٣ و بعث رسلا و انبیاء صلوات اللّٰہ علیھم اجمعین الی سبیل الحق ھادین
مطلب یہ ہوگا وہ متعین تعریفیں جو قرآن اور حدیث میں ہیں وہ اللہ کے لئے ہیں ۔
معالم:معلم کی جمع ہے ۔علم سے مشتق ہے اور اسم ظرف ہے ۔علم کی جگہ یا علامت کی جگہ ۔یہاں معالم سے مراد شریعت کے اصول ہیں ،یعنی قرآن کریم ،سنت ،اجماع ،اور قیاس ۔یعنی اللہ نے اصول شریعت کو بلند کیا اس طرح کہ ہمکو اسکی اتباع کا حکم فرمایا ۔
اعلام : علم کی جمع ہے ۔اسکا ترجمہ ہے پہاڑ ،یا علامت ،یا جھنڈا ۔پہاڑ سے مراد علماء ہونگے ۔علامت سے مراد شریعت کی دلیل ہوگی ۔اور جھنڈا سے مراد ذات علم ہوگی ۔اکثر حضرات نے اعلام سے علماء مراد لئے ہیں ۔یعنی علماء کو اللہ نے بلند فرمایا ۔
شعائر : شعیرة کی جمع ہے ۔جیسے صحائف : صحیفة کی جمع ہے ۔وہ چیز جو اللہ کی عبادت پر علامت ہو سکے ۔اور بعض حضرات نے فرمایا وہ عبادتیں مراد ہیں جو شہرت کے طور پر ادا کی جائیں ۔جیسے اذان ،جمعہ ،عید کی نماز ،قربانی ۔یعنی وہ عبادات جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انکے کرنے والے مسلمان ہیں ۔ایسی عبادتوں کو شعائر کہتے ہیں ۔مصنف فرماتے ہیں کہ ایسی عبادتوں کو اللہ نے ظاہر فرمایا ۔اسلئے میں اسکی حمد کرتا ہوں۔
احکام : حکم کی جمع ہے ۔کسی چیز پر جو اثر مرتب ہو تا ہے اسکو حکم کہتے ہیں ۔اللہ کے جو احکام بندوں کے ساتھ متعلق ہیں یہاں وہ مراد ہیں ۔جیسے کسی چیز کا جائز ہونا ،کسی معاملے کا فاسد ہونا ،کسی چیز کا حلال ہونا ۔یا کسی چیز کا حرام ہونا ۔
مصنف نے خطبہ میں ،احکام ، کا لفظ لا کر اشارہ کیا کہ یہ کتاب احکام کے بارے میں ہے ۔خطبہ میں ایسا لفظ لائے جو کتاب کے مضمون کی طرف اشارہ کرے اسکو ،براعت استہلال ، کہتے ہیں مصنف نے یہاں براعت استہلال استعمال کیا ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور جس نے انبیاء اور رسولوں کو راہ حق کی طرف ھدایت کرنے والا بناکرمبعوث فرمایا ۔
تشریح : اللہ کا جو حق راستہ ہو اسکی طرف ھدایت کرنے والا بناکر انبیاء اور رسولوں کو بھیجا اس خدا کی میں حمد کرتا ہوں ۔ اور ا ن تمام پر صلوة و سلام ہو ۔
لغت : رسول : جس نبی پر نئی شریعت آئی ہو اور کتاب آئی ہو اسکو رسول کہتے ہیں ۔اور جس پر نئی شریعت نہیں آئی ہو اسکو نبی کہتے ہیں ۔ اسلئے رسول نبی سے افضل ہوتے ہیں اس لئے مصنف نے لفظ رسول کو پہلے لایا ۔
صلوات :یہ صلوة کی جمع ہے ۔اسکا معنی ہے دعا ۔لیکن اگر اسکی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اسکا معنی ہے رحمت کرنا ۔اور فرشتے کی طرف نسبت ہو تو اسکا معنی ہے استغفار کرنا ۔اور انسان کی طرف نسبت ہو تو اسکا معنی ہے دعا کرنا ۔یہاں صلوة کی نسبت اللہ کی طرف ہے اسلئے اسکا معنی ہوگا اللہ کی رحمت ہوتمام رسولوں اور انبیاء پر ۔
ھادین : ھدایت سے مشتق ہے اور اسم فاعل ہے ۔ھدایت دینے والا ،راستہ دکھلانے والا ۔