٦ وخص اوائل المستنبطین بالتوفیق حتیٰ وضعوامسائل من کل جلی، و دقیق ٧ غیران الحوادث متعاقبة الوقوع،والنوازل یضیق عنھانطاق الموضوع۔٨ واقتناص الشوارد بالاقتباس من الموارد
لغت : سلک : چلنا ۔اسی سے اسم ظرف ہے مسلک : چلنے کا راستہ ،مذھب ۔مسلک الاجتہاد : اجتہاد کا راستہ ۔یوثر :اثر سے مشتق ہے منقول ہو نا ۔لم یوثر : جو منقول نہ ہو ۔اجتہاد : جہد سے مشتق ہے ۔کوشش کرنا ۔اجتہاد کا مطلب ہے جس مسئلے کے بارے میں انبیاء سے کوئی حکم منقول نہ ہو تو ان جیسے دیگر سنتوں کو سامنے رکھ کر اس سے اس مسئلے کو استنباط کرنے کو اجتہاد کہتے ہیں ۔مسترشد : رشد سے مشتق ہے ۔رہنمائی طلب کرنا ۔ولی الارشاد : رہنمائی کا ولی ، رہنمائی کا مالک ۔
ترجمہ: ٦ شروع کے استنباط کرنے والوں کو اللہ نے خاص توفیق دی کہ انہوں نے ہر بڑے چھوٹے مسئلوں کو وضع کیا ۔
تشریح :۔ مصنف یہاں سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پہلی صدی کے اماموں نے بہت سے مسائل کا استنباط کیا ہے لیکن بعد میں نئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں انکا شمار نا ممکن ہے اسلئے اسکے لئے اصول کا متعین کرنا ضروری ہے اور اسکے لئے کتاب لکھنا ضروری ہے۔
لغت : اوائل : اول کی جمع ہے یہاں مراد ہے شروع کے لوگ ۔ ائمہ کی وہ جماعت جنہوں نے مسائل مستنبط کئے ۔مستنبطین : نبط سے مشتق ہے باب ستفعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے ۔کنوئیں سے پانی نکالنے والے ،مسئلے کے استنباط کرنے والے ۔
وضعوا مسائل : مسئلوں کو بنایا ،مسئلوں کو رکھا ۔جلی :جلی کا ترجمہ ہے ،واضح،بڑے بڑے مسئلے ۔دقیق : باریک اور جزئیاتی مسئلے۔یعنی اس زمانے کے ائمہ نے بڑے بڑے اور چھوٹے چھوٹے مسئلوں کا استنباط فرمایا ۔
ترجمہ:٧ علاوہ یہ کہ پیش آمدہ واقعات پیدر پے واقع ہو رہے ہیں ۔او ر پیش آمدہ مسائل کو ایک موضوع کی ڈوری میں باندھنا مشکل ہے ۔
تشریح : مصنف پر اشکال ہوا کہ ائمہ نے بڑے چھوٹے مسئلے وضع کردئے تو آپ کیوں کتاب لکھ رہے ہیں ؟اسکا جواب دے رہے ہیں کہ نئے نئے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں اسلئے انکو پرانے مسئلوں تک محدود رکھنا مشکل ہے اسلئے کتاب لکھ کر نئے مسئلوں کا راستہ ہموار کر رہا ہوں ۔
لغت :۔ حوادث : حادثة کی جمع ہے نئے پیدا ہونے والے مسائل ۔متعاقبة : عقب سے مشتق ہے یکے بعد دیگرے آنے والے مسائل ۔نوازل : نازلة کی جمع ہے اترنے والی چیز ۔یہاں مراد ہے نئے آنے والے مسائل ۔نطاق : کمر بند۔نطاق الموضوع :موضوع کی ڈوری ۔یہاں مراد ہے کہ چند موضوعات کی ڈوری میں آنے والے تمام مسائل کو باندھنا مشکل تھا ۔
ترجمہ:(٨)وحشی جانورں کی طرح نامانوس مسائل کو اقتباس کرکے گھاٹیوں سے شکار کرنا مشکل کام ہے ۔