٢ وہذا بیان الافضل ہوالصحیح لان القراء ة فرض فی الرکعتین علی مایاتیک من بعدان شاء اللّٰہ (٣٠٣)وجلس فی الاخیرةکماجلس فی الاولیٰ) ١ لماروینامن حدیث وائل وعائشة
پڑھے تو بہتر ہے ۔
ترجمہ: ٢ یہ افضل کا بیان ہے ، صحیح یہی ہے ، اسلئے کہ قرأت پہلی دو رکعتوں میں فرض ہے ۔۔اسکی بحث انشاء اللہ آگے آئے گی۔
تشریح : فرض کی دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا افضل ہے صحیح روایت یہی ہے ، چنانچہ اگر کسی نے سورہ فاتحہ چھوڑ دی تو سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا ۔عن علی و عبد اللہ أنھما قالا : اقرأ فی الاولیین و سبح فی الاخریین ۔ (مصنف ابن شیبة ، نمبر ٣٧٤٢)
وجہ : اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلی ہی دو رکعتوں میں قرأت فرض ہے ، دوسری دو رکعتوں میں فرض نہیں ہے اور نہ واجب ہے ، اسکی بحث آگے آئے گی۔ حضرت حسن ابن زیاد نے حضرت امام ابو حنیفہ سے دوسری روایت کی ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں بھی قرأت کر نا واجب ہے ۔
ترجمہ: (٣٠٣) آخری قعدہ میں ایسے ہی بیٹھے جیسے پہلے قعدہ میںبیٹھے تھے ۔
تشریح قعدۂ اولی میں بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتے ہیں اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے ہیں اسی طرح قعدۂ اخیرہ میں بھی بیٹھے گا۔تورک نہیں کرے گا۔
ترجمہ: ١ کیونکہ حضرت وائل بن حجر اور حضرت عائشہ سے میں نے روایت پیش کی ہے ۔ (١)حدیث یہ ہے ۔فقال ابو حمید الساعدی.... فاذا جلس فی الرکعتین جلس علی رجلہ الیسری و نصب الیمنی واذا جلس فی الرکعة الآخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدتہ ۔ (بخاری شریف،باب سنة الجلوس فی التشہد ص ١٤نمبر ٨٢٨ مسلم شریف ، باب ما یجمع صفة الصلوة وما یفتتح بہ ص ١٩٤ نمبر ١١١٠٤٩٨) مسلم شریف میں یہ حدیث حضرت عائشہ سے منقول ہے (٢) عن وائل بن حجر قال قدمت المدینة قلت لانظرن الی صلوة رسول اللہ ۖ فلما جلس یعنی للتشھد افترش رجلہ الیسری ووضع یدہ الیسری یعنی علی فخذہ الیسری ونصب رجلہ الیمنی ۔ (ترمذی شریف ، باب کیف الجلوس فی التشہد ص ٦٥ نمبر ٢٩٢) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں دائیں پاؤں کو کھڑا رکھنا چاہئے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھنا چاہئے۔