Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

478 - 627
(٢٩٩) وان کانت امرأة جلست علیٰ الیتہا الیسری واخرجت رجلیہا من الجانب الایمن)   ١ لانہ استرلہا (٣٠٠)  والتشہد التحیات لِلّٰہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایہا النبی الیٰ اٰخرہ)
  ١ وہذا تشہد عبداللّٰہ بن مسعود فانہ قال اخذ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ  وعلی اٰلہ وسلم  بیدی وعلّمنی التشہد کما کان یعلّمنی سورة من القراٰن وقال :قل: التحیات للّٰہِ الٰی اٰخرہ،  والاخذ بہٰذا 

مصنف نے اسکی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی انگلیاںقبلے کی طرف متوجہ ہوں ۔ ۔تشہد پڑھنے کی دلیل آگے ہے ۔
ترجمہ : (٢٩٩) اور اگر عورت ہو تو وہ بائیں سرین پر بیٹھے اور اپنے پائوں کو دائیں جانب نکال دے ۔ 
ترجمہ :  ١   اسلئے کہ یہ اسکے لئے زیادہ ستر کی چیز ہے ۔ 
تشریح :  عورت سکڑ کر بیٹھے گی تو یہ اسکے لئے زیادہ ستر کی چیز ہے اس لئے وہ تورک کر کے بیٹھے ۔ اور تورک کی شکل یہی ہے کہ دونوں پائوں کو پنڈلی کے نیچے سے دائیں  جانب نکال دے ، اور بائیں سرین پر بیٹھ جائے ۔ 
وجہ :  اوپر امام مالک  نے مرد کے بارے میں حدیث پیش کی تھی کہ تورک کرے  ،حنفیہ اسکو عورتوں کے بارے میںمناسب سمجھتے ہیں ۔ حدیث یہ ہے ۔فقال ابو حمید الساعدی....واذا جلس فی الرکعة الآخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدتہ ۔ (بخاری شریف،باب سنة الجلوس فی التشہد ص ١٤نمبر ٨٢٨ )(٢)حتی اذا کانت السجدة التی فیھاالتسلیم اخر رجلہ الیسری وقعد متورکا علی شقہ الایسر۔ (  ابو داؤد شریف ، باب من ذکر التورک فی الرابعة ص ١٤٥ نمبر ٩٦٣  مسلم شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة وکیفیة وضع الیدین علی الفخذین (٢١٦ نمبر ١٣٠٧٥٧٩) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قعدۂ اخیرہ میں عورت کے لئے تورک مسنون ہے۔(٣) اثر میں ہے ۔قلت لعطاء تجلس المرأة فی مثنا علی شقھا الایسر ؟ قال : نعم ، قلت : ھو احب الیک من الایمن ؟ قال : نعم ،قال: تجتمع جالسة ما استطاعت ، قلت : تجلس جلوس الرجل فی مثنا أو تخرج رجلھا الیسری من تحت الیتھا ؟ قال : لا یضرھا أی ذالک جلست اذا اجتمعت ۔( مصنف ابن ابی شیبة، ٤٤ فی المرأة کیف تجلس فی الصلوة ، ج اول ، ص ٢٤٣، نمبر ٢٧٩١) اس اثر میں ہے کہ عورت بائیں جانب بیٹھے گی ، اسلئے کہ اس میں اسکو آسانی بھی ہے اور سہولت بھی ہے ۔    
ترجمہ:  (٣٠٠)  اور تشہد : التحیات للہ و الصلوات و الطیبات السلام علیک ایھا  النبی ۔الی آخرہ ،ہے ۔
ترجمہ:   ١   یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود  کا تشہد ہے ، اسلئے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ  ۖ نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے اس طرح تشہد سکھلایا جس طرح مجھے قرآن کی سورت سکھلاتے تھے ، اور فرمایا کہ کہو ۔التحیات للہ ، الی آخرہ ۔  اور اس عبد اللہ بن مسعود  کے تشہد کو لینا بہتر ہے عبد اللہ ابن عباس کے تشہد لینے سے  ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter