Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

477 - 627
٢ ولان فیہ توجیہ اصابع یدیہ الی القبلة  

عمل کر تے ہیں  کہ ہاتھ کی دس انگلیوں میں سے سات انگلیوں کو قبلے کی طرف پھیلا کر رکھتے ہیں ، اور انگوٹھے اور ابہام سے حلقہ بناتے ہیں اور شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کر تے ہیں ، تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے ۔ اسکے لئے یہ حدیث ہے ۔
وجہ : (١)دونوں ہاتھوں کو دونوں رانوں پر رکھے اور سات انگلیوں کو پھیلا کر رکھے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن ابن عمر : ان رسول اللہ  ۖ کان اذا جلس فی الصلوة وضع یدیہ علی رکبتیہ و رفع أصبعہ التی تلی الابھام فدعا بھا ، و یدہ الیسری علی رکبتہ باسطھا علیھا ۔ ( نسائی شریف ، باب بسط الیسری علی الرکبة ، ص ١٧٦ ، نمبر ١٢٧٠ مسلم شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة ، و کیفیة وضع الیدین علی الفخذین ، ٢١٧، نمبر ٥٨٠ ١٣٠٩) اس حدیث میں ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلی پھیلائی ۔(٢)ہاتھوں کی انگلیوں کو رانوں پر رکھنے کی دلیل اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے حلقہ بنا کر اشارہ کرنے کی دلیل اس حدیث میں ہے۔ صاحب ھدایہ نے بھی  اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ عن وائل بن حجر قال ... ثم جلس فافترش رجلہ الیسری ووضع یدہ الیسری علی فخذہ الیسری وحد مرفقہ الایمن علی فخذہ الیمنی وقبض ثنتین و حلق حلقة ورأیتہ یقول ھکذا وحلق بشر الابھام والوسطی واشار بالسبابة  (ابو داؤد شریف ، باب کیف الجلوس فی التشہد ص ١٤٥ نمبر ٩٥٧) اس حدیث میں ہے کہ انگوٹھے اور درمیان کی انگلی سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے (٣)عاصم بن کلیب الجرمی عن ابیہ عن جدہ قال دخلت علی النبی ۖ وھو یصلی وقد وضع یدہ الیسری علی فخذہ الیسری ووضع یدہ الیمنی علی فخذہ الیمنی وقبض اصابعہ وبسط السبابة  (ترمذی شریف ، باب ابواب الدعاء ج ثانی ص١٩٩ نمبر ٣٥٨٧ ابواب المناقب سے دو صفحے پہلے ہے نسائی شریف ، باب قبض الثنتین من اصابع الید الیمنی وعقد الوسطی ص ٤٢ نمبر ١٢٦٩  ) اس حدیث میں بھی ہے کہ حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے  لا الہ الا اللہ کے وقت ا شارہ کرے ۔ 
ترجمہ:  ٢   اور اسلئے کہ اس میں انگلیوں کو قبلے کی جانب متوجہ کر نا ہے ۔ 
تشریح :  یہ جملہ اس بات کی دلیل عقلی ہے کہ انگلیوں کو رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیوں کا سرا قبلے کی طرف متوجہ رہے ، گھٹنوں کو پکڑ کر اس طرح نہ رکھیں کہ انگلیاں زمین کی طرف متوجہ ہو جائیں ، ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ کر رکھے ، اس صورت میں   انگلیاں زمین کی طرف ہو جائیں گی ، حدیث یہ ہے ۔عامر بن عبد اللہ بن زبیر عن ابیہ : أنہ رأی النبی ۖ یدعو کذالک ، یتحامل بیدہ الیسری علی رجلہ الیسری ۔ ( نسائی شریف ، باب بسط الیسری علی الرکبة ، ص ١٧٧، نمبر ١٢٧١) اس حدیث میں ہے کہ ہاتھ سے گھٹنے کو پکڑ کر رکھے ، اس صورت میں انگلیاں زمین کی طرف متوجہ ہو جائیں گی ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter