Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

47 - 627
٦   وخص اوائل المستنبطین بالتوفیق  حتیٰ وضعوامسائل من کل جلی، و دقیق  ٧  غیران الحوادث متعاقبة الوقوع،والنوازل یضیق عنھانطاق الموضوع۔٨   واقتناص الشوارد بالاقتباس من الموارد

لغت :  سلک : چلنا ۔اسی سے  اسم ظرف ہے  مسلک : چلنے کا راستہ ،مذھب ۔مسلک الاجتہاد : اجتہاد کا راستہ ۔یوثر :اثر سے مشتق ہے منقول ہو نا ۔لم یوثر : جو منقول نہ ہو ۔اجتہاد : جہد سے مشتق ہے ۔کوشش کرنا ۔اجتہاد کا مطلب ہے جس مسئلے کے بارے میں انبیاء سے کوئی حکم منقول نہ ہو تو ان جیسے دیگر سنتوں کو سامنے رکھ کر اس سے اس مسئلے کو استنباط کرنے کو اجتہاد کہتے ہیں ۔مسترشد : رشد سے مشتق ہے ۔رہنمائی طلب کرنا ۔ولی الارشاد : رہنمائی کا ولی ، رہنمائی کا مالک ۔
ترجمہ:  ٦   شروع کے استنباط کرنے والوں کو اللہ نے خاص توفیق دی کہ انہوں نے ہر بڑے چھوٹے مسئلوں کو وضع کیا ۔
تشریح :۔ مصنف یہاں سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پہلی صدی کے اماموں نے بہت سے مسائل کا استنباط کیا ہے لیکن بعد میں نئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں انکا شمار نا ممکن ہے اسلئے اسکے لئے اصول کا متعین کرنا ضروری ہے اور اسکے لئے کتاب لکھنا ضروری ہے۔
لغت : اوائل : اول کی جمع ہے یہاں مراد ہے شروع کے لوگ ۔ ائمہ کی وہ جماعت جنہوں نے مسائل مستنبط کئے  ۔مستنبطین : نبط سے مشتق ہے باب ستفعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے ۔کنوئیں سے پانی نکالنے والے ،مسئلے کے استنباط کرنے والے ۔
وضعوا مسائل  :  مسئلوں کو بنایا ،مسئلوں کو رکھا ۔جلی :جلی کا ترجمہ ہے ،واضح،بڑے بڑے مسئلے ۔دقیق : باریک اور جزئیاتی مسئلے۔یعنی اس زمانے کے ائمہ نے بڑے بڑے اور چھوٹے چھوٹے مسئلوں کا استنباط فرمایا ۔
ترجمہ:٧   علاوہ یہ کہ پیش آمدہ واقعات پیدر پے واقع ہو رہے ہیں ۔او ر پیش آمدہ مسائل کو  ایک موضوع کی ڈوری میں باندھنا مشکل ہے ۔
تشریح :  مصنف پر اشکال ہوا کہ ائمہ نے بڑے چھوٹے مسئلے وضع کردئے تو آپ کیوں کتاب لکھ رہے ہیں ؟اسکا جواب دے رہے ہیں کہ نئے نئے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں اسلئے انکو پرانے مسئلوں تک محدود رکھنا مشکل ہے اسلئے کتاب لکھ کر نئے مسئلوں کا راستہ ہموار کر رہا ہوں ۔
لغت :۔ حوادث : حادثة کی جمع ہے نئے پیدا ہونے والے مسائل ۔متعاقبة : عقب سے مشتق ہے یکے بعد دیگرے آنے والے مسائل ۔نوازل : نازلة کی جمع ہے اترنے والی چیز ۔یہاں مراد ہے نئے آنے والے مسائل ۔نطاق : کمر بند۔نطاق الموضوع :موضوع کی ڈوری ۔یہاں مراد ہے کہ چند موضوعات کی ڈوری میں آنے والے تمام مسائل کو باندھنا مشکل تھا ۔
ترجمہ:(٨)وحشی جانورں کی طرح نامانوس مسائل کو اقتباس کرکے گھاٹیوں سے شکار کرنا مشکل کام ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter