Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

45 - 627
٣  و بعث رسلا و انبیاء صلوات اللّٰہ علیھم اجمعین الی سبیل الحق ھادین  

مطلب یہ ہوگا وہ متعین تعریفیں جو قرآن اور حدیث میں ہیں وہ اللہ کے لئے ہیں ۔  
معالم:معلم کی جمع ہے ۔علم سے مشتق ہے اور اسم ظرف ہے ۔علم کی جگہ یا علامت کی جگہ ۔یہاں معالم سے مراد شریعت کے اصول ہیں ،یعنی قرآن کریم ،سنت ،اجماع ،اور قیاس ۔یعنی اللہ نے اصول شریعت کو بلند کیا اس طرح کہ ہمکو اسکی اتباع کا حکم فرمایا ۔
اعلام : علم کی جمع ہے ۔اسکا ترجمہ ہے پہاڑ ،یا علامت ،یا جھنڈا ۔پہاڑ سے مراد علماء ہونگے ۔علامت سے مراد شریعت کی دلیل ہوگی ۔اور جھنڈا سے مراد ذات علم ہوگی ۔اکثر حضرات نے اعلام سے علماء مراد لئے ہیں ۔یعنی علماء کو اللہ نے بلند فرمایا ۔
شعائر : شعیرة کی جمع ہے ۔جیسے صحائف : صحیفة کی جمع ہے ۔وہ چیز جو اللہ کی عبادت پر علامت ہو سکے ۔اور بعض حضرات نے فرمایا وہ عبادتیں  مراد ہیں جو شہرت کے طور پر ادا کی جائیں ۔جیسے اذان ،جمعہ ،عید کی نماز ،قربانی ۔یعنی وہ عبادات جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انکے کرنے والے مسلمان ہیں ۔ایسی عبادتوں کو شعائر کہتے ہیں ۔مصنف  فرماتے ہیں کہ ایسی عبادتوں کو اللہ نے ظاہر فرمایا ۔اسلئے میں اسکی حمد کرتا ہوں۔
احکام : حکم کی جمع ہے ۔کسی چیز پر جو اثر مرتب ہو تا ہے اسکو حکم کہتے ہیں ۔اللہ کے جو احکام بندوں کے ساتھ متعلق ہیں یہاں وہ مراد ہیں ۔جیسے کسی چیز کا جائز ہونا ،کسی معاملے کا  فاسد ہونا ،کسی  چیز کا حلال ہونا ۔یا کسی چیز کا حرام ہونا ۔ 
مصنف نے خطبہ میں ،احکام ، کا لفظ لا کر اشارہ کیا کہ یہ کتاب احکام کے بارے میں ہے ۔خطبہ میں ایسا لفظ لائے جو کتاب کے مضمون کی طرف اشارہ کرے اسکو ،براعت استہلال ، کہتے ہیں مصنف نے یہاں براعت استہلال استعمال کیا ہے ۔
ترجمہ:  ٣   اور جس نے انبیاء اور رسولوں کو راہ حق کی طرف ھدایت کرنے والا بناکرمبعوث فرمایا  ۔
تشریح : اللہ کا جو حق راستہ ہو اسکی طرف ھدایت کرنے والا بناکر انبیاء اور رسولوں کو بھیجا اس خدا کی میں  حمد کرتا ہوں ۔ اور ا ن تمام پر صلوة و سلام ہو ۔
لغت :  رسول : جس نبی پر نئی شریعت آئی ہو اور کتاب آئی ہو اسکو رسول کہتے ہیں ۔اور جس پر نئی شریعت نہیں آئی ہو اسکو نبی کہتے ہیں ۔ اسلئے رسول نبی سے افضل ہوتے ہیں اس لئے مصنف نے لفظ رسول کو پہلے لایا ۔
صلوات  :یہ صلوة کی جمع ہے ۔اسکا معنی ہے دعا ۔لیکن اگر اسکی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اسکا معنی ہے رحمت کرنا ۔اور فرشتے کی طرف نسبت ہو تو اسکا معنی ہے استغفار کرنا ۔اور انسان کی طرف نسبت ہو تو اسکا معنی ہے دعا کرنا ۔یہاں صلوة کی نسبت اللہ کی طرف ہے اسلئے اسکا معنی ہوگا اللہ کی رحمت ہوتمام  رسولوں اور انبیاء پر ۔
ھادین : ھدایت سے مشتق ہے اور اسم فاعل ہے ۔ھدایت دینے والا ،راستہ دکھلانے والا ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter