Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

379 - 627
٤ اما الاول فلخفة الحدث، ٥   واما الثانی ففی الاعادة بسبب الجنابة روایتان ٦ والاشبہ ان یعاد الاذان دون الاقامة لان تکرار الاذان مشروع دون الاقامة  ٧ وقولہ ان لم یعد اجزاہ یعنی الصلوٰة لانہا جائزة بدون الاذان والاقامة، (٢٢٦) قال:  وکذلک المرأة تؤذن)   ١  معناہ یستحب ان یعاد 

أن یعید ۔(جامع صغیر باب الاذان ، ص ٨٤ ، )  اسکا حاصل یہ ہے کہ بغیر وضو کے اذان دی ، یا اقامت کہی تو اذان اور اقامت ہو گئی ، اسلئے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ بغیر کراہیت کے ہو گئی ہے  لیکن جنابت کی حالت میں اذان ، یا اقامت کہی تو کراہیت کے ساتھ ہوئی ، اسلئے بہتر یہ ہے کہ دونوں کو لوٹالے ، کیونکہ کراہیت کے ساتھ ہوئی ہے ۔ تا ہم اگر نہیں لوٹائی تو ہو گئی ہے اسلئے کافی ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ : ٤   بہر حال پہلا یعنی وضو ، تو حدث کے ہلکے ہو نے کی وجہ سے ۔ 
تشریح :  پہلے سے مراد ہے کہ بغیر وضو کے اذان ، یا اقامت کہی تو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے اسلئے کہ یہ حدث شدید نہیں ہے خفیف ہے۔ 
ترجمہ : ٥   بہر حال دوسرا ، تو جنابت کے سبب سے لوٹانے میں دو روایتیں ہیں ۔
تشریح :  دوسرا سے مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں اذان ، یا اقامت کہی تو  دونوں کو لوٹائے یا نہیں اس بارے میں دو روایتیں ہیں ۔ ظاہری روایت یہ ہے کہ لوٹانا مستحب ہے اور امام کرخی  کی روایت میں ہے کہ لوٹا نا واجب ہے ۔ 
ترجمہ:  ٦   فقہ سے لگتی ہوئی بات یہ ہے کہ اذان لوٹائے ، اقامت نہ لوٹائے ، اسلئے کہ اذان میں تکرار مشروع ہے اقامت میں نہیں ۔
تشریح :  جنابت کی حالت میں اذان ، یا اقامت کہہ دی تو مکروہ تو دونوں ہوئے ، البتہ فقہ سے مناسب بات یہ ہے کہ اذان دہرا لے ، کیونکہ اذان میںتکرار مشروع ہے ۔ کیونکہ جمعہ میں دو مرتبہ اذان دی جاتی ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے یہاں بھی دو مرتبہ اذان ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن اقامت نہ دہرائے ، کیونکہ ایک ہی نماز میں دو مرتبہ اقامت کہنے کی مثال نہیں ہے ۔
ترجمہ : ٧   اور جامع صغیر کا یہ قول    ۔وان لم یعد اجزاہ ۔کہ اذان ،یا اقامت نہ لوٹائے تب بھی کافی ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ نماز جائز ہو جائے گی ۔ اسلئے نماز  بغیر اذان اور اقامت کے بھی جائز ہو جاتی ہے ۔
تشریح :  اتنی سی بات ہے کہ بغیر اذان ، اور بغیر اقامت کے نماز پڑھے گا تو خلاف سنت ہو گی ۔ اسلئے نماز جائز ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ:  (٢٢٦)  جامع صغیر میں فرمایا کہ ایسے ہی عورت اذان دے تو لوٹائی جائے گی ۔  
ترجمہ:  ١   اسکا معنی یہ ہے کہ مستحب یہ ہے کہ لوٹالے تاکہ اذان سنت کے طریقے پر واقع ہو ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter