٤ و اخلفھم علماء الی سنن سننھم داعین ٥ یسلکون فیمالم یؤثرعنھم مسلک الاجتھادمسترشدین منہ فی ذالک۔ وھوولی الارشاد
ترجمہ: ٤ اور علماء کو انکا خلیفہ بنایا جو انکی عادتوں کے طریقوں کی دعوت دیتے ہیں ۔
تشریح : انبیاء علیہم السلام کی جو سنتیں ہیں اور جو انکی عادتیں ہیں علماء انکے طریقوں اور راستوں کی دعوت دیتے ہیں ۔اللہ نے ایسے علماء کو انبیاء کا خلیفہ بنایا ۔اصل عبارت اس طرح بنے گی : و اخلفہم علماء الذین یدعون الی سنن سننہم ۔اور ایسے علماء کو نبیوںکا خلیفہ بنایا جو انکے طریقوں کی
دعوت دیتے ہیں ۔....علماء انبیاء کے خلیفہ ہیں اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن کثیر بن قیس قال : کنت جالسا مع ابی الدرداء فی مسجد دمشق ....قال : انی سمعت رسول اللہ ۖ یقول ....و ان العلماء ورثة الانبیاء ،و ان الانبیاء لم یورثو ا دینارا و لا درھما ،ورثو ا العلم ،فمن اخذ ہ اخذ بحظ وافر ۔ ( ابو داود شریف ،باب فی فضل العلم ،ص ٥٢٣،نمبر ٣٦٤١)
نوٹ : صاحب ھدایہ یہاں سے مشکل الفاظ میں کتاب تصنیف کرنے کی وجہ بیان فرما رہے ہیں ۔
لغت : اخلف: خلیفة سے مشتق ہے ۔ یہاں باب افعال سے ہے ۔خلیفہ بنانا۔سنن: سنة کی جمع ہے ۔ اسکے کئی معانی ہیں (١) راستہ
(زمانے کے ائمہ نے بڑے بڑے اور چھوٹے چھوٹے مسئلوں کا استنباط فرمایا ۔)
ترجمہ: ٥ اور جو باتیں انبیاء سے منقول نہیں ہیں ان میں اجتہاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔اس بارے میں اللہ سے رشدو ھدایت طلب کرتے ہیں ۔اللہ ہی ارشاد کے مالک ہیں ۔
تشریح : اللہ نے علماء کو انبیاء کا خلیفہ بنایا لیکن اسکاطریقہ کار یہ ہے کہ جن باتوں ،یا جن سنتوں کے بارے میں انبیاء سے کوئی بات منقول نہیں ہے ان میںاجتہاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔اور اجتہاد کے لئے اللہ سے رشد ھدایت مانگتے ہیں اور انبیاء کی منقول سنتوں سے استنباط کرتے ہیں ۔کیوں کہ اللہ ہی رہنمائی فرمانے والے ہیں ۔
وجہ :۔اجتہاد جائز ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن عمر و بن العاص انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول : اذا حکم الحاکم فاجتھد ثم اصاب فلہ اجر ان ،و اذا حکم فاجتھد ثم اخطأفلہ اجر ۔(بخاری شریف ،باب اجر الحاکم اذا اجتھد فاصاب او اخطأ۔ص ١٢٦٤ ،نمبر٧٣٥٢مسلم شریف ،باب اجر الحاکم اذا اجتھد ،فاصاب او اخطأ،ص ٧٦١ نمبر ١٧١٦٤٤٨٧) اس حدیث میں ہے کہ اجتہاد کرے گا تو اجر ملے گا ۔