اولی من الاخذ بتشہد ابن عباس ٢ وہوقولہ:التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للّٰہ سلام علیک ایہاالنبی ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ سلام علینا الیٰ اٰخرہ
تشریح : حنفیہ کے یہاںحضرت عبد اللہ ابن مسعود والا تحیات پڑھنا بہتر ہے ، اسکی یہ وجہ ہیں ]١[ اس میں امر کا صیغہ ہے جو کم سے کم استحباب پر دلالت کر تا ہے ۔]٢[ السلام علیک ،میں الف لام ہے جو استغراق پر دلالت کر تا ہے ۔]٣[ جس طرح سورت سکھلاتے تھے اس طرح تشہد سکھلایا جس سے اسکی اہمیت کا پتہ چلا ]٤[ پھر ہاتھ پکڑ کر سکھلایا جس سے اور بھی اہمیت کا پتہ چلتا ہے ، اسلئے یہ تشہد پڑھنا بہتر ہے ۔
وجہ: یہ عبد اللہ بن مسعود کا تشہد ہے اور حنفیہ کے نزدیک اس کا پڑھنا افضل ہے ۔ صاحب ھدایہ کی حدیث بھی یہی ہے ۔ قال عبد اللہ بن مسعود کنا اذا صلینا خلف النبی ۖ قلنا السلام علی جبرائیل ومکائیل السلام علی فلان وفلان فالتفت الینا رسول اللہ ۖ فقال ان اللہ ھو السلام فاذا صلی احدکم فلیقل الیتحیات للہ ، و الصلوات و الطیبات ، السلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ ، السلام علینا ، و علی عباداللہ الصالحین ۔ الخ ۔ (بخاری شریف ، باب التشہد فی الآخرة ص ١١٥ نمبر ٨٣١ مسلم شریف ،باب التشہد فی الصلوة ص ١٧٣ نمبر ٤٠٢ ٨٩٧ ابو داود شریف ، باب التشھد ، ص ١٤٧، نمبر ٩٦٨) اس حدیث میں ٫ فلیقل، امر کا صیغہ ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے اس لئے عبد اللہ ابن مسعود کا تشہد ہمارے یہاں زیادہ بہتر ہے۔
(٢)مسلم کی حدیث میں یہ بھی ہے ۔سمعت ابن مسعود یقول علمنی رسول اللہ ۖ التشھد کفی بین کفیہ کما علمنی السورة من القرآن (مسلم شریف ، باب التشھد فی الصلوة ص ١٧٤ مبر ٤٠٢ ٩٠١ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی التشھد ص ٦٥ نمبر ٢٨٩ نسائی شریف ،باب تعلیم التشھدکتعلیم السورة، ص ١٧٨، نمبر١٢٧٩)اس حدیث سے اور زیادہ اہمیت ہو گئی ۔کیونکہ جس طرح قرآن سکھاتے تھے اس طرح عبد اللہ بن مسعود کو حضورۖ نے تشہد سکھایا ۔ پھر عبد ابن مسعود کا ہاتھ حضور ۖ کے ہاتھ میں تھا جس سے اور اہمیت ہوئی ۔ اس لئے ہمارے یہاں یہی تشہد بہتر ہے۔
فائدہ : ترجمہ: ٢ حضرت عبد اللہ ابن عباس کا تشہد یہ ہے ۔ التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ ، السلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ السلام علینا۔الی آخرہ ۔
تشریح : امام شافعی کے یہاںعبد اللہ بن عباس کا تشہد بہتر ہے۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس قال کان رسول اللہ ۖ یعلمنا التشہد کما یعلمنا القرآن، فکان یقول: التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ ،سلام علیک أیھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ،سلام علینا و علی عباداللہ الصالحین ، اشھد أن لا الہ الا اللہ و