٣ لان فیہ الامرواقلہ الاستحباب والألف واللام وہما للاستغراق وزیادة الواو وہی لتجدید الکلام کما فی القسم وتاکید التعلیم (٣٠١) ولا یزید علیٰ ہذا فی القعدة الاولیٰ)
أشھد ان محمدا رسول اللہ ۔ ( ترمذی شریف ، باب منہ ،باب ماجاء فی التشھد ص ٦٥ نمبر ٢٩٠ نسائی شریف ، نوع آخر من التشہد ،ص ١٦٤ ، نمبر ١١٧٥) اس حدیث میں ٫ سلام علیک ، بغیر الف لام کے ہے ، اسلئے وہ استغراق کے لئے نہیں ہو گا ۔ (٢) لیکن عبد اللہ ابن عباس کی حدیث جو مسلم شریف میں ہے اس میں ٫السلام ، الف لام کے ساتھ ہے ، جو استغراق کے لئے ہو جائے گا اور سلام میں تمام لو گوں کو گھیر لیگا ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس انہ قال کان رسول اللہ ۖ یعلمنا التشہد کما یعلمنا السورة من القرآن فکان یقول: التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ ، السلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ، السلام علینا و علی عباداللہ الصالحین ، اشھد أن لا الہ الا اللہ و أشھد ان محمدا رسول اللہ ۔ ( مسلم شریف ، باب التشہد فی الصلوة ص ١٧٤ نمبر ٩٠٢٤٠٣ابو داود شریف ، باب التشہد ، ص ١٤٨ ، نمبر ٩٧٤) اس حدیث سے ان کے یہاں عبد اللہ بن عباس والا تشہد مسنون ہے ۔
ترجمہ :٣ ]١[ اسلئے کہ عبد اللہ ابن مسعود کے تحیات میں ٫ فلیقل ، امر کا صیغہ ہے ، اور امر کا کم سے کم درجہ استحباب کا ہے ۔ ]٢[ اور ٫السلام علیک ، میں الف لام دونوں استغراق کے لئے ہیں ۔ ]٣[ اور ٫ و الصلوات میں واو کی زیادتی ہے جو بات کو نیا کر نے کے لئے ہے ۔ جیسے کے قسم میں نیا کر نے لئے ہو تا ہے ]٤[ اور اس تشہد کے تعلیم کی تاکید ہے ۔
تشریح : حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا تشہد پڑھنا افضل ہے اسکے لئے مصنف چار وجہ بیان کر رہے ہیںجو پہلے بھی گزر چکی ہیں۔]١[ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس تشہد میں امر کا صیغہ ٫ فلیقل ، جو کم سے کم استحباب دلالت کر تا ہے ۔ ]٢[ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبد اللہ ابن عباس کی ترمذی والی حدیث میں ٫سلام علیک، بغیر الف لام کے ہے اسلئے یہ تمام کو گھیر نے پر دلالت نہیں کرے گا جبکہ عبد اللہ ابن مسعود کی حدیث میں ٫السلام علیک ، الف لام کے ساتھ ہے جو تمام کو گھیرنے پر دلالت کرے گا اسلئے یہ بہتر ہے ۔۔لیکن عبد اللہ ابن عباس کاتشہد جو مسلم شریف میں ہے اس میں ٫السلام علیک ، الف لام کے ساتھ ہے اسلئے اس تشہد میں یہ علت نہیں چلے گی ۔ ]٣[ عبد اللہ ابن مسعود کے تشہد میں ٫و الصلوات ، واو کے ساتھ ہے جس سے کلام الگ ہو جاتا ہے ، اور عبد اللہ ابن عباس کے تشہد ٫الصلوات ، بغیر واو کے جو کلام کو نیا نہیں کر تا ۔ ]٤[ اور حضور ۖ نے اس تشہد کے سیکھنے پر تاکید کی اسلئے بھی یہ تشہد افضل ہے ۔
نوٹ : تشہد پڑھنا واجب ہے چاہے کوئی بھی تشہد ہو ۔ کیونکہ اوپر کی حدیث میں امر کا صیغہ ہے جس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ اور سورة کی طرح سکھانے سے بھی تاکید ہوتی ہے۔
ترجمہ :(٣٠١) قعدۂ اولی میں تشھد سے زیادہ نہ پڑھے ۔