Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

409 - 627
 ١ وقال الشافعی یعیدہا اذا استدبرلتیقنہ بالخطا  ٢   ونحن نقول لیس فی وسعہ الاالتوجہ الیٰ جہةالتحری والتکلیف مقید بالوسع  (٢٤٨) وان علم ذٰلک فی الصلوٰة استدار الی القبلة

فصلی کل رجل منا علی حدة فجعل احدنا یخط بین یدیہ لنعلم امکنتنا فلما اصبحنا نظرناہ فاذا نحن قد صلینا علی غیر القبلة فذکرنا ذلک للنبی ۖ فقال قد اجزأت صلواتکم ۔ (سنن للبیھقی ، باب الاختلاف فی القبلة عند التحری ،ج ثانی، ص ١٦،نمبر ٢٢٣٥ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ،ص ٨٠ نمبر ٣٤٥) اس حدیث میں غلط قبلے کی طرف نماز پڑھی لیکن نہیں لوٹائی ۔
 فائدہ : ترجمہ:  ١   اور امام شافعی  نے فرمایا کہ اگر قبلہ بالکل ہی پیچھے ہو گیا تو نماز لوٹائے گا ، غلطی کے یقینی ہو نے کی وجہ سے۔ 
تشریح :  امام شافعی  کا مسلک یہ ہے کہ اگر عین قبلہ سے دائیں ، یا بائیں انحراف ہوا تو اس خطاء کے باوجود نماز جائز ہو جائے گی ۔ لیکن اگر خطاء یقینی ہو یعنی بالکل الٹ جانب نماز پڑھ لی ہو تو معلوم ہو نے کے بعد نماز دہرا نی ہو گی ۔ عبارت یہ ہے ۔ قال : ولو افتتح الصلاة علی اجتھادہ ، ثم رأی القبلة فی غیرہ۔( موسوعة للامام الشافعی  ،باب فی من استبان الخطاء بعد الاجتھاد ، ج ثانی ، ص ١٠٦، نمبر ١٢٠٦)انکا استدلال یہ حدیث ہے  ۔   عن عبد اللہ بن عمر قال بین الناس بقباء فی صلوة الصبح اذ جاء ھم آت فقال ان رسول اللہ ۖ قد انزل علیہ اللیلة قرآن وقد امر ان یستقبل الکعبة فاستقبلوھا وکانت وجوھھم الی الشام فاستداروا الی الکعبة (بخاری شریف، باب ماجاء ومن لم یرالاعادة علی من سہی فصلی الی غیر القبلة ص٥٨ کتاب الصلوة نمبر ٤٠٣ مسلم شریف ، باب تحویل القبلة من القدس الی الکعبة ، ص ٢٠١ ، نمبر ٥٢٦  ١١٧٨) اس حدیث میں ہے کہ اھل مدینہ کا قبلہ پہلے بیت المقدس تھا ، جو مدینہ طیبہ سے شمال جانب ہے ، درمیان نماز میں قبلہ تبدل ہو کر بیت اللہ ہو گیا جو مدینہ طیبہ سے جنوب کی جانب ہے ، تو چونکہ قبلہ بالکل الٹ جانب ہو گیا اسی لئے وہ حضرات نماز ہی میں گھوم گئے ، اگر صرف دائیں یا بائیں جانب تھوڑا سا انحراف ہو تا تو وہ حضرات نماز میں نہ گھومتے ، اس سے معلوم ہوا کہ قبلہ بالکل الٹ جانب ہو تو نماز دہرانی ہو گی ۔
ترجمہ : ٢   ہم کہتے ہیں کہ اسکی وسعت میں تحری کی جانب متوجہ ہو نے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ۔ اور تکلیف وسعت کے ساتھ مقید ہے ۔ 
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے ۔،کہ اللہ کی جانب سے وسعت اور طاقت کے مطابق مکلف بنایا جاتا ہے  اوراس نمازی کے پاس تحری کر کے نمازپڑھنے کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہے اتناہی اسکی طاقت میں ہے اسلئے تحری ہی کا مکلف ہو گا ، پس جب تحری کر کے نماز پڑھ لی نماز ہو گئی اب غلطی جاننے کے بعد دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ اصل تو اوپر کی ترمذی والی حدیث ہے ۔ 
ترجمہ : (٢٤٨ )  اور اگر نماز میں ہی غلطی کا علم ہو گیا تو قبلے کی طرف گھوم جائے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter