بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم: اما بعد!
ترجمہ: ١ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
وجہ تقدیم : بسم اللہ الرحمن الرحیم : سب سے پہلے لکھنے کی پانچ وجوہ ہیں۔
(١)حضور ۖ کو سب سے پہلے وحی آئی تو اس میں اللہ کے نام سے پڑھنے کے لئے کہاگیا ۔آیت یہ ہے ۔اقرء باسم ربک الذی خلق ،آیت نمبر ١،سورة العلق ٩٦
(٢)حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو خط لکھا تو بسم اللہ سے شروع کیا ۔آیت یہ ہے انہ من سلیمان و انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔آیت نمبر ٣٠ سورة النمل ٢٧۔
(٣)قرآن کریم بسم اللہ سے شروع ہے ۔بلکہ ہر سورة بسم اللہ سے شروع ہے ۔
(٤)حضور کے تمام خطوط اور تمام خطبات بسم اللہ سے شروع ہیں۔
(٥) اس حدیث کے اشارے سے بھی استدلال کر سکتے ہیں کیونکہ اس حدیث میں ذکر کا لفظ ہے اور بسم اللہ بھی ذکر ہے ۔حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرہ ،قال:قال رسول اللہ ۖ : کل امر ذی بال لا یبدأ بذکر اللہ اقطع ۔(دار قطنی ،کتاب الصلوة ،جلد اول، ص٢٣٥،نمبر٨٧٣) اس ذکر سے مراد بسم اللہ لے سکتے ہیں ۔
لغت : بسم اللہ: میں ،ب، حرف جار ہے ۔جسکے بہت سے معانی ہیں ۔یہاں اسکا معنی الصاق کا ہے ۔یعنی کسی فعل کے ساتھ چپکانا ۔یا اسکا معنی استعانت ہے یعنی اللہ کے نام کی مدد سے شروع کرتا ہوں ۔ب، حرف جر ہے اسلئے اس کے متعلق کے لئے کوئی فعل محذوف ماننا ہوگا تاکہ حرف جر اسکا متعلق ہو جائے ۔بہتر ہے کہ ،ابتدأ محذوف مانیں تاکہ مطلب یہ ہو کہ میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ب متعلق ہو گیا اور اسم تو اللہ کے تابع ہے تو گویا کہ لفظ ،اللہ ، ہی سب سے مقدم ہو گیا ۔اور اقرأباسم ربک ،میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے نام سے پڑھو تو گویا کہ اللہ کا نام ہی سب سے مقدم ہو گیا ۔
اللہ : اللہ کے نناوے نام صفاتی ہیں ۔اورلفظ اللہ ذاتی نام ہے ۔اللہ۔ الالہ سے مشتق ہے ۔الہ کا معنی ہے معبود اور الف لام لگا دینے سے ترجمہ ہو گیا خاص معبود ،یعنی اللہ ۔دوسرے معبود تو ہیں ہی نہیں لیکن مشرک لوگوں نے اپنے اعتقاد میں بہت سے معبود بنا رکھے ہیں اسلئے اس سے جدا کرکے خاص معبود اللہ کا نام ہوا۔
الرحمن : فعلان کے وزن پر ہے ۔رحمت سے مشتق ہے ۔رحمت کا معنی ہے رقت قلب ۔اللہ میں رقت قلب محال ہے کیونکہ وہ ذات قلب اور دل سے پاک ہے ۔اسلئے اللہ کی طرف رحمت کی نسبت ہو تو اسکا معانی ہے ،فضل و کرم کرنا ،احسان کرنا ۔رحمن مبالغہ