١ لان اہل قباء لما سمعوا بتحول القبلة استدارواکہیأتہم فی الصلوة واستحسنہا النبی ں
٢ وکذا اذا تحول رأیہ الی جہة اخری توجہ الیہالوجوب العمل بالاجتہادفیمایستقبل من غیرنقض المؤدّٰی قبلہ (٢٤٩) ومن امّ قومًا فی لیلة مظلمة فتحری القبلة وصلی الی المشرق وتحری من خلفہ فصلی کل واحد منہم الی جہة وکلہم خلفہ ولا یعلمون ماصنع الامام اجزاہم )
ترجمہ : ١ اسلئے کہ اھل قباء نے جب قبلے کی تبدیل کے بارے میں سنا تو وہ اسی حال میں نماز ہی میں گھوم گئے ، اور بنی علیہ السلام نے اسکو اچھا قرار دیا ۔
وجہ: صحابہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔سولہ یا سترہ ماہ کے بعد قبلہ بدل گیا۔ کچھ صحابہ نماز میں تھے اور اطلاع دی گئی کہ قبلہ بدل گیا ہے تو وہ لوگ نماز کے درمیان ہی گھوم گئے۔اور نماز پر بنا کی اور نماز پڑھتے رہے۔ صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عبد اللہ بن عمر قال بین الناس بقباء فی صلوة الصبح اذ جاء ھم آت فقال ان رسول اللہ ۖ قد انزل علیہ اللیلة قرآن وقد امر ان یستقبل الکعبة فاستقبلوھا وکانت وجوھھم الی الشام فاستداروا الی الکعبة (بخاری شریف، باب ماجاء ومن لم یرالاعادة علی من سہی فصلی الی غیر القبلة ص٥٨ کتاب الصلوة نمبر ٤٠٣ مسلم شریف ، باب تحویل القبلة من القدس الی الکعبة ، ص ٢٠١ ، نمبر ٥٢٦ ١١٧٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تحری کر کے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہا ہو اور درمیان میں صحیح قبلہ کا علم ہو گیا تو اس طرف پھر جائے اور پہلی نماز پر بنا کرے۔پہلی نماز بھی تحری کی بنا پر صحیح ہے۔
ترجمہ: ٢ ایسے ہی اگر اسکی رائے بدل گئی دوسری جانب تو اسکی طرف توجہ کرے گا اگلے اجتہاد پر عمل واجب ہونے کی وجہ سے اس سے پہلے ادا کئے ہوئے کو توڑے بغیر ۔
تشریح : قبلہ معلوم نہیں تھا اسلئے تحری سے نماز پڑھ رہا تھا ، اب دورکعت کے بعد اسکا اجتہاد بدل گیا اور خیال آیا کہ دوسری جانب قبلہ ہے تو اسی وقت دوسری جانب گھوم جائے ، اور پہلے جو دو رکعت پڑھی ہے اسی پر بنا کر لے ، کیونکہ پہلی دو رکعت بھی صحیح ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلے اس پر تحری لازم تھی اسلئے تحری ہی کر کے نماز پڑھ رہا تھا اسلئے وہ نماز بھی صحیح تھی اسکو توڑنے کی ضرورت نہیں ہے ، اب اسکی تحری بدل گئی اسلئے یہ نماز بھی صحیح ، اور اس نماز کی بنا پہلی نماز پر بھی صحیح ہے
لغت: استدار : گھوم جائے،مشتق دور سے ہے۔تحول : بدل جائے ، گھوم جائے ۔ کھیئتھم: اپنی پہلی ہیئتاور حالت پر رہتے ہوئے۔ بنی : بنا کرے۔ غیر نقض المودی : ادا کئے ہوئے نمازکو توڑے بغیر ۔
ترجمہ: (٢٤٩) کسی نے اندھیری رات میں ایک قوم کی امامت کی پس قبلے کی تحری کی اور نماز مشرق کی طرف پڑھی ، اور اسکے پیچھے والے نے تحری کی اور ہر ایک نے اپنی اپنی جہت کی طرف نماز پڑھ لی ، لیکن سبھی امام کے پیچھے تھے ، اور یہ انکو پتہ نہیں تھا کہ امام