١ وہو واجب عندنا (٣٠٥) وصلی علی النبی ں)
ترجمہ: ١ اور یہ ہمارے نزدیک واجب ہے ۔
تشریح : قاعدہ آخیرہ میں بیٹھنا یہ تو فرض ہے ، لیکن اس میں تشہد پڑھنا ہمارے نزدیک واجب ہے ۔
وجہ: (١) واجب ہو نے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے حضورۖ نے فرمایا تھا کہ اس تشھد کو کہو ٫فلیقل ، جو امر کا صیغہ ہے اور امر کے صیغہ سے وجوب ثابت ہو تا ہے اسلئے تشہد پڑھنا واجب ہو گا قال عبد اللہ بن مسعود کنا اذا صلینا خلف النبی ۖ فقال ان اللہ ھو السلام فاذا صلی احدکم فلیقل التحیات للہ ، ۔ (بخاری شریف ، باب التشہد فی الآخرة ص ١١٥ نمبر ٨٣١ مسلم شریف ، نمبر ٤٠٢ ٨٩٧ ابو داود شریف ، باب التشھد ، ص ١٤٧، نمبر ٩٦٨) اس حدیث میں ٫ فلیقل، امر کا صیغہ ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے (٢)حدیث میں ہے کہ تشہد کہہ لو گے تو نماز ہو جائے گی جس سے معلوم ہوا کہ تشہد واجب ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔ وان رسول اللہ ۖ اخذ بید عبد اللہ بن مسعود فعلمہ التشھد فی الصلوة فذکر مثل دعاء حدیث الاعمش اذا قلت ھذا اوقضیت ھذا فقد قضیت صلوتک ان شئت ان تقوم فقم وان شئت ان تقعد فاقعد ۔(ابو داؤد شریف ، باب التشہد ص ١٤٦ نمبر ٩٧٠)اس حدیث میں ہے کہ تشہد کہہ لو گے تو نماز پوری ہو جائے گی ۔ جس سے معلوم ہوا کہ واجب ہے ۔ (٣) آیت میں اسکا اشارہ ہے کہ تشہد پڑھنا چاہئے کیونکہ اس میںحضور ۖ پر سلام ہے ۔ آیت یہ ہے ۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما (ّیت ٥٦ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت میں سلموا تسلیما ،سے تشہد پڑھنے کی طرف اشارہ ہے اسلئے کہ تشہد میں سلام ہو تا ہے ۔(٤) اثر میں ہے۔ عن عمر بن الخطاب قال : لا تجوز الصلوة الا بتشھد ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی التشھد ، ج ثانی ، ص ٢٠٦، نمبر ٣٠٨٠) اس اثر میں ہے کہ بغیر تشہد کے نماز ہی نہیں ہو گی اسلئے تشھد واجب ہو گا ۔
ترجمہ: (٣٠٥) اور حضورۖ پر درود شریف پڑھے۔
تشریح: قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد حضورۖ پر درود شریف پڑھے ۔درود پڑھنا سنت ہے اس کو پڑھنا چاہئے لیکن اگر نہیں پڑھے گا تب بھی سجدۂ سہو لازم نہیں ہوگا ۔
وجہ: نماز میں درود سنت ہونے کی دلیل یہ آیت ہے ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما (ّیت ٥٦ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت سے زندگی میں ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے اور نماز میں پڑھنا سنت ہے(٢) حدیث میں ہے عن کعب بن عجرة .۔۔۔۔.. فقلنا قد عرفنا کیف نسلم علیک فکیف نصلی علیک؟ قال قولوا اللھم صلی علی محمد الخ ۔ (مسلم شریف ، باب الصلوة علی النبی بعد التشہدص ١٧٥ نمبر ٤٠٦ ابو داؤد شریف ، باب الصلوہ علی النبی بعد التشہد ص ١٤٧ نمبر ٩٧٦)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کے بعد حضورۖ پر درود پڑھنا چاہئے