Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

484 - 627
٢ ولانہا اشق علی البدن فکان اولیٰ من التورک الذی یمیل الیہ  مالک٣  والذی یروی انہ علیہ السلام قعد متورکًا ضعفہ الطحاوی،  اویحمل علیٰ حالة الکبر (٣٠٤) ویتشہد) 

ترجمہ:   ٢   اور اسلئے کہ یہ بیٹھنا بدن پر بھاری ہے اسلئے یہ تورک سے زیادہ اولی ہو گا ، جسکی طرف حضرت مالک  مائل ہو ئے ہیں ۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے کہ بائیں پائوں بچھا کر اس پر بیٹھے اور دائیں پائوںکھڑا رکھے اس میں تورک کی بنسبت مشقت زیادہ ہے اور  نماز مشقت ہی کے لئے ہے کہ جتنی مشقت ہو گی اتنا ثواب زیادہ ہو گا اس لئے یہ بیٹھنا اولی ہو گا ، اور امام مالک  نے جو تورک اختیار کیا وہ اولی نہیں ہو گا ، تورک کا مطلب یہ ہے کہ دونوں پائوں دائیں جانب ڈال دے اور بائیں سرین پر بیٹھ جائے ۔
ترجمہ:  ٣   اور وہ جو روایت کی ہے کہ حضور ۖمتورک بیٹھے تھے ، حضرت امام طحاوی  نے اسکو کمزور قرار دیا ہے ، یا بڑھاپے کی حالت پر محمول کیا جائے گا ۔
تشریح:  حضور ۖ تورک بیٹھے تھے ، حدیث یہ ہے (١)   فقال ابو حمید الساعدی....واذا جلس فی الرکعة الآخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدتہ ۔ (بخاری شریف،باب سنة الجلوس فی التشہد ص ١٤نمبر ٨٢٨ )(٢)حتی اذا کانت السجدة التی فیھا التسلیم اخر رجلہ الیسری وقعد متورکا علی شقہ الایسر (  ابو داؤد شریف ، باب من ذکر التورک فی الرابعة ص ١٤٥ نمبر ٩٦٣  مسلم شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة وکیفیة وضع الیدین علی الفخذین (٢١٦ نمبر ١٣٠٧٥٧٩) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ امام مالک  کے یہاں قعدۂ اخیرہ میں تورک مسنون ہے۔۔ ہم اسکا دو جواب دیتے ہیں  ]١[ ایک یہ کہ امام طحاوی  نے اس حدیث کو کمزور قرار دیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ محمد ابن عمر اس میں غیر معروف ہے ، اور دوسری بات یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو حمید ساعدی کی اصل حدیث میں تورک کا تذکرہ نہیں  ہے بلکہ اضجع رجلہ الیسری و نصب الیمنی علی صدور قدمیہ کا لفظ ہے ، جس سے ہماری تائید ہو تی ہے ۔ طحاوی کی عبارت یہ ہے ۔ فاذا قعد للتشھد  اضجع رجلہ الیسری و نصب الیمنی علی صدور قدمیہ و یتشھد ۔فھذا اصل حدیث ابی حمید  ، ھذا لیس فیہ ذکر القعود الا علی مثل ما فی حدیث وائل ۔ و الذی رواہ محمد بن  عمرو فغیر معروف ، و لا متصل عندنا ۔ ( طحاوی شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة کیف ھو ، ج اول ، ص ١٨٥)  اس  عبارت میں ہے کہ محمد ابن عمرو غیر معروف ہے ۔ اسلئے حد یث کمزور ہے ۔ اور اصل حدیث میں یہ ہے کہ  بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھے اور دائیں کو کھڑا رکھے ۔ ]٢[ دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ ۖ نے بڑھاپے میں ایسا کیا ہے جو مجبوری کی وجہ سے ہے ورنہ اصل تو نصب الیمنی ہی ہے ۔  
 ترجمہ:   (٣٠٤)   اور تشھد پڑھے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter