Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

482 - 627
(٣٠٢) ویقرأ فی الرکعتین الاخریین بفاتحة الکتاب وحدہا)  ١ لحدیث ابی قتادة ان النبی علیہ السلام قرأ فی الاخریین بفاتحة الکتاب 

٩٧٦)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کے بعد حضورۖ پر درود پڑھنا چاہئے (٣)  عن سہل بن سعد ان النبی ۖ قال لا صلوة لمن یصل علی نبیہ ۖ ۔ (دار قطنی ، باب ذکر وجوب الصلوة علی النبی فی التشھد ص ٣٤٧ نمبر ١٣٢٧) اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ حضورۖ پر درود پڑھنا چاہئے ۔اسلئے امام شافعی  کے نزدیک پہلے تشھد کے بعد بھی درود شریف پڑھنا واجب ہے ۔
ترجمہ:(٣٠٢)  اور دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھے گا خاص طور پر۔
ترجمہ:  ١   حضرت ابو قتادہ  کی حدیث کی وجہ سے ، کہ نبی علیہ السلام دوسری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے ۔ 
تشریح : ظہر اور عصر کی دوسری دو رکعتوں میں قرأت فرض نہیں ہے اس لئے سورۂ فاتحہ پڑھے تو یہ بہتر ہے۔ اور تسبیح پڑھے وہ بھی ٹھیک ہے۔ 
 وجہ:   صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عبد اللہ بن ابی قتادة عن ابیہ ان النبی ۖ کان یقرأ فی الظھر فی الاولیین بام الکتاب وسورتین و فی الرکعتین الاخریین بام الکتاب ویسمعنا الآیة و یطول فی الرکعة الاولی ما لا یطیل فی الرکعة الثانیة وھکذا فی العصر ۔ (بخاری شریف ، باب یقرأ فی الآخرین بفاتحة الکتاب ص ١٠٧ نمبر ٧٧٦ مسلم شریف ، باب القرأة فی الظھر والعصر ص ١٨٥ نمبر ١٠١٢٤٥١ ابو داود شریف ، باب القرأت فی الظھر ، ص ١٢٤، نمبر ٧٩٨)  اس حدیث میں ہے کہ فرض کی دوسری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے    (٢)جابر بن سمرة قال قال عمر لسعد لقد شکوک فی کل شیء حتی الصلوة قال اما انا فامد فی الاولیین واحذف فی الآخرین ولا آلو ما اقتدیت بہ من صلوة رسول اللہ قال صدقت ذاک الظن بک ۔ (بخاری شریف ،باب یطول فی الاولیین ویحذف فی الآخرین ص ١٠٦ نمبر ٧٧٠  مسلم شریف ، باب القرأة فی الظھروالعصر ص ١٨٦ نمبر ٤٥٣ ١٠١٨) پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا کافی ہے۔اور دوسری حدیث میں بھی اس کا اشارہ موجود ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں اختصار کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔اس لئے دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنا حنفیہ کے نزدیک بعض روایت میں واجب ہے اور بعض روایت میں مستحب ہے۔  
فائدہ : امام شافعی کے نزدیک دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھنا فرض ہے(١) اوپر کی حدیث کی بنا پر (٢) اور٫لا صلوة الا بفاتحة الکتاب، کی حدیث کی بنا پر حوالہ گزر چکا ہے۔موسوعة میںعبارت یہ ہے ۔ و فی الأخریین أم القرآن و آیة ، و ما زاد کان احب الی ما لم یکن اما ما فیثقل علیہ ۔ ( موسوعة ، امام شافعی  ، باب القرا ء ة أم القرآن ، ج ثانی ، ص ١٦٢ ، نمبر ١٣٧٩) اس عبارت میں ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں  سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ، اور ایک آیت بھی پڑھنا ضروری ہے ، اس سے زیادہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter