Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

380 - 627
لیقع علیٰ وجہ السنة(٢٢٧) ولا یؤذن لصلوٰة قبل دخول وقتہا ویعاد فی الوقت) 

تشریح : ۔ عورت اپنے لئے اذان دے تو بعض ائمہ کے یہاں گنجائش ہے ۔ انکی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن عائشة أنھا کانت توء ذن و تقیم و توء م النساء و تقوم وسطھن ۔ ( سنن  بیھقی ، باب أذان المرأة و اقامتھا لنفسھا و صواحبتھا ، ج اول ، ص ٦٠٠ ، نمبر ١٩٢٢  مصنف ابن ابی شیبة ، ٣٣ من قال علیھن أن یوء ذن  و یقمن ، ج اول ، ص ٢٠٢ ، نمبر ٢٣٢٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے اذان ، اور اقامت کہنے کی گنجائش ہے ۔ لیکن مرد کے ہوتے ہوئے عورت اذان کہے تو بہتر نہیں ہے اسلئے اسکو دہرا لے تو مستحب ہے ۔
وجہ :  یہ حدیث ہے ۔عن أسماء قالت قال رسول اللہ  ۖ : لیس علی النساء أذان و لا اقامة و لا جمعة و لا اغتسال جمعة و لا تقدمھن امرأة و لکن تقوم وسطھن ۔ ( سنن  بیھقی ، باب لیس علی النساء أذان و لا اقامة ، ج اول ، ص ٦٠٠ ، نمبر ١٩٢١  مصنف ابن ابی شیبة ، ٣٢  فی النساء من قال لیس علیھن اذان و لا اقامة  ، ج اول ، ص ٢٠٢ ، نمبر ٢٣١٣)  اس حدیث میں ہے کہ عورتوں پر اذان نہیں ہے اسلئے اسکی اذان مردوں کے لئے مکروہ ہے اسلئے لوٹا لے تو بہتر ہے ۔
ترجمہ  :(٢٢٧)  نہیں اذان دی جائے نماز کے لئے اس کے وقت سے پہلے، اور وقت آنے پر لوٹائی جائے ۔
تشریح :امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کی رائے یہ ہے کہ کسی بھی نماز میں وقت سے پہلے اذان صحیح نہیں ہے ۔ اور اگر اذان دے دی تو دوبارہ لوٹائی جائیگی ۔
 وجہ:  (١) اذان دینے کا مقصد وقت بتانا ہے۔ لیکن وقت سے پہلے اذان دینے سے وقت کی تجہیل ہوگی ۔اس لئے وقت سے پہلے اذان نہ دی جائے (٢)مدینہ طیبہ میں فجر کی اذان وقت سے پہلے دی جاتی تھی وہ تہجد والوں کو بیدار کرنے کے لئے اور جو تہجد پڑھ چکے ہیں ان کو آرام کرنے کی اطلاع دینے کے لئے تھی۔چنانچہ مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کی طرح تہجد پڑھنے والے کثرت سے ہوں تو ان کو بیدار کرنے کے لئے اذان دی جا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فجر کی نماز کے لئے عبد اللہ بن مکتوم دوسری اذان دیا کرتے تھے۔ حدیث میں ہے  عن عبد اللہ بن مسعود عن النبی ۖ قال لایمنعن احدکم او احدا منکم اذان بلال من سحورہ فانہ یؤذن او ینادی بلیل لیرجع قائمکم ولینبہ نائمکم ۔  (بخاری شریف، باب الاذان قبل الفجر ص ٨٧ نمبر ٦٢١ نسائی شریف ، باب الاذان فی غیر وقت الصلوہ ص ٧٥ نمبر ٦٤٢)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات میں حضرت بلال کی اذان فجر کی نماز کے لئے نہیں تھی،تہجد والوں کو بیدار کرنے کے لئے تھی۔اسی لئے نماز کے وقت حضرت عبد اللہ ابن مکتوب دو بارہ اذان دیا کرتے تھے۔حدیث میں ہے(٣) عن عائشة عن النبی ۖ انہ قال ان بلالا یؤذن بلیل فکلوا واشربوا حتی یؤذن  ابن ام مکتوم۔ (بخاری شریف ، باب الاذان قبل الفجر ص ٨٧ نمبر ٦٢٢ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الاذان باللیل ص ٥٠ نمبر ٢٠٣) (٤) وقت سے پہلے اذان  دینے سے اذان لوٹا نی پڑے گی حدیث میں ہے  عن ابن عمر ان بلالا اذن بلیل 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter