١ لان الصحابة تحرواوصلوا ولم ینکر علیہم رسول اللّٰہں ٢ ولان العمل بالدلیل الظاہر واجب عند انعدام دلیل فوقہ والاستخبار فوق التحری (٢٤٧) فان علم انہ اخطأبعد ماصلی لا یعیدہا)
فی القبلة فصلی کل رجل منا علی حدة فجعل احدنا یخط بین یدیہ لنعلم امکنتنا فلما اصبحنا نظرناہ فاذا نحن قد صلینا علی غیر القبلة فذکرنا ذلک للنبی ۖ فقال قد اجزأت صلواتکم ۔ (سنن للبیھقی ، باب الاختلاف فی القبلة عند التحری ،ج ثانی، ص ١٦،نمبر ٢٢٣٥ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ،ص ٨٠ نمبر ٣٤٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تحری کرکے نماز پڑھی تو قبلہ غلط بھی ہو جائے تو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ تحری ہی اس کا قبلہ ہو گیا۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ صحابہ نے تحری فرمائی اور نماز پڑھی اور حضور ۖ نے ان پر انکار نہیں فرمایا ۔۔حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن عامر بن ربیعة عن أبیہ قال : کنا مع النبی ۖ فی سفر فی لیلة مظلمة ، فلم ندر أین القبلة فصلی کل رجل منا علی حیالہ ، فلما أصبحنا ذکرنا ذالک للنبی ۖ فنزل : (فأینما تولوا فثم وجہ اللہ ) آیت ١١٥، سورة البقرة ٢ ) ( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل یصلی لغیر القبلة فی الغیم ،ص ٨٠ نمبر ٣٤٥ ابن ماجہ شریف ، باب من یصلی لغیر القبلة و ھو لا یعلم ، ص ١٤٣ ، نمبر ١٠٢٠) اس حدیث میں ہے کہ اند ھیری رات میں قبلہ مشتبہ ہو گیا اور قبلے کا کچھ پتہ نہیں چلا تو صحابہ نے تحری کر کے نماز پڑھی تو آپ ۖ نے انکار نہیں فرمایا بلکہ اسکے ٹھیک ہو نے پر آیت نازل ہوئی ، جس سے معلوم ہوا کہ اشتباہ کے وقت تحری ہی قبلہ ہے ۔ البتہ اگر تحری کئے بغیر نماز پڑھ لی تو نماز نہیں ہو گی ، نماز لوٹانی ہو گی ۔
ترجمہ : ٢ اسلئے کہ دلیل ظاہر پر عمل کر نا اس وقت واجب ہے جبکہ اس سے اوپر کی دلیل نہ ہو ۔اور لوگوں سے قبلہ کی خبر معلوم کر نا تحری سے اوپر ہے ۔
تشریح : یہ جملہ ( لیس بحضرتہ من یسألہ عنھا اجتھد ) کی تفسیر ہے ۔ تحری کر کے نماز پڑھنا یہ دلیل ظاہر ہے ۔ اور یہ کم درجے کی ہے ۔ اور کسی سے صحیح قبلہ کی خبر معلوم کر نا یہ دلیل ظاہر یعنی تحری سے اوپر کی چیز ہے ۔ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ قبلہ معلوم کر نے کی کوئی صورت نہ ہو اور نہ کوئی آدمی ہو جس سے قبلہ کے بارے میں پوچھ سکیں تب جاکر تحری سے نماز پڑھنا جائز ہو گی ۔
ترجمہ: (٢٤٧) پس اگر نماز پڑھنے کے بعد جانا کہ غلطی ہو گئی ہے تو نماز کو نہیں لو ٹائے گا ۔
تشریح : تحری کر کے نماز پڑھی تھی بعد میں معلوم ہوا کہ قبلہ کسی اور جانب تھا اور نماز دوسری جانب پڑھ لی ہے تو نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اوپر ترمذی شریف کی حدیث میں صحابہ نے غلط قبلے کی طرف نماز پڑھی لیکن نماز نہیںلوٹائی ۔حدیث یہ ہے ۔ عن جابر قال کنا مع النبی ۖ فی مسیر او سریة فاصابنا غیم فتحرینا واختلفنا فی القبلة