Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

46 - 627
٤ و اخلفھم علماء الی سنن سننھم داعین  ٥   یسلکون فیمالم یؤثرعنھم مسلک الاجتھادمسترشدین منہ فی ذالک۔ وھوولی الارشاد  

ترجمہ:  ٤  اور علماء کو انکا خلیفہ بنایا جو انکی عادتوں  کے طریقوں کی دعوت دیتے ہیں ۔
تشریح :  انبیاء علیہم السلام کی جو سنتیں ہیں اور جو انکی عادتیں ہیں علماء انکے طریقوں اور راستوں کی دعوت دیتے ہیں ۔اللہ نے ایسے علماء کو انبیاء کا خلیفہ بنایا ۔اصل عبارت اس طرح بنے گی : و اخلفہم علماء الذین یدعون الی سنن سننہم ۔اور ایسے علماء کو نبیوںکا خلیفہ بنایا جو انکے طریقوں کی
دعوت دیتے ہیں ۔....علماء انبیاء کے خلیفہ ہیں اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن کثیر بن قیس قال : کنت جالسا مع ابی الدرداء فی مسجد دمشق ....قال : انی سمعت رسول اللہ  ۖ یقول ....و ان العلماء ورثة الانبیاء ،و ان الانبیاء لم یورثو ا دینارا و لا درھما ،ورثو ا  العلم ،فمن اخذ ہ اخذ بحظ وافر ۔ ( ابو داود شریف ،باب فی فضل العلم ،ص ٥٢٣،نمبر ٣٦٤١)
نوٹ  :  صاحب ھدایہ یہاں سے مشکل الفاظ میں کتاب تصنیف کرنے کی وجہ بیان فرما رہے ہیں ۔
لغت :  اخلف: خلیفة سے مشتق ہے ۔ یہاں باب افعال  سے ہے ۔خلیفہ بنانا۔سنن: سنة کی جمع ہے ۔ اسکے کئی معانی ہیں (١) راستہ 
 (زمانے کے ائمہ نے بڑے بڑے اور چھوٹے چھوٹے مسئلوں کا استنباط فرمایا ۔)
ترجمہ:  ٥   اور جو باتیں انبیاء سے منقول نہیں ہیں ان میں اجتہاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔اس بارے میں اللہ سے رشدو ھدایت طلب کرتے ہیں ۔اللہ ہی ارشاد کے مالک ہیں ۔
تشریح :  اللہ نے علماء کو انبیاء کا خلیفہ بنایا لیکن اسکاطریقہ کار یہ ہے کہ جن باتوں  ،یا جن سنتوں کے بارے میں انبیاء سے کوئی بات منقول نہیں ہے ان میںاجتہاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔اور اجتہاد کے لئے اللہ سے رشد ھدایت مانگتے ہیں اور انبیاء کی منقول سنتوں سے استنباط کرتے ہیں ۔کیوں کہ اللہ ہی رہنمائی فرمانے والے ہیں ۔
وجہ :۔اجتہاد جائز ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عمر و بن العاص انہ سمع رسول اللہ  ۖ یقول : اذا حکم الحاکم فاجتھد ثم اصاب فلہ اجر ان ،و اذا حکم فاجتھد ثم اخطأفلہ اجر ۔(بخاری شریف ،باب اجر الحاکم اذا اجتھد فاصاب او اخطأ۔ص ١٢٦٤ ،نمبر٧٣٥٢مسلم شریف ،باب اجر الحاکم اذا اجتھد ،فاصاب او اخطأ،ص ٧٦١ نمبر ١٧١٦٤٤٨٧) اس حدیث میں ہے کہ اجتہاد کرے گا تو اجر ملے گا ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter