(٣٠٢) ویقرأ فی الرکعتین الاخریین بفاتحة الکتاب وحدہا) ١ لحدیث ابی قتادة ان النبی علیہ السلام قرأ فی الاخریین بفاتحة الکتاب
٩٧٦)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کے بعد حضورۖ پر درود پڑھنا چاہئے (٣) عن سہل بن سعد ان النبی ۖ قال لا صلوة لمن یصل علی نبیہ ۖ ۔ (دار قطنی ، باب ذکر وجوب الصلوة علی النبی فی التشھد ص ٣٤٧ نمبر ١٣٢٧) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ حضورۖ پر درود پڑھنا چاہئے ۔اسلئے امام شافعی کے نزدیک پہلے تشھد کے بعد بھی درود شریف پڑھنا واجب ہے ۔
ترجمہ:(٣٠٢) اور دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھے گا خاص طور پر۔
ترجمہ: ١ حضرت ابو قتادہ کی حدیث کی وجہ سے ، کہ نبی علیہ السلام دوسری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے ۔
تشریح : ظہر اور عصر کی دوسری دو رکعتوں میں قرأت فرض نہیں ہے اس لئے سورۂ فاتحہ پڑھے تو یہ بہتر ہے۔ اور تسبیح پڑھے وہ بھی ٹھیک ہے۔
وجہ: صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عبد اللہ بن ابی قتادة عن ابیہ ان النبی ۖ کان یقرأ فی الظھر فی الاولیین بام الکتاب وسورتین و فی الرکعتین الاخریین بام الکتاب ویسمعنا الآیة و یطول فی الرکعة الاولی ما لا یطیل فی الرکعة الثانیة وھکذا فی العصر ۔ (بخاری شریف ، باب یقرأ فی الآخرین بفاتحة الکتاب ص ١٠٧ نمبر ٧٧٦ مسلم شریف ، باب القرأة فی الظھر والعصر ص ١٨٥ نمبر ١٠١٢٤٥١ ابو داود شریف ، باب القرأت فی الظھر ، ص ١٢٤، نمبر ٧٩٨) اس حدیث میں ہے کہ فرض کی دوسری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے (٢)جابر بن سمرة قال قال عمر لسعد لقد شکوک فی کل شیء حتی الصلوة قال اما انا فامد فی الاولیین واحذف فی الآخرین ولا آلو ما اقتدیت بہ من صلوة رسول اللہ قال صدقت ذاک الظن بک ۔ (بخاری شریف ،باب یطول فی الاولیین ویحذف فی الآخرین ص ١٠٦ نمبر ٧٧٠ مسلم شریف ، باب القرأة فی الظھروالعصر ص ١٨٦ نمبر ٤٥٣ ١٠١٨) پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا کافی ہے۔اور دوسری حدیث میں بھی اس کا اشارہ موجود ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں اختصار کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔اس لئے دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنا حنفیہ کے نزدیک بعض روایت میں واجب ہے اور بعض روایت میں مستحب ہے۔
فائدہ : امام شافعی کے نزدیک دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنا فرض ہے(١) اوپر کی حدیث کی بنا پر (٢) اور٫لا صلوة الا بفاتحة الکتاب، کی حدیث کی بنا پر حوالہ گزر چکا ہے۔موسوعة میںعبارت یہ ہے ۔ و فی الأخریین أم القرآن و آیة ، و ما زاد کان احب الی ما لم یکن اما ما فیثقل علیہ ۔ ( موسوعة ، امام شافعی ، باب القرا ء ة أم القرآن ، ج ثانی ، ص ١٦٢ ، نمبر ١٣٧٩) اس عبارت میں ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ، اور ایک آیت بھی پڑھنا ضروری ہے ، اس سے زیادہ