة علی النبی ںخارج الصلوة واجبة اما مرة واحدة کما قالہ الکرخی اوکلما ذکر النبیںکما اختارہ الطحاوی فکفینا مؤنة الامر
پر لے جاتے ہیں ۔
ترجمہ: ٢ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ جب تشھد کو کہہ دو ، یا کر لو تو تمہاری نماز پوری ہو گئی ، اب کھڑا ہو نا چاہو تو کھڑے ہو جائو ، اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جائو
تشریح : یہ امام ابو حنیفہ کی دلیل ہے کہ حدیث میں ہے تشہد پڑھ لو یا تشہد کی مقدار بیٹھ جائو تو نماز پوری ہو گئی ۔ اور پہلے یہ گزر چکا ہے کہ کہ اس حدیث سے تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض ہے اسلئے تشہد پڑھنا فرض نہیں ہو گا اور نہ درود شریف پڑھنا فرض ہو گا ۔ (١)صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ وان رسول اللہ ۖ اخذ بید عبد اللہ بن مسعود فعلمہ التشھد فی الصلوة فذکر مثل دعاء حدیث الاعمش اذا قلت ھذا اوقضیت ھذا فقد قضیت صلوتک ان شئت ان تقوم فقم وان شئت ان تقعد فاقعد ۔(ابوداؤد شریف ، باب التشہد ص ١٤٦ نمبر ٩٧٠)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض ہے اسلئے نہ تشہد پڑھنا فرض ہو گا اور نہ درود شریف پڑھنا فرض ہو گا ۔ (٢) اثر میں ہے کہ تشہد ہی میں درود آگیا اسلئے الگ سے درود شریف پڑھنا فرض نہیں ہو گا بلکہ سنت کی ادائیگی ہو گئی ۔ اثر یہ ہے ۔ عن ابراھیم قال : یجزیک التشھد من الصلوة علی النبی ۖ ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب القول بعد التشھد ، ج ثانی ، ص ٢٠٨ ، نمبر ٣٠٨٥) اس اثر میں ہے کہ تشھد میں درود آگیا ، اسلئے الگ سے درود شریف پڑھنا سنت ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ اور نبی علیہ السلام پر درود نماز سے باہر واجب ہے ، یا ایک مرتبہ واجب ہے جیسا کہ امام کرخی نے فرمایا ، یا جب جب نبی علیہ السلام کا ذکر ہو ، جیسا کہ امام طحاوی نے اختیار کیا ،اسلئے آیت میں صیغہ امر کی بات ہمیں کافی ہو گئی ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔ انہوں نے استدلال کیا تھا کہ آیت میں صلو امر کا صیغہ ہے جسکی وجہ سے نماز میں درود شریف پڑھنا فرض ہو گا ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ نماز میں درود پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ آیت کی بنا پر زندگی میں ایک مرتبہ حضور پر درود شریف پڑھنا فرض ہے ۔ حضرت امام کرخی نے یہی فرمایا ، اسلئے ہر نماز میں پڑھنا فرض نہیں ہو گا بلکہ سنت ہو گی ۔ ۔ اور امام طحاوی نے فرمایا کہ جب جب حضور ۖ کا نام آئے تو درود شریف پڑھے ۔ آیت میں ٫صیغہ امر ، کا تقاضا اتنا ہی ہے اسلئے نماز میں اسکی فرضیت ثابت نہیں ہو تی ۔
٫تکفینا موء نة الامر ، کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ایک مرتبہ حضور ۖ پر درود پڑھ لے تو امر کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے۔