١ لقول ابن مسعود : علّمنی رسول اللّٰہ ۖ التشہد فی وسط الصلوٰة واٰخرہا، فاذا کان وسط الصلوٰة نہض اذا فرغ من التشہد واذا کان اٰخر الصلوٰة دعا لنفسہ بما شائ
ترجمہ: ١ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کے قول کی وجہ سے کہ حضور ۖ نے مجھکو تشھد وسط نماز میں سکھایا اور آخر نماز میں بھی ، پس جب درمیان نماز میں ہو تو تشہد سے فارغ ہو نے کے بعد کھڑے ہو جائو ، اور جب آخر نماز ہو تو جو چاہے اپنے لئے دعا کرے ۔
تشریح : اگر چار رکعت والی نماز ہو تو قعدۂ اولی میں تشہد سے زیادہ درود شریف وغیرہ نہ پڑھے اتنا ہی پڑھ کرتیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے۔
وجہ : (١) حدیث میں ہے۔ عن عبد اللہ بن مسعود قال : علمنی رسول اللہ ۖ التشھد فی وسط الصلوة و فی آخرھا ....قال : ثم ان کان فی وسط الصلوة نھض حین فرغ من تشھدہ ، و ان کان فی آخرھا دعا بعد تشھدہ بما شاء أن یدعو، ثم یسلم ۔ ( مسند احمد ، مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج ثانی ، ص ٤٤ ، نمبر ٤٣٦٩) اس حدیث میں ہے کہ قعد اولی میں تشھد سے زیادہ نہ پڑھے ۔ (٢) عن عبد اللہ بن مسعود قال کان النبی ۖ فی الرکعتین کانہ علی الرضف قلت حتی یقوم قال ذلک یرید (نسائی شریف ، باب التخفیف فی التشھد الاول، ص١٦٤، نمبر ١١٧٧ ابو داؤد شریف ، باب فی تخفیف القعود ص ١٥٠ نمبر ٩٩٥) اس حدیث میں ہے کہ آپۖ قعدۂ اولی میں اتنی جلدی اٹھتے تھے جیسے آپ گرم پتھر پر ہوں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قعدۂ اولی میں تشہد سے زیادہ نہ پڑھے۔
فائدہ : امام شافعی کے نزدیک قعدۂ اولی میں بھی تشہد کے بعد درود پڑھے گا۔ موسوعہ میں عبارت یہ ہے ۔ و التشھد و الصلوة علی النبی ۖ فی التشھد الاول فی کل صلوة ۔ غیر۔ الصبح تشھدان ، تشھد اول ، و تشھد آخر، ان ترک التشھد الاول ، و الصلوة علی النبی ۖ فی التشھد الاول ساھیا ، لا اعادة علیہ ، و علیہ سجدتا السھو لترکہ ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب التشھد و الصلوة علی النبی ۖ ، ج ثانی ، ص ١٩٣، نمبر ١٤٥٦) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ پہلے تشہد میں بھی درود شریف واجب ہے ۔
وجہ : ان کی دلیل وہ آیت اور احادیث ہیں جن میں تشہد کے بعد درود شریف کی فضیلت آئی ہے۔(١) دلیل یہ آیت ہے ۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما۔(ّیت ٥٦ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت سے زندگی میں ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے اور نماز میں پڑھنا سنت ہے(٢) حدیث میں ہے عن کعب بن عجرة .۔.. فقلنا قد عرفنا کیف نسلم علیک فکیف نصلی علیک؟ قال قولوا اللھم صلی علی محمد الخ۔ (مسلم شریف ، باب الصلوة علی النبی بعد التشہدص ١٧٥ نمبر ٤٠٦ ابو داؤد شریف ، باب الصلوہ علی النبی بعد التشہد ص ١٤٧ نمبر