Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

377 - 627
 ١ لانہ ذکر ولیس بصلوٰة فکان الوضوء فیہ استحبابا کما فی القراء ة  (٢٢٤)  ویکرہ ان یقیم علی غیر وضوئ)  ١  لما فیہ من الفصل بین الاقامة  والصلوٰة  ٢ ویروی انہ لاتکرہ الاقامة ایضًا لانہ  احدالاذانین ٣  ویروی انہ یکرہ الاذان ایضا لانہ یصیر داعیًا الٰی مالا یجیب بنفسہ، 

ترجمہ:   ١    اسلئے کہ اذان ذکر ہے نماز نہیں ہے اسلئے وضو اس میں مستحب ہے ، جیسے کہ قرآن پڑھنے میں وضو مستحب ہے ۔
ترجمہ  (٢٢٤)  اور مکروہ ہے کہ اقامت کہے بغیر وضو کے۔  
تشریح :  حدث کی  حالت ہلکی ناپاکی ہے اسلئے اذان میں اتنا حرج نہیں ، کیونکہ اسکے بعد جا کر وضو کر سکتا ہے ۔ لیکن اقامت کے بعد فورا نماز ہے اسلئے اقامت بغیر وضو کے مکروہ ہو گی ، البتہ ہو جائے گی ۔ اور جنابت کی حالت غلیظ نا پاکی ہے اسلئے اذان مکروہ ہو گی ، اور اقامت تو کچھ زیادہ ہی مکروہ   ہو گی ، تاہم اگر نہیں لوٹایا تو نماز بہر حال ہو جائے گی کیونکہ نماز بغیر اذان اور اقامت کے بھی ہو جاتی ہے ۔ اسی قاعدے پر آگے کے مسئلوں کی تفصیل ہے ۔ 
وجہ :  (١)اوپر گزر چکی ہے کہ دوسروں کو نماز کی طرف بلائے اور خود نماز چھوڑ کر وضو کے لئے جائے تو کتنی بری بات ہے؟(٢) اقامت بھی اذان کا ہی حصہ ہے اور جب اذان بغیر وضو کے نہ دے تو اقامت تو بدرجہ اولی بغیر وضو کے نہ دے ، اسکے لئے حدیث یہ گزری ۔  عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یؤذن الا متوضیٔ ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی کراہیة الاذان بغیر وضوء ص ٥٠ نمبر ٢٠٠) 
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ وضو نہ کر نے کی صورت میں اقامت اور نماز کے درمیان فصل پیدا ہو گا ۔
تشریح :  اقامت بغیر وضو کے کہے گا تو اسکے بعد وضو کر نے جائے گا تو اقامت اور نماز کے درمیان کافی فاصلہ ہو جائے گا جو اچھی بات نہیں ہے ، اسلئے اقامت بغیر وضو کے ہو تو جائے گی البتہ مکروہ ہے ۔
ترجمہ:  ٢   اور روایت یہ بھی ہے کہ کہ اقامت بھی مکروہ نہیں ہے ، اسلئے کہ وہ بھی دو اذان میں سے ایک ہے ۔
تشریح :  ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس طرح  بغیر وضو کے اذان دینا مکروہ نہیں ، البتہ اچھا نہیں ہے اسی طرح بغیر وضو کے اقامت کہنا مکروہ نہیں ہے البتہ اچھا نہیںہے ۔ اور اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ بھی ایک قسم کی اذان ہی ہے ، اور اذان مکروہ نہیں تو یہ بھی مکروہ نہیں ہے ۔ 
ترجمہ  :٣   اور یہ بھی روایت ہے کہ اذان بھی مکروہ ہے ، اسلئے کہ وہ ایسی چیز کی طرف بلانے والا ہو گا جو وہ خود نہیں کر رہا ہے ۔
تشریح :  اس روایت میں یہ ہے کہ اذان بھی بغیر وضو دینا مکروہ ہے ۔  (١)اسکی وجہ یہ ہے کہ اذان کے ذریعہ لوگوں کو بلا رہا ہے اور خود وضو کر نے جا رہا ہے ، اسلئے مکروہ ہے ۔(٢) اثر میں ہے ۔۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٠ من کرہ أن یوذن وھو غیر طاھر ، ج اول 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter