Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

44 - 627
٢  الحمدللّٰہ الذی اعلیٰ معالم العلم و اعلامہ، و اظھر شعائر الشرع، و احکامہ 

کاصیغہ ہے ۔ اسکا ترجمہ ہے وہ ذات جس کی رحمت ہر چیز کو گھیری ہوئی ہے ۔انتہائی مہربان ۔الرحیم : فعیل کے وزن پر ہے ۔یہ لفظ بھی رحمت سے مشتق ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے ۔البتہ اس میں رحمن کے مقابلہ میں کم مبالغہ ہے ۔کیوں کہ رحمن میں حروف زیادہ ہیں ۔اس میں پانچ حروف ہیں اور رحیم میں چار حروف ہیں ۔اس لئے رحمن میں مبالغہ زیادہ ہوا ۔ شاید اسی لئے اللہ نے اسکو پہلے لایا ۔حضور  ۖ کی دعا میں آیا ہے ،یارحمن الدنیا و رحیم الآخرة ۔جس سے معلوم ہوا کہ دنیا والوں پر اللہ کی مہربانی زیادہ ہے بنسبت آخرت والوں کے ۔کیونکہ دنیا میں مومن اور کافر دونوں پر مہربانی ہو رہی ہے اور آخرت میں صرف مومن پر مہربانی ہوگی ۔
 نکتہ :۔شایدرحمن کو مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ اس کا تعلق دنیا والوں کے ساتھ ہے اور دنیا مقدم ہے ا س لئے  رحمن کو مقدم کیا ۔یاسجع کے لئے رحمن کو مقدم کیا ۔
ترجمہ:  ٢  تمام  تعریفیں اللہ کے لئے ہیں  جس نے علم کے نشانات اور جھنڈوں کو بلند کیا ۔اور شریعت کے شعائر اور احکام کو ظاہر کیا ۔
تشریح :  مصنف  اللہ کی تعریف کرنا  چاہتے ہیں ۔لیکن تعریف میں ایسا جملہ لا رہے ہیں جس سے علم فقہ کی اہمیت ، اصول فقہ کی اہمیت اور اسکی تعریف بھی ہو جائے ۔اور ساتھ ہی اللہ کی تعریف بھی ہو جائے ۔  خطبہ میں ایسا جملہ  لانا جس سے کتاب کے مضمون کی طرف اشارہ ہو اسکو براعت استہلال کہتے ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے علم کے نشانات کو بلند کیا اور علم کے جھنڈون کو بلند کیا  اور شریعت کے شعائر اور اسکے احکام کو واضح کیا ۔
وجہ :  حمد  مقدم کرنے کی وجہ ؛(١)قرآن کریم میں الحمد بالکل شروع میں ہے ۔....(٢)حدیث میں ہے عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ کل کلام لا یبدأ فیہ بحمد اللہ فھو  اجذم (ابو داود شریف ،باب الہدی فی الکلام ،ج ٢، ص ٣١٧،نمبر ٤٨٤٠ابن ماجہ شریف ،باب خطبة النکاح ،ص ٢٧٢ ،نمبر ١٨٩٤ )اس حدیث میں ہے کہ جو کلام حمد کے ذریعہ سے شروع نہ کرے وہ ناقص ہے اسلئے مصنف نے اپنی کتاب کو حمد سے شروع کی ۔
لغت  :  الحمد : مصدر (س) تعریف کرنا اور اصطلاحی تعریف :  ممدوح کی اختیاری خوبیوں کو زبان سے بیان کرنے کو حمد کہتے ہیں۔چاہے نعمت کے مقابلے پر ہو یا نعمت کے مقابلے پر نہ ہو ۔اللہ کی جانب سے ہر وقت نعمت کی بارش ہوتی رہتی ہے اسلئے ہم جو بھی حمد کریں گے وہ نعمت کے مقابلہ پر ہی ہوگی ۔
ال: ۔ الحمد میں الف لام استغراق کے لئے ہے۔استغراق کا معنی گھیرنا یہاں اسکا مطلب یہ ہے کہ تمام تعریفیں جو دنیا اور آخرت میں ہو سکتی ہوں وہ سب اللہ کے لئے ہیں ۔جمہور کی یہی رائے ہے ۔(٢)اور اگر الف لام جنس کا لیا جائے تو جنس کا مطلب ہوگا کہ حمد کا ہر ہر فرد اور اسکی حقیقت اللہ کے لئے ہیں ۔کبھی الف لام عہد اور متعین چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہوتا ہے ۔اس وقت اسکا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter