١ لانہ ذکر ولیس بصلوٰة فکان الوضوء فیہ استحبابا کما فی القراء ة (٢٢٤) ویکرہ ان یقیم علی غیر وضوئ) ١ لما فیہ من الفصل بین الاقامة والصلوٰة ٢ ویروی انہ لاتکرہ الاقامة ایضًا لانہ احدالاذانین ٣ ویروی انہ یکرہ الاذان ایضا لانہ یصیر داعیًا الٰی مالا یجیب بنفسہ،
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اذان ذکر ہے نماز نہیں ہے اسلئے وضو اس میں مستحب ہے ، جیسے کہ قرآن پڑھنے میں وضو مستحب ہے ۔
ترجمہ (٢٢٤) اور مکروہ ہے کہ اقامت کہے بغیر وضو کے۔
تشریح : حدث کی حالت ہلکی ناپاکی ہے اسلئے اذان میں اتنا حرج نہیں ، کیونکہ اسکے بعد جا کر وضو کر سکتا ہے ۔ لیکن اقامت کے بعد فورا نماز ہے اسلئے اقامت بغیر وضو کے مکروہ ہو گی ، البتہ ہو جائے گی ۔ اور جنابت کی حالت غلیظ نا پاکی ہے اسلئے اذان مکروہ ہو گی ، اور اقامت تو کچھ زیادہ ہی مکروہ ہو گی ، تاہم اگر نہیں لوٹایا تو نماز بہر حال ہو جائے گی کیونکہ نماز بغیر اذان اور اقامت کے بھی ہو جاتی ہے ۔ اسی قاعدے پر آگے کے مسئلوں کی تفصیل ہے ۔
وجہ : (١)اوپر گزر چکی ہے کہ دوسروں کو نماز کی طرف بلائے اور خود نماز چھوڑ کر وضو کے لئے جائے تو کتنی بری بات ہے؟(٢) اقامت بھی اذان کا ہی حصہ ہے اور جب اذان بغیر وضو کے نہ دے تو اقامت تو بدرجہ اولی بغیر وضو کے نہ دے ، اسکے لئے حدیث یہ گزری ۔ عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یؤذن الا متوضیٔ ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی کراہیة الاذان بغیر وضوء ص ٥٠ نمبر ٢٠٠)
ترجمہ: ١ اسلئے کہ وضو نہ کر نے کی صورت میں اقامت اور نماز کے درمیان فصل پیدا ہو گا ۔
تشریح : اقامت بغیر وضو کے کہے گا تو اسکے بعد وضو کر نے جائے گا تو اقامت اور نماز کے درمیان کافی فاصلہ ہو جائے گا جو اچھی بات نہیں ہے ، اسلئے اقامت بغیر وضو کے ہو تو جائے گی البتہ مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور روایت یہ بھی ہے کہ کہ اقامت بھی مکروہ نہیں ہے ، اسلئے کہ وہ بھی دو اذان میں سے ایک ہے ۔
تشریح : ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس طرح بغیر وضو کے اذان دینا مکروہ نہیں ، البتہ اچھا نہیں ہے اسی طرح بغیر وضو کے اقامت کہنا مکروہ نہیں ہے البتہ اچھا نہیںہے ۔ اور اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ بھی ایک قسم کی اذان ہی ہے ، اور اذان مکروہ نہیں تو یہ بھی مکروہ نہیں ہے ۔
ترجمہ :٣ اور یہ بھی روایت ہے کہ اذان بھی مکروہ ہے ، اسلئے کہ وہ ایسی چیز کی طرف بلانے والا ہو گا جو وہ خود نہیں کر رہا ہے ۔
تشریح : اس روایت میں یہ ہے کہ اذان بھی بغیر وضو دینا مکروہ ہے ۔ (١)اسکی وجہ یہ ہے کہ اذان کے ذریعہ لوگوں کو بلا رہا ہے اور خود وضو کر نے جا رہا ہے ، اسلئے مکروہ ہے ۔(٢) اثر میں ہے ۔۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٠ من کرہ أن یوذن وھو غیر طاھر ، ج اول