١ وقال الشافعی یعیدہا اذا استدبرلتیقنہ بالخطا ٢ ونحن نقول لیس فی وسعہ الاالتوجہ الیٰ جہةالتحری والتکلیف مقید بالوسع (٢٤٨) وان علم ذٰلک فی الصلوٰة استدار الی القبلة
فصلی کل رجل منا علی حدة فجعل احدنا یخط بین یدیہ لنعلم امکنتنا فلما اصبحنا نظرناہ فاذا نحن قد صلینا علی غیر القبلة فذکرنا ذلک للنبی ۖ فقال قد اجزأت صلواتکم ۔ (سنن للبیھقی ، باب الاختلاف فی القبلة عند التحری ،ج ثانی، ص ١٦،نمبر ٢٢٣٥ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ،ص ٨٠ نمبر ٣٤٥) اس حدیث میں غلط قبلے کی طرف نماز پڑھی لیکن نہیں لوٹائی ۔
فائدہ : ترجمہ: ١ اور امام شافعی نے فرمایا کہ اگر قبلہ بالکل ہی پیچھے ہو گیا تو نماز لوٹائے گا ، غلطی کے یقینی ہو نے کی وجہ سے۔
تشریح : امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر عین قبلہ سے دائیں ، یا بائیں انحراف ہوا تو اس خطاء کے باوجود نماز جائز ہو جائے گی ۔ لیکن اگر خطاء یقینی ہو یعنی بالکل الٹ جانب نماز پڑھ لی ہو تو معلوم ہو نے کے بعد نماز دہرا نی ہو گی ۔ عبارت یہ ہے ۔ قال : ولو افتتح الصلاة علی اجتھادہ ، ثم رأی القبلة فی غیرہ۔( موسوعة للامام الشافعی ،باب فی من استبان الخطاء بعد الاجتھاد ، ج ثانی ، ص ١٠٦، نمبر ١٢٠٦)انکا استدلال یہ حدیث ہے ۔ عن عبد اللہ بن عمر قال بین الناس بقباء فی صلوة الصبح اذ جاء ھم آت فقال ان رسول اللہ ۖ قد انزل علیہ اللیلة قرآن وقد امر ان یستقبل الکعبة فاستقبلوھا وکانت وجوھھم الی الشام فاستداروا الی الکعبة (بخاری شریف، باب ماجاء ومن لم یرالاعادة علی من سہی فصلی الی غیر القبلة ص٥٨ کتاب الصلوة نمبر ٤٠٣ مسلم شریف ، باب تحویل القبلة من القدس الی الکعبة ، ص ٢٠١ ، نمبر ٥٢٦ ١١٧٨) اس حدیث میں ہے کہ اھل مدینہ کا قبلہ پہلے بیت المقدس تھا ، جو مدینہ طیبہ سے شمال جانب ہے ، درمیان نماز میں قبلہ تبدل ہو کر بیت اللہ ہو گیا جو مدینہ طیبہ سے جنوب کی جانب ہے ، تو چونکہ قبلہ بالکل الٹ جانب ہو گیا اسی لئے وہ حضرات نماز ہی میں گھوم گئے ، اگر صرف دائیں یا بائیں جانب تھوڑا سا انحراف ہو تا تو وہ حضرات نماز میں نہ گھومتے ، اس سے معلوم ہوا کہ قبلہ بالکل الٹ جانب ہو تو نماز دہرانی ہو گی ۔
ترجمہ : ٢ ہم کہتے ہیں کہ اسکی وسعت میں تحری کی جانب متوجہ ہو نے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ۔ اور تکلیف وسعت کے ساتھ مقید ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ۔،کہ اللہ کی جانب سے وسعت اور طاقت کے مطابق مکلف بنایا جاتا ہے اوراس نمازی کے پاس تحری کر کے نمازپڑھنے کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں ہے اتناہی اسکی طاقت میں ہے اسلئے تحری ہی کا مکلف ہو گا ، پس جب تحری کر کے نماز پڑھ لی نماز ہو گئی اب غلطی جاننے کے بعد دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ اصل تو اوپر کی ترمذی والی حدیث ہے ۔
ترجمہ : (٢٤٨ ) اور اگر نماز میں ہی غلطی کا علم ہو گیا تو قبلے کی طرف گھوم جائے ۔