Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

487 - 627
٢ لقولہ ں:اذا قلت ہٰذا اوفعلت فقد تمت صلاتک ان شئت ان تقوم فقم وان شئت ان تقعد فاقعد٣ والصلوة علی النبی ںخارج الصلوة واجبة اما مرة واحدة کما قالہ الکرخی اوکلما ذکر النبیںکما اختارہ الطحاوی فکفینا مؤنة الامر

پر لے جاتے ہیں ۔ 
ترجمہ:   ٢    حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ جب تشھد کو کہہ دو ، یا کر لو تو تمہاری نماز پوری ہو گئی ، اب کھڑا ہو نا چاہو تو کھڑے ہو جائو ، اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جائو 
تشریح :   یہ امام ابو حنیفہ  کی دلیل ہے کہ حدیث میں ہے تشہد پڑھ لو یا تشہد کی مقدار بیٹھ جائو تو نماز پوری ہو گئی ۔ اور پہلے یہ گزر چکا ہے کہ  کہ اس حدیث سے تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض ہے اسلئے تشہد پڑھنا فرض نہیں ہو گا اور نہ درود شریف پڑھنا فرض ہو گا ۔ (١)صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ وان رسول اللہ ۖ اخذ بید عبد اللہ بن مسعود فعلمہ التشھد فی الصلوة فذکر مثل دعاء حدیث الاعمش اذا قلت ھذا اوقضیت ھذا فقد قضیت صلوتک ان شئت ان تقوم فقم وان شئت ان تقعد فاقعد ۔(ابوداؤد شریف ، باب التشہد ص ١٤٦ نمبر ٩٧٠)اس حدیث سے معلوم  ہوا کہ تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض ہے اسلئے نہ تشہد پڑھنا فرض ہو گا اور نہ درود شریف پڑھنا فرض ہو گا ۔ (٢) اثر میں  ہے کہ تشہد ہی میں درود آگیا اسلئے الگ سے درود شریف پڑھنا فرض نہیں ہو گا بلکہ سنت کی ادائیگی ہو گئی ۔ اثر یہ ہے ۔ عن ابراھیم قال : یجزیک التشھد من الصلوة علی النبی  ۖ ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب القول بعد التشھد ، ج ثانی ، ص ٢٠٨ ، نمبر ٣٠٨٥)  اس اثر میں ہے کہ تشھد میں درود آگیا ، اسلئے الگ سے درود شریف پڑھنا سنت ہو گا ۔ 
ترجمہ:   ٣   اور نبی علیہ السلام پر درود نماز سے باہر واجب ہے ، یا ایک مرتبہ واجب ہے جیسا کہ امام کرخی  نے فرمایا ، یا جب جب نبی  علیہ السلام کا ذکر ہو ، جیسا کہ امام طحاوی  نے اختیار کیا ،اسلئے آیت میں صیغہ امر کی بات ہمیں کافی ہو گئی ۔  
تشریح :   یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔ انہوں نے استدلال کیا تھا کہ آیت میں صلو امر کا صیغہ ہے جسکی وجہ سے نماز میں درود شریف  پڑھنا فرض ہو گا ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ نماز میں درود پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ آیت کی بنا پر زندگی میں ایک مرتبہ حضور پر درود شریف پڑھنا فرض ہے ۔ حضرت امام کرخی  نے یہی فرمایا ، اسلئے ہر نماز میں پڑھنا فرض نہیں ہو گا بلکہ سنت ہو گی ۔ ۔ اور امام طحاوی  نے فرمایا کہ جب جب حضور ۖ کا نام آئے تو درود شریف پڑھے ۔ آیت میں  ٫صیغہ امر ، کا تقاضا اتنا ہی ہے اسلئے نماز میں اسکی فرضیت ثابت نہیں ہو تی ۔
٫تکفینا موء نة الامر ، کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ایک مرتبہ حضور ۖ پر درود پڑھ لے تو امر کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter