Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

486 - 627
  ١ وہو لیس بفریضة عندنا خلافا للشافعی فیہما
 
۔(٣) انہ سمع فضالة ابن عبید یقول : سمع النبی  ۖ رجلا یدعو فی صلوتہ  فلم یصل علی النبی ۖ فقال النبی  ۖ : عجل ھذا  ، ثم دعاہ ، فقال لہ أو لغیرہ : اذا صلی أحدکم فلیبدأ بتحمیداللہ و الثناء علیہ ، ثم لیصل علی النبی  ۖ ثم لیدع بعد ما شاء ۔ ( ترمذی شریف ، باب فی ایجاب الدعاء بتقدیم الحمد و الثناء و الصلوة علی النبی قبلہ ، ص ٧٩٤ ، نمبر ٣٤٧٧ ) اس حدیث میں ہے کہ تشھد کے بعد درود شریف پڑھے 
ترجمہ:   ١    ہمارے نزدیک نماز میںدرود شریف واجب نہیں ہے ۔ خلاف امام شافعی  کے تشھد اور درود شریف دونوں کے بارے میں۔ 
تشریح:   ہمارے نزدیک نماز میں درود شریف پڑھنا فرض نہیں ہے ۔ اسکے برخلاف امام شافعی  کے نزدیک درود شریف بھی فرض ہے اور تشہد پڑھنا بھی فرض ہے ۔
وجہ :   (١)  اما شافعی  کے یہاں تشھد فرض ہو نے دلیل وہ ساری حدیثیں ہیں جن میں اوپر تشہد پڑھنے کی تاکید گزری ، جنکی بنا پر حنفیہ کے نزدیک تشھد واجب ہوا  (٢)اثر میں ہے۔ عن عمر بن الخطاب قال : لا تجوز الصلوة الا بتشھد ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی التشھد ، ج ثانی ، ص ٢٠٦، نمبر ٣٠٨٠) اس اثر میں ہے کہ بغیر تشہد کے نماز ہی نہیں ہو گی اسلئے تشھد فرض ہو گا ۔(٣) عن ابن مسعود قال : کنا نقول قبل أن یفرض التشہد ، السلام علی اللہ ، السلام علی جبرئیل و میکائیل  الخ ۔ (دار قطنی ، باب صفة التشھد و وجوبہ ، ج اول ، ص ٣٤٣ ، نمبر ١٣١٢ سنن بیھقی ، باب مبدأ فرض التشھد ، ج ثانی ، ص ١٩٨، نمبر ٢٨١٩) اس حدیث میں ہے کہ تشھد کے فرض ہو نے سے پہلے یہ کہتے تھے ، اسکا مطلب یہ نکلا کہ بعد میں تشھد فرض ہو گیا ۔ ان دلائل کی وجہ سے امام شافعی  کے نزدیک تشھد فرض ہے ۔ 
اور درود شریف فرض ہو نے کی دلیل یہ ہے ۔ (١)  ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما (ّیت ٥٦ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت میں صلوا  ، اور سلموا ، امر کے صیغے ہیں  اسلئے نماز میں تشھد بھی فرض ہو گا اور درود شریف بھی فرض ہو گا (٢)  عن سہل بن سعد ان النبی ۖ قال لا صلوة لمن یصل علی نبیہ ۖ ۔ (دار قطنی ، باب ذکر وجوب الصلوة علی النبی فی التشھد ص ٣٤٧ نمبر ١٣٢٧) اس حدیث میں ہے کہ بغیر درود کے نماز ہی نہیں ہو گی ، اسلئے درود شریف فرض ہے ۔ (٣) اوپر جتنی حدیثیں سنت کے لئے گزریں ان سب سے امام شافعی  فرض پر استدلال کر تے ہیں ۔ ۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ حضرت امام شافعی  کے یہاںفرض اور سنت کے درمیان واجب کا درجہ نہیں ہے اسلئے  احادیث میں تاکید آتی ہے تو وہ سیدھے فرض پر لے جاتے ہیں ، واجب پر نہیں لاتے ۔ اور امام ابو حنیفہ  کے یہاں واجب کا درجہ ہے اسلئے کم تاکید ہو تو وہ واجب 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter