٤ اما الاول فلخفة الحدث، ٥ واما الثانی ففی الاعادة بسبب الجنابة روایتان ٦ والاشبہ ان یعاد الاذان دون الاقامة لان تکرار الاذان مشروع دون الاقامة ٧ وقولہ ان لم یعد اجزاہ یعنی الصلوٰة لانہا جائزة بدون الاذان والاقامة، (٢٢٦) قال: وکذلک المرأة تؤذن) ١ معناہ یستحب ان یعاد
أن یعید ۔(جامع صغیر باب الاذان ، ص ٨٤ ، ) اسکا حاصل یہ ہے کہ بغیر وضو کے اذان دی ، یا اقامت کہی تو اذان اور اقامت ہو گئی ، اسلئے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ بغیر کراہیت کے ہو گئی ہے لیکن جنابت کی حالت میں اذان ، یا اقامت کہی تو کراہیت کے ساتھ ہوئی ، اسلئے بہتر یہ ہے کہ دونوں کو لوٹالے ، کیونکہ کراہیت کے ساتھ ہوئی ہے ۔ تا ہم اگر نہیں لوٹائی تو ہو گئی ہے اسلئے کافی ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ٤ بہر حال پہلا یعنی وضو ، تو حدث کے ہلکے ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : پہلے سے مراد ہے کہ بغیر وضو کے اذان ، یا اقامت کہی تو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے اسلئے کہ یہ حدث شدید نہیں ہے خفیف ہے۔
ترجمہ : ٥ بہر حال دوسرا ، تو جنابت کے سبب سے لوٹانے میں دو روایتیں ہیں ۔
تشریح : دوسرا سے مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں اذان ، یا اقامت کہی تو دونوں کو لوٹائے یا نہیں اس بارے میں دو روایتیں ہیں ۔ ظاہری روایت یہ ہے کہ لوٹانا مستحب ہے اور امام کرخی کی روایت میں ہے کہ لوٹا نا واجب ہے ۔
ترجمہ: ٦ فقہ سے لگتی ہوئی بات یہ ہے کہ اذان لوٹائے ، اقامت نہ لوٹائے ، اسلئے کہ اذان میں تکرار مشروع ہے اقامت میں نہیں ۔
تشریح : جنابت کی حالت میں اذان ، یا اقامت کہہ دی تو مکروہ تو دونوں ہوئے ، البتہ فقہ سے مناسب بات یہ ہے کہ اذان دہرا لے ، کیونکہ اذان میںتکرار مشروع ہے ۔ کیونکہ جمعہ میں دو مرتبہ اذان دی جاتی ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے یہاں بھی دو مرتبہ اذان ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن اقامت نہ دہرائے ، کیونکہ ایک ہی نماز میں دو مرتبہ اقامت کہنے کی مثال نہیں ہے ۔
ترجمہ : ٧ اور جامع صغیر کا یہ قول ۔وان لم یعد اجزاہ ۔کہ اذان ،یا اقامت نہ لوٹائے تب بھی کافی ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ نماز جائز ہو جائے گی ۔ اسلئے نماز بغیر اذان اور اقامت کے بھی جائز ہو جاتی ہے ۔
تشریح : اتنی سی بات ہے کہ بغیر اذان ، اور بغیر اقامت کے نماز پڑھے گا تو خلاف سنت ہو گی ۔ اسلئے نماز جائز ہو جائے گی ۔
ترجمہ: (٢٢٦) جامع صغیر میں فرمایا کہ ایسے ہی عورت اذان دے تو لوٹائی جائے گی ۔
ترجمہ: ١ اسکا معنی یہ ہے کہ مستحب یہ ہے کہ لوٹالے تاکہ اذان سنت کے طریقے پر واقع ہو ۔