Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

480 - 627
٣ لان فیہ الامرواقلہ الاستحباب والألف واللام وہما للاستغراق وزیادة الواو وہی لتجدید الکلام کما فی القسم وتاکید التعلیم (٣٠١) ولا یزید علیٰ ہذا فی القعدة الاولیٰ)

أشھد ان محمدا رسول اللہ ۔ ( ترمذی شریف ، باب منہ ،باب ماجاء فی التشھد ص ٦٥ نمبر ٢٩٠ نسائی شریف  ، نوع آخر من التشہد ،ص ١٦٤ ، نمبر ١١٧٥)  اس حدیث میں ٫ سلام علیک ، بغیر الف لام کے ہے ، اسلئے وہ استغراق کے لئے نہیں ہو گا ۔ (٢) لیکن عبد اللہ ابن عباس کی حدیث جو مسلم شریف میں ہے اس میں ٫السلام ، الف لام کے ساتھ ہے ، جو استغراق کے لئے ہو جائے گا اور سلام میں تمام لو گوں کو گھیر لیگا ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس انہ قال کان رسول اللہ ۖ یعلمنا التشہد کما یعلمنا السورة  من القرآن فکان  یقول:  التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ ،  السلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ، السلام علینا و علی عباداللہ الصالحین ، اشھد أن لا الہ الا اللہ و أشھد ان محمدا رسول اللہ ۔  ( مسلم شریف ، باب التشہد فی الصلوة ص ١٧٤ نمبر ٩٠٢٤٠٣ابو داود شریف ، باب التشہد ، ص ١٤٨ ، نمبر ٩٧٤) اس حدیث سے ان کے یہاں عبد اللہ بن عباس والا تشہد مسنون ہے ۔
ترجمہ  :٣   ]١[ اسلئے کہ عبد اللہ ابن مسعود  کے تحیات میں ٫ فلیقل ، امر کا صیغہ ہے ، اور امر کا کم سے کم درجہ استحباب کا ہے ۔ ]٢[ اور ٫السلام علیک ، میں  الف لام دونوں استغراق کے لئے ہیں ۔ ]٣[ اور ٫ و الصلوات میں  واو  کی زیادتی ہے جو بات کو نیا کر نے کے لئے ہے ۔ جیسے کے قسم میں نیا کر نے لئے ہو تا ہے ]٤[ اور اس تشہد کے تعلیم کی تاکید ہے ۔ 
تشریح :  حضرت عبد اللہ ابن مسعود  کا تشہد پڑھنا افضل ہے اسکے لئے مصنف چار وجہ بیان کر رہے ہیںجو پہلے بھی گزر چکی ہیں۔]١[ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس تشہد میں امر کا صیغہ ٫ فلیقل ، جو کم سے کم استحباب دلالت کر تا ہے ۔ ]٢[ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبد اللہ ابن عباس کی ترمذی والی حدیث میں ٫سلام علیک، بغیر الف لام کے ہے اسلئے یہ تمام کو گھیر نے پر دلالت نہیں کرے گا جبکہ عبد اللہ ابن مسعود کی حدیث میں ٫السلام علیک ، الف لام کے ساتھ ہے جو تمام کو گھیرنے پر دلالت کرے گا اسلئے یہ بہتر ہے ۔۔لیکن عبد اللہ ابن عباس کاتشہد جو مسلم شریف میں ہے اس میں ٫السلام علیک ، الف لام کے ساتھ ہے اسلئے اس تشہد میں یہ علت نہیں چلے گی ۔ ]٣[ عبد اللہ ابن مسعود کے تشہد میں ٫و الصلوات ،  واو کے ساتھ ہے جس سے کلام الگ ہو جاتا ہے ، اور عبد اللہ ابن عباس  کے تشہد ٫الصلوات ، بغیر واو کے جو کلام کو نیا نہیں کر تا ۔ ]٤[ اور حضور ۖ نے اس تشہد کے سیکھنے پر تاکید کی اسلئے بھی یہ تشہد افضل ہے ۔   
 نوٹ : تشہد پڑھنا واجب ہے چاہے کوئی بھی تشہد ہو ۔ کیونکہ اوپر کی حدیث میں امر کا صیغہ ہے جس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اور سورة کی طرح سکھانے سے بھی تاکید ہوتی ہے۔ 
ترجمہ :(٣٠١)   قعدۂ اولی میں تشھد سے  زیادہ نہ پڑھے ۔ 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter