٢ ولانہا اشق علی البدن فکان اولیٰ من التورک الذی یمیل الیہ مالک٣ والذی یروی انہ علیہ السلام قعد متورکًا ضعفہ الطحاوی، اویحمل علیٰ حالة الکبر (٣٠٤) ویتشہد)
ترجمہ: ٢ اور اسلئے کہ یہ بیٹھنا بدن پر بھاری ہے اسلئے یہ تورک سے زیادہ اولی ہو گا ، جسکی طرف حضرت مالک مائل ہو ئے ہیں ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ بائیں پائوں بچھا کر اس پر بیٹھے اور دائیں پائوںکھڑا رکھے اس میں تورک کی بنسبت مشقت زیادہ ہے اور نماز مشقت ہی کے لئے ہے کہ جتنی مشقت ہو گی اتنا ثواب زیادہ ہو گا اس لئے یہ بیٹھنا اولی ہو گا ، اور امام مالک نے جو تورک اختیار کیا وہ اولی نہیں ہو گا ، تورک کا مطلب یہ ہے کہ دونوں پائوں دائیں جانب ڈال دے اور بائیں سرین پر بیٹھ جائے ۔
ترجمہ: ٣ اور وہ جو روایت کی ہے کہ حضور ۖمتورک بیٹھے تھے ، حضرت امام طحاوی نے اسکو کمزور قرار دیا ہے ، یا بڑھاپے کی حالت پر محمول کیا جائے گا ۔
تشریح: حضور ۖ تورک بیٹھے تھے ، حدیث یہ ہے (١) فقال ابو حمید الساعدی....واذا جلس فی الرکعة الآخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدتہ ۔ (بخاری شریف،باب سنة الجلوس فی التشہد ص ١٤نمبر ٨٢٨ )(٢)حتی اذا کانت السجدة التی فیھا التسلیم اخر رجلہ الیسری وقعد متورکا علی شقہ الایسر ( ابو داؤد شریف ، باب من ذکر التورک فی الرابعة ص ١٤٥ نمبر ٩٦٣ مسلم شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة وکیفیة وضع الیدین علی الفخذین (٢١٦ نمبر ١٣٠٧٥٧٩) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ امام مالک کے یہاں قعدۂ اخیرہ میں تورک مسنون ہے۔۔ ہم اسکا دو جواب دیتے ہیں ]١[ ایک یہ کہ امام طحاوی نے اس حدیث کو کمزور قرار دیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ محمد ابن عمر اس میں غیر معروف ہے ، اور دوسری بات یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو حمید ساعدی کی اصل حدیث میں تورک کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ اضجع رجلہ الیسری و نصب الیمنی علی صدور قدمیہ کا لفظ ہے ، جس سے ہماری تائید ہو تی ہے ۔ طحاوی کی عبارت یہ ہے ۔ فاذا قعد للتشھد اضجع رجلہ الیسری و نصب الیمنی علی صدور قدمیہ و یتشھد ۔فھذا اصل حدیث ابی حمید ، ھذا لیس فیہ ذکر القعود الا علی مثل ما فی حدیث وائل ۔ و الذی رواہ محمد بن عمرو فغیر معروف ، و لا متصل عندنا ۔ ( طحاوی شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة کیف ھو ، ج اول ، ص ١٨٥) اس عبارت میں ہے کہ محمد ابن عمرو غیر معروف ہے ۔ اسلئے حد یث کمزور ہے ۔ اور اصل حدیث میں یہ ہے کہ بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھے اور دائیں کو کھڑا رکھے ۔ ]٢[ دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ ۖ نے بڑھاپے میں ایسا کیا ہے جو مجبوری کی وجہ سے ہے ورنہ اصل تو نصب الیمنی ہی ہے ۔
ترجمہ: (٣٠٤) اور تشھد پڑھے ۔