(٢٩٩) وان کانت امرأة جلست علیٰ الیتہا الیسری واخرجت رجلیہا من الجانب الایمن) ١ لانہ استرلہا (٣٠٠) والتشہد التحیات لِلّٰہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایہا النبی الیٰ اٰخرہ)
١ وہذا تشہد عبداللّٰہ بن مسعود فانہ قال اخذ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وعلی اٰلہ وسلم بیدی وعلّمنی التشہد کما کان یعلّمنی سورة من القراٰن وقال :قل: التحیات للّٰہِ الٰی اٰخرہ، والاخذ بہٰذا
مصنف نے اسکی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی انگلیاںقبلے کی طرف متوجہ ہوں ۔ ۔تشہد پڑھنے کی دلیل آگے ہے ۔
ترجمہ : (٢٩٩) اور اگر عورت ہو تو وہ بائیں سرین پر بیٹھے اور اپنے پائوں کو دائیں جانب نکال دے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ یہ اسکے لئے زیادہ ستر کی چیز ہے ۔
تشریح : عورت سکڑ کر بیٹھے گی تو یہ اسکے لئے زیادہ ستر کی چیز ہے اس لئے وہ تورک کر کے بیٹھے ۔ اور تورک کی شکل یہی ہے کہ دونوں پائوں کو پنڈلی کے نیچے سے دائیں جانب نکال دے ، اور بائیں سرین پر بیٹھ جائے ۔
وجہ : اوپر امام مالک نے مرد کے بارے میں حدیث پیش کی تھی کہ تورک کرے ،حنفیہ اسکو عورتوں کے بارے میںمناسب سمجھتے ہیں ۔ حدیث یہ ہے ۔فقال ابو حمید الساعدی....واذا جلس فی الرکعة الآخرة قدم رجلہ الیسری ونصب الاخری وقعد علی مقعدتہ ۔ (بخاری شریف،باب سنة الجلوس فی التشہد ص ١٤نمبر ٨٢٨ )(٢)حتی اذا کانت السجدة التی فیھاالتسلیم اخر رجلہ الیسری وقعد متورکا علی شقہ الایسر۔ ( ابو داؤد شریف ، باب من ذکر التورک فی الرابعة ص ١٤٥ نمبر ٩٦٣ مسلم شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة وکیفیة وضع الیدین علی الفخذین (٢١٦ نمبر ١٣٠٧٥٧٩) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قعدۂ اخیرہ میں عورت کے لئے تورک مسنون ہے۔(٣) اثر میں ہے ۔قلت لعطاء تجلس المرأة فی مثنا علی شقھا الایسر ؟ قال : نعم ، قلت : ھو احب الیک من الایمن ؟ قال : نعم ،قال: تجتمع جالسة ما استطاعت ، قلت : تجلس جلوس الرجل فی مثنا أو تخرج رجلھا الیسری من تحت الیتھا ؟ قال : لا یضرھا أی ذالک جلست اذا اجتمعت ۔( مصنف ابن ابی شیبة، ٤٤ فی المرأة کیف تجلس فی الصلوة ، ج اول ، ص ٢٤٣، نمبر ٢٧٩١) اس اثر میں ہے کہ عورت بائیں جانب بیٹھے گی ، اسلئے کہ اس میں اسکو آسانی بھی ہے اور سہولت بھی ہے ۔
ترجمہ: (٣٠٠) اور تشہد : التحیات للہ و الصلوات و الطیبات السلام علیک ایھا النبی ۔الی آخرہ ،ہے ۔
ترجمہ: ١ یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا تشہد ہے ، اسلئے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ۖ نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے اس طرح تشہد سکھلایا جس طرح مجھے قرآن کی سورت سکھلاتے تھے ، اور فرمایا کہ کہو ۔التحیات للہ ، الی آخرہ ۔ اور اس عبد اللہ بن مسعود کے تشہد کو لینا بہتر ہے عبد اللہ ابن عباس کے تشہد لینے سے ۔