٢ الحمدللّٰہ الذی اعلیٰ معالم العلم و اعلامہ، و اظھر شعائر الشرع، و احکامہ
کاصیغہ ہے ۔ اسکا ترجمہ ہے وہ ذات جس کی رحمت ہر چیز کو گھیری ہوئی ہے ۔انتہائی مہربان ۔الرحیم : فعیل کے وزن پر ہے ۔یہ لفظ بھی رحمت سے مشتق ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے ۔البتہ اس میں رحمن کے مقابلہ میں کم مبالغہ ہے ۔کیوں کہ رحمن میں حروف زیادہ ہیں ۔اس میں پانچ حروف ہیں اور رحیم میں چار حروف ہیں ۔اس لئے رحمن میں مبالغہ زیادہ ہوا ۔ شاید اسی لئے اللہ نے اسکو پہلے لایا ۔حضور ۖ کی دعا میں آیا ہے ،یارحمن الدنیا و رحیم الآخرة ۔جس سے معلوم ہوا کہ دنیا والوں پر اللہ کی مہربانی زیادہ ہے بنسبت آخرت والوں کے ۔کیونکہ دنیا میں مومن اور کافر دونوں پر مہربانی ہو رہی ہے اور آخرت میں صرف مومن پر مہربانی ہوگی ۔
نکتہ :۔شایدرحمن کو مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ اس کا تعلق دنیا والوں کے ساتھ ہے اور دنیا مقدم ہے ا س لئے رحمن کو مقدم کیا ۔یاسجع کے لئے رحمن کو مقدم کیا ۔
ترجمہ: ٢ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے علم کے نشانات اور جھنڈوں کو بلند کیا ۔اور شریعت کے شعائر اور احکام کو ظاہر کیا ۔
تشریح : مصنف اللہ کی تعریف کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن تعریف میں ایسا جملہ لا رہے ہیں جس سے علم فقہ کی اہمیت ، اصول فقہ کی اہمیت اور اسکی تعریف بھی ہو جائے ۔اور ساتھ ہی اللہ کی تعریف بھی ہو جائے ۔ خطبہ میں ایسا جملہ لانا جس سے کتاب کے مضمون کی طرف اشارہ ہو اسکو براعت استہلال کہتے ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے علم کے نشانات کو بلند کیا اور علم کے جھنڈون کو بلند کیا اور شریعت کے شعائر اور اسکے احکام کو واضح کیا ۔
وجہ : حمد مقدم کرنے کی وجہ ؛(١)قرآن کریم میں الحمد بالکل شروع میں ہے ۔....(٢)حدیث میں ہے عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ کل کلام لا یبدأ فیہ بحمد اللہ فھو اجذم (ابو داود شریف ،باب الہدی فی الکلام ،ج ٢، ص ٣١٧،نمبر ٤٨٤٠ابن ماجہ شریف ،باب خطبة النکاح ،ص ٢٧٢ ،نمبر ١٨٩٤ )اس حدیث میں ہے کہ جو کلام حمد کے ذریعہ سے شروع نہ کرے وہ ناقص ہے اسلئے مصنف نے اپنی کتاب کو حمد سے شروع کی ۔
لغت : الحمد : مصدر (س) تعریف کرنا اور اصطلاحی تعریف : ممدوح کی اختیاری خوبیوں کو زبان سے بیان کرنے کو حمد کہتے ہیں۔چاہے نعمت کے مقابلے پر ہو یا نعمت کے مقابلے پر نہ ہو ۔اللہ کی جانب سے ہر وقت نعمت کی بارش ہوتی رہتی ہے اسلئے ہم جو بھی حمد کریں گے وہ نعمت کے مقابلہ پر ہی ہوگی ۔
ال: ۔ الحمد میں الف لام استغراق کے لئے ہے۔استغراق کا معنی گھیرنا یہاں اسکا مطلب یہ ہے کہ تمام تعریفیں جو دنیا اور آخرت میں ہو سکتی ہوں وہ سب اللہ کے لئے ہیں ۔جمہور کی یہی رائے ہے ۔(٢)اور اگر الف لام جنس کا لیا جائے تو جنس کا مطلب ہوگا کہ حمد کا ہر ہر فرد اور اسکی حقیقت اللہ کے لئے ہیں ۔کبھی الف لام عہد اور متعین چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہوتا ہے ۔اس وقت اسکا