٢ ولان فیہ توجیہ اصابع یدیہ الی القبلة
عمل کر تے ہیں کہ ہاتھ کی دس انگلیوں میں سے سات انگلیوں کو قبلے کی طرف پھیلا کر رکھتے ہیں ، اور انگوٹھے اور ابہام سے حلقہ بناتے ہیں اور شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کر تے ہیں ، تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے ۔ اسکے لئے یہ حدیث ہے ۔
وجہ : (١)دونوں ہاتھوں کو دونوں رانوں پر رکھے اور سات انگلیوں کو پھیلا کر رکھے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن ابن عمر : ان رسول اللہ ۖ کان اذا جلس فی الصلوة وضع یدیہ علی رکبتیہ و رفع أصبعہ التی تلی الابھام فدعا بھا ، و یدہ الیسری علی رکبتہ باسطھا علیھا ۔ ( نسائی شریف ، باب بسط الیسری علی الرکبة ، ص ١٧٦ ، نمبر ١٢٧٠ مسلم شریف ، باب صفة الجلوس فی الصلوة ، و کیفیة وضع الیدین علی الفخذین ، ٢١٧، نمبر ٥٨٠ ١٣٠٩) اس حدیث میں ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلی پھیلائی ۔(٢)ہاتھوں کی انگلیوں کو رانوں پر رکھنے کی دلیل اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے حلقہ بنا کر اشارہ کرنے کی دلیل اس حدیث میں ہے۔ صاحب ھدایہ نے بھی اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ عن وائل بن حجر قال ... ثم جلس فافترش رجلہ الیسری ووضع یدہ الیسری علی فخذہ الیسری وحد مرفقہ الایمن علی فخذہ الیمنی وقبض ثنتین و حلق حلقة ورأیتہ یقول ھکذا وحلق بشر الابھام والوسطی واشار بالسبابة (ابو داؤد شریف ، باب کیف الجلوس فی التشہد ص ١٤٥ نمبر ٩٥٧) اس حدیث میں ہے کہ انگوٹھے اور درمیان کی انگلی سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے (٣)عاصم بن کلیب الجرمی عن ابیہ عن جدہ قال دخلت علی النبی ۖ وھو یصلی وقد وضع یدہ الیسری علی فخذہ الیسری ووضع یدہ الیمنی علی فخذہ الیمنی وقبض اصابعہ وبسط السبابة (ترمذی شریف ، باب ابواب الدعاء ج ثانی ص١٩٩ نمبر ٣٥٨٧ ابواب المناقب سے دو صفحے پہلے ہے نسائی شریف ، باب قبض الثنتین من اصابع الید الیمنی وعقد الوسطی ص ٤٢ نمبر ١٢٦٩ ) اس حدیث میں بھی ہے کہ حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے لا الہ الا اللہ کے وقت ا شارہ کرے ۔
ترجمہ: ٢ اور اسلئے کہ اس میں انگلیوں کو قبلے کی جانب متوجہ کر نا ہے ۔
تشریح : یہ جملہ اس بات کی دلیل عقلی ہے کہ انگلیوں کو رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیوں کا سرا قبلے کی طرف متوجہ رہے ، گھٹنوں کو پکڑ کر اس طرح نہ رکھیں کہ انگلیاں زمین کی طرف متوجہ ہو جائیں ، ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ کر رکھے ، اس صورت میں انگلیاں زمین کی طرف ہو جائیں گی ، حدیث یہ ہے ۔عامر بن عبد اللہ بن زبیر عن ابیہ : أنہ رأی النبی ۖ یدعو کذالک ، یتحامل بیدہ الیسری علی رجلہ الیسری ۔ ( نسائی شریف ، باب بسط الیسری علی الرکبة ، ص ١٧٧، نمبر ١٢٧١) اس حدیث میں ہے کہ ہاتھ سے گھٹنے کو پکڑ کر رکھے ، اس صورت میں انگلیاں زمین کی طرف متوجہ ہو جائیں گی ۔