(٢٢٥) ویکرہ ان یؤذن وہو جنب) ١ روایةً واحدة ٢ ووجہ الفرق علیٰ احدی الروایتین ہوان للاذان شبہا بالصلوٰة فیشترط الطہارة عن اغلظ الحدیث دون اخفہما عملاً بالشبہین ٣ وفی الجامع الصغیر اذا اذن علیٰ غیر وضوء واقام لایعید والجنب احب الیّ ان یعیدوان لم یعد اجزاہ
، ص ١٩٢ ، نمبر ٢١٩٦ عن عطاء أنہ کرہ أن یوء ذن الرجل و ھو علی غیر وضوئ مصنف عبد الرزاق ، باب الاذان علی غیر وضوء ، ج اول ، ص ٤٦٥ ، نمبر ١٧٩٩) اس اثر میں ہے کہ بغیر وضو کے اذان مکروہ ہے ۔ (٣) اور حدیث بھی گزر چکی کہ بغیر وضو کے اذان نہ دے ۔ عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یؤذن الا متوضیٔ ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی کراہیة الاذان بغیر وضوء ص ٥٠ نمبر ٢٠٠) اسلئے مکروہ ہے ۔
ترجمہ: (٢٢٥) اور مکروہ ہے کہ جنابت کی حالت میں اذان دے ۔
ترجمہ: ١ یہ ایک روایت ہے ۔
وجہ: جب بغیر وضو کے اذان دینا مکروہ ہے تو جنابت کی حالت میں اذان دینا بدرجۂ اولی مکروہ ہوگا (٢) عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یؤذن الا متوضیٔ ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی کراہیة الاذان بغیر وضوء ص ٥٠ نمبر ٢٠٠) اسلئے جنابت کی حالت میں بدرجہ اولی مکروہ ہو گا ۔
ترجمہ: ٢ دو روایتوں میں سے ایک کے مطابق فرق کی وجہ یہ ہے کہ اذان کو نماز کی بھی مشابہت ہے اسلئے دو حدثوں میں سے اغلظ سے پاکی کی شرط لگائی جائے گی نہ کہ اخف کی دونوں مشابہتوں پر عمل کر تے ہوئے ۔
تشریح : اوپر وضو کے بارے میں دو روایتیں گزریں، ایک تو یہ کہ بغیر وضو کے اذان میں کوئی حرج نہیں ، البتہ اچھا نہیں ہے ، اور دوسری رویت یہ ہے کہ بغیر وضو کے اذان مکروہ ہے ، جس میں ہے کہ کوئی حرج نہیںاس روایت کے سلسلے میں یہ فرق بتا رہے ہیں کہ بغیر وضو کے اذان کیوں جائز ہے اور جنابت کی حالت میں مکروہ کیوں ہے ؟ فرماتے ہیں۔ اذان کی دو حیثیتیں ہیں ۔ (١) ایک تو یہ کہ یہ حقیقت میں نماز نہیں ہے اسلئے اس میں اخف طھارت یعنی وضو کی ضرورت نہیں ۔ اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ یہ نماز کے مشابہ ہے کیونکہ اس میں تکبیر وغیرہ ہے اسلئے اغلظ طھارت یعنی جنابت سے پاک ہو نا چاہئے ۔ اس طرح اذان عملا دونوں کے مشابہ ہو گیا ، یعنی نماز ہے بھی اور نہیں بھی ہے ۔یہ دلیل عقلی ہے ، اصل تو اوپر کی حدیث اور اثر ہے جس سے جنابت کی حالت میں اذان مکروہ ہے ۔
ترجمہ : ٣ اور جامع صغیر میں ہے کہ اگر بغیر وضو کے اذان دی اور اقامت کہی تو نہ لوٹائے ، اور جنابت کی حالت میں اذان یا اقامت کہی تو پسندیدہ یہ ہے کہ لو ٹا لے ۔ پھر بھی اگر نہیں لو ٹا یا تو کافی ہے ۔
تشریح : جامع صغیر میں عبارت یہ ہے ۔ موء ذن أذن علی غیر وضوء و أقام قال : لا یعید ، و الجنب أحب الی