١ وہو لیس بفریضة عندنا خلافا للشافعی فیہما
۔(٣) انہ سمع فضالة ابن عبید یقول : سمع النبی ۖ رجلا یدعو فی صلوتہ فلم یصل علی النبی ۖ فقال النبی ۖ : عجل ھذا ، ثم دعاہ ، فقال لہ أو لغیرہ : اذا صلی أحدکم فلیبدأ بتحمیداللہ و الثناء علیہ ، ثم لیصل علی النبی ۖ ثم لیدع بعد ما شاء ۔ ( ترمذی شریف ، باب فی ایجاب الدعاء بتقدیم الحمد و الثناء و الصلوة علی النبی قبلہ ، ص ٧٩٤ ، نمبر ٣٤٧٧ ) اس حدیث میں ہے کہ تشھد کے بعد درود شریف پڑھے
ترجمہ: ١ ہمارے نزدیک نماز میںدرود شریف واجب نہیں ہے ۔ خلاف امام شافعی کے تشھد اور درود شریف دونوں کے بارے میں۔
تشریح: ہمارے نزدیک نماز میں درود شریف پڑھنا فرض نہیں ہے ۔ اسکے برخلاف امام شافعی کے نزدیک درود شریف بھی فرض ہے اور تشہد پڑھنا بھی فرض ہے ۔
وجہ : (١) اما شافعی کے یہاں تشھد فرض ہو نے دلیل وہ ساری حدیثیں ہیں جن میں اوپر تشہد پڑھنے کی تاکید گزری ، جنکی بنا پر حنفیہ کے نزدیک تشھد واجب ہوا (٢)اثر میں ہے۔ عن عمر بن الخطاب قال : لا تجوز الصلوة الا بتشھد ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی التشھد ، ج ثانی ، ص ٢٠٦، نمبر ٣٠٨٠) اس اثر میں ہے کہ بغیر تشہد کے نماز ہی نہیں ہو گی اسلئے تشھد فرض ہو گا ۔(٣) عن ابن مسعود قال : کنا نقول قبل أن یفرض التشہد ، السلام علی اللہ ، السلام علی جبرئیل و میکائیل الخ ۔ (دار قطنی ، باب صفة التشھد و وجوبہ ، ج اول ، ص ٣٤٣ ، نمبر ١٣١٢ سنن بیھقی ، باب مبدأ فرض التشھد ، ج ثانی ، ص ١٩٨، نمبر ٢٨١٩) اس حدیث میں ہے کہ تشھد کے فرض ہو نے سے پہلے یہ کہتے تھے ، اسکا مطلب یہ نکلا کہ بعد میں تشھد فرض ہو گیا ۔ ان دلائل کی وجہ سے امام شافعی کے نزدیک تشھد فرض ہے ۔
اور درود شریف فرض ہو نے کی دلیل یہ ہے ۔ (١) ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما (ّیت ٥٦ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت میں صلوا ، اور سلموا ، امر کے صیغے ہیں اسلئے نماز میں تشھد بھی فرض ہو گا اور درود شریف بھی فرض ہو گا (٢) عن سہل بن سعد ان النبی ۖ قال لا صلوة لمن یصل علی نبیہ ۖ ۔ (دار قطنی ، باب ذکر وجوب الصلوة علی النبی فی التشھد ص ٣٤٧ نمبر ١٣٢٧) اس حدیث میں ہے کہ بغیر درود کے نماز ہی نہیں ہو گی ، اسلئے درود شریف فرض ہے ۔ (٣) اوپر جتنی حدیثیں سنت کے لئے گزریں ان سب سے امام شافعی فرض پر استدلال کر تے ہیں ۔ ۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کے یہاںفرض اور سنت کے درمیان واجب کا درجہ نہیں ہے اسلئے احادیث میں تاکید آتی ہے تو وہ سیدھے فرض پر لے جاتے ہیں ، واجب پر نہیں لاتے ۔ اور امام ابو حنیفہ کے یہاں واجب کا درجہ ہے اسلئے کم تاکید ہو تو وہ واجب