Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

479 - 627
اولی من الاخذ بتشہد ابن عباس ٢ وہوقولہ:التحیات المبارکات الصلوات  الطیبات للّٰہ سلام علیک ایہاالنبی ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ سلام علینا  الیٰ اٰخرہ 

تشریح :  حنفیہ کے یہاںحضرت عبد اللہ  ابن مسعود والا تحیات پڑھنا بہتر ہے ، اسکی یہ وجہ ہیں ]١[ اس میں امر کا صیغہ ہے جو کم سے کم استحباب پر دلالت کر تا ہے ۔]٢[ السلام علیک ،میں الف لام ہے جو استغراق پر دلالت کر تا ہے ۔]٣[ جس طرح سورت سکھلاتے تھے اس طرح تشہد سکھلایا جس سے اسکی اہمیت کا پتہ چلا ]٤[ پھر ہاتھ پکڑ کر سکھلایا جس سے اور بھی اہمیت کا پتہ چلتا ہے ، اسلئے یہ تشہد پڑھنا بہتر ہے ۔
وجہ:  یہ عبد اللہ بن مسعود کا تشہد ہے اور حنفیہ کے نزدیک اس کا پڑھنا افضل ہے ۔ صاحب ھدایہ کی حدیث بھی یہی ہے ۔  قال عبد اللہ بن مسعود کنا اذا صلینا خلف النبی ۖ قلنا السلام علی جبرائیل ومکائیل السلام علی فلان وفلان فالتفت الینا رسول اللہ ۖ فقال ان اللہ ھو السلام فاذا صلی احدکم فلیقل الیتحیات للہ ، و الصلوات و الطیبات ، السلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ ، السلام علینا ، و علی عباداللہ الصالحین ۔ الخ ۔ (بخاری شریف ، باب التشہد فی الآخرة ص ١١٥ نمبر ٨٣١ مسلم شریف ،باب التشہد فی الصلوة ص ١٧٣ نمبر ٤٠٢ ٨٩٧ ابو داود شریف ، باب التشھد ، ص ١٤٧، نمبر ٩٦٨) اس حدیث میں ٫ فلیقل، امر کا صیغہ ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے اس لئے عبد اللہ ابن مسعود کا تشہد ہمارے یہاں زیادہ بہتر ہے۔
(٢)مسلم کی حدیث میں یہ بھی ہے  ۔سمعت ابن مسعود یقول علمنی رسول اللہ ۖ التشھد کفی بین کفیہ کما علمنی السورة من القرآن  (مسلم شریف ، باب التشھد فی الصلوة ص ١٧٤ مبر ٤٠٢ ٩٠١ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی التشھد ص ٦٥ نمبر ٢٨٩  نسائی شریف ،باب تعلیم التشھدکتعلیم السورة، ص ١٧٨، نمبر١٢٧٩)اس حدیث سے اور زیادہ اہمیت ہو گئی ۔کیونکہ جس طرح قرآن سکھاتے تھے اس طرح عبد اللہ بن مسعود کو حضورۖ نے تشہد سکھایا ۔ پھر عبد ابن مسعود  کا ہاتھ حضور ۖ کے ہاتھ میں تھا جس سے اور اہمیت ہوئی ۔  اس لئے ہمارے یہاں یہی تشہد بہتر ہے۔ 
فائدہ :  ترجمہ:  ٢   حضرت عبد اللہ ابن عباس  کا تشہد یہ ہے ۔ التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ ، السلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ السلام علینا۔الی آخرہ ۔
تشریح : امام شافعی کے یہاںعبد اللہ بن عباس کا تشہد بہتر ہے۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس قال کان رسول اللہ ۖ یعلمنا التشہد کما یعلمنا القرآن، فکان یقول:  التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ ،سلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ،سلام علینا و علی عباداللہ الصالحین ، اشھد أن لا الہ الا اللہ و 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter