Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

43 - 627
  بسم اللہ الرحمن الرحیم   
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم: اما بعد!

ترجمہ:   ١  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
وجہ تقدیم :  بسم اللہ الرحمن الرحیم : سب سے پہلے لکھنے کی پانچ وجوہ ہیں۔
(١)حضور  ۖ کو سب سے پہلے وحی آئی تو اس میں اللہ کے نام سے پڑھنے کے لئے کہاگیا ۔آیت یہ ہے ۔اقرء باسم ربک الذی خلق ،آیت نمبر ١،سورة العلق ٩٦
(٢)حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو خط لکھا تو بسم اللہ سے شروع کیا ۔آیت یہ ہے انہ من سلیمان و انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔آیت نمبر ٣٠ سورة النمل ٢٧۔
(٣)قرآن کریم بسم اللہ سے شروع ہے ۔بلکہ ہر سورة بسم اللہ سے شروع ہے ۔
(٤)حضور کے تمام خطوط اور تمام خطبات بسم اللہ سے شروع ہیں۔ 
(٥) اس حدیث کے اشارے سے بھی استدلال کر سکتے ہیں کیونکہ اس حدیث میں ذکر کا لفظ ہے اور بسم اللہ بھی ذکر ہے ۔حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرہ ،قال:قال رسول اللہ ۖ : کل امر ذی بال لا یبدأ بذکر اللہ اقطع ۔(دار قطنی ،کتاب الصلوة ،جلد اول، ص٢٣٥،نمبر٨٧٣)  اس ذکر سے مراد بسم اللہ لے سکتے ہیں ۔
لغت  :  بسم اللہ: میں ،ب، حرف جار ہے ۔جسکے بہت سے معانی ہیں ۔یہاں اسکا معنی الصاق کا ہے ۔یعنی کسی فعل کے ساتھ چپکانا ۔یا اسکا معنی استعانت ہے یعنی اللہ کے نام کی مدد سے شروع کرتا ہوں ۔ب، حرف جر ہے اسلئے اس کے متعلق کے لئے کوئی فعل محذوف ماننا ہوگا تاکہ حرف جر اسکا متعلق ہو جائے ۔بہتر ہے کہ ،ابتدأ محذوف مانیں تاکہ مطلب یہ ہو کہ میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ب متعلق ہو گیا اور اسم تو اللہ کے تابع ہے تو گویا کہ لفظ ،اللہ ، ہی سب سے مقدم ہو گیا ۔اور اقرأباسم ربک ،میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے نام سے پڑھو تو گویا کہ اللہ کا نام ہی سب سے مقدم ہو گیا ۔
اللہ  : اللہ کے نناوے نام صفاتی ہیں ۔اورلفظ اللہ ذاتی نام ہے ۔اللہ۔ الالہ سے مشتق ہے ۔الہ کا معنی ہے معبود اور الف لام لگا دینے سے ترجمہ ہو گیا خاص معبود ،یعنی اللہ ۔دوسرے معبود تو ہیں ہی نہیں لیکن مشرک لوگوں نے اپنے اعتقاد میں بہت سے معبود بنا رکھے ہیں اسلئے اس سے جدا کرکے خاص معبود اللہ کا نام ہوا۔
الرحمن : فعلان کے وزن پر ہے ۔رحمت سے مشتق  ہے ۔رحمت کا معنی ہے رقت قلب ۔اللہ میں رقت قلب محال ہے کیونکہ وہ ذات قلب اور دل سے پاک ہے ۔اسلئے اللہ کی طرف رحمت کی نسبت ہو تو اسکا معانی ہے ،فضل و کرم کرنا ،احسان کرنا ۔رحمن مبالغہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter