Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

408 - 627
 ١ لان الصحابة تحرواوصلوا ولم ینکر علیہم رسول اللّٰہں   ٢ ولان العمل بالدلیل الظاہر واجب عند انعدام دلیل فوقہ والاستخبار فوق التحری (٢٤٧) فان علم انہ اخطأبعد ماصلی لا یعیدہا)

فی القبلة فصلی کل رجل منا علی حدة فجعل احدنا یخط بین یدیہ لنعلم امکنتنا فلما اصبحنا نظرناہ فاذا نحن قد صلینا علی غیر القبلة فذکرنا ذلک للنبی ۖ فقال قد اجزأت صلواتکم ۔ (سنن للبیھقی ، باب الاختلاف فی القبلة عند التحری ،ج ثانی، ص ١٦،نمبر ٢٢٣٥ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ،ص ٨٠ نمبر ٣٤٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تحری کرکے نماز پڑھی تو قبلہ غلط بھی ہو جائے تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ تحری ہی اس کا قبلہ ہو گیا۔
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ صحابہ  نے تحری فرمائی اور نماز پڑھی اور حضور  ۖ نے ان پر انکار نہیں فرمایا ۔۔حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن عامر بن ربیعة عن أبیہ قال : کنا مع النبی  ۖ فی سفر فی لیلة مظلمة ، فلم ندر أین القبلة فصلی کل رجل منا علی حیالہ ، فلما أصبحنا ذکرنا ذالک للنبی  ۖ فنزل : (فأینما تولوا فثم وجہ اللہ ) آیت ١١٥، سورة البقرة ٢ ) (  ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ،ص ٨٠ نمبر ٣٤٥ ابن ماجہ شریف ، باب من یصلی لغیر القبلة و ھو لا یعلم ، ص ١٤٣ ، نمبر ١٠٢٠) اس حدیث میں ہے کہ اند ھیری  رات میں قبلہ مشتبہ ہو گیا اور قبلے کا کچھ پتہ نہیں چلا تو صحابہ نے تحری کر کے نماز  پڑھی تو  آپ ۖ نے انکار نہیں  فرمایا بلکہ اسکے ٹھیک ہو نے پر آیت نازل ہوئی ، جس سے معلوم ہوا کہ اشتباہ کے وقت تحری ہی قبلہ ہے ۔  البتہ اگر تحری کئے بغیر نماز پڑھ لی تو نماز نہیں ہو گی ، نماز لوٹانی ہو گی ۔
ترجمہ : ٢   اسلئے کہ دلیل ظاہر پر عمل کر نا اس وقت واجب ہے جبکہ اس سے اوپر کی دلیل نہ ہو ۔اور لوگوں سے قبلہ کی خبر معلوم کر نا تحری سے اوپر ہے ۔
تشریح : یہ جملہ ( لیس بحضرتہ من یسألہ عنھا اجتھد ) کی تفسیر ہے ۔ تحری کر کے نماز پڑھنا یہ دلیل ظاہر ہے ۔ اور یہ کم درجے کی ہے ۔ اور کسی سے صحیح قبلہ کی خبر معلوم کر نا یہ دلیل ظاہر یعنی تحری سے اوپر کی چیز ہے ۔ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ قبلہ معلوم کر نے کی کوئی صورت نہ ہو اور نہ کوئی آدمی ہو جس سے قبلہ کے بارے میں پوچھ سکیں تب جاکر تحری سے نماز پڑھنا جائز ہو گی ۔ 
ترجمہ:  (٢٤٧)  پس اگر نماز پڑھنے کے بعد جانا کہ غلطی ہو گئی ہے تو نماز کو نہیں لو ٹائے گا ۔   
تشریح :  تحری کر کے نماز پڑھی تھی بعد میں معلوم ہوا کہ قبلہ کسی اور جانب تھا اور نماز دوسری جانب پڑھ لی ہے تو نماز کو دہرانے کی  ضرورت نہیں ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اوپر ترمذی شریف کی حدیث میں صحابہ  نے غلط قبلے کی طرف نماز پڑھی لیکن نماز نہیںلوٹائی ۔حدیث یہ ہے ۔  عن جابر قال کنا مع النبی ۖ فی مسیر او سریة فاصابنا غیم فتحرینا واختلفنا فی القبلة 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter