Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

481 - 627
  ١ لقول ابن مسعود : علّمنی رسول اللّٰہ ۖ التشہد فی وسط الصلوٰة واٰخرہا،  فاذا کان وسط الصلوٰة نہض اذا فرغ من التشہد واذا کان اٰخر الصلوٰة دعا لنفسہ بما شائ
 
ترجمہ:  ١   حضرت عبد اللہ ابن مسعود  کے قول کی وجہ سے کہ حضور ۖ نے مجھکو تشھد وسط نماز میں سکھایا اور آخر نماز میں بھی ، پس جب درمیان نماز میں ہو تو تشہد سے فارغ ہو نے کے بعد کھڑے ہو جائو ، اور جب آخر نماز ہو تو جو چاہے اپنے لئے دعا کرے ۔  
تشریح : اگر چار رکعت والی نماز ہو تو قعدۂ اولی میں تشہد سے زیادہ درود شریف وغیرہ نہ پڑھے اتنا ہی پڑھ کرتیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے۔  
وجہ : (١) حدیث میں ہے۔ عن عبد اللہ بن مسعود قال : علمنی رسول اللہ  ۖ التشھد فی وسط الصلوة و فی آخرھا ....قال : ثم ان کان فی وسط الصلوة نھض حین فرغ من تشھدہ ، و ان کان فی آخرھا دعا بعد تشھدہ بما شاء أن یدعو، ثم یسلم ۔ ( مسند احمد ، مسند عبد اللہ بن مسعود ، ج ثانی ، ص ٤٤ ، نمبر ٤٣٦٩)  اس حدیث میں ہے کہ قعد اولی میں تشھد سے زیادہ نہ پڑھے ۔ (٢)  عن عبد اللہ بن مسعود قال کان النبی ۖ فی الرکعتین کانہ علی الرضف قلت حتی یقوم قال ذلک یرید  (نسائی شریف ، باب التخفیف فی التشھد الاول، ص١٦٤، نمبر ١١٧٧ ابو داؤد شریف ، باب فی تخفیف القعود ص ١٥٠ نمبر ٩٩٥) اس حدیث میں ہے کہ آپۖ قعدۂ اولی میں اتنی جلدی اٹھتے تھے جیسے آپ گرم پتھر پر ہوں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قعدۂ اولی میں تشہد سے زیادہ نہ پڑھے۔  
فائدہ :  امام شافعی کے نزدیک قعدۂ اولی میں بھی تشہد کے بعد درود پڑھے گا۔  موسوعہ میں عبارت یہ ہے ۔ و التشھد و الصلوة  علی  النبی  ۖ فی التشھد الاول فی کل صلوة ۔   غیر۔ الصبح تشھدان ، تشھد اول ، و تشھد آخر، ان ترک التشھد الاول ، و الصلوة علی النبی  ۖ فی التشھد الاول ساھیا ، لا اعادة علیہ ، و علیہ سجدتا السھو لترکہ ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب التشھد و الصلوة علی النبی  ۖ ، ج ثانی ، ص ١٩٣، نمبر ١٤٥٦) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ پہلے تشہد میں بھی درود شریف واجب ہے ۔
وجہ :    ان کی دلیل وہ آیت اور  احادیث ہیں جن میں تشہد کے بعد درود شریف کی فضیلت آئی ہے۔(١)   دلیل یہ آیت ہے ۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما۔(ّیت ٥٦ سورة الاحزاب ٣٣) اس آیت سے زندگی میں ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے اور نماز میں پڑھنا سنت ہے(٢) حدیث میں ہے  عن کعب بن عجرة .۔.. فقلنا قد عرفنا کیف نسلم علیک فکیف نصلی علیک؟ قال قولوا اللھم صلی علی محمد الخ۔  (مسلم شریف ، باب الصلوة علی النبی بعد التشہدص ١٧٥ نمبر ٤٠٦ ابو داؤد شریف ، باب الصلوہ علی النبی بعد التشہد ص ١٤٧ نمبر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter