١ لان الاذان للاستحضاروہم حضور ٢ قال وعن محمدانہ یقام لما بعدہا قالوا یجوز ان یکون ہذا قولہم جمیعا، (٢٢٣) وینبغی ان یؤذن ویقیم علیٰ طہر فان اذن علی غیر وضوء جاز)
چاہے تو اقامت پر اکتفاء کرے
تشریح : بہت سی نماز فوت ہو گئی ہوں تو دو قسم کے اختیار ہیں ، ایک تو ہر ایک کے لئے اذان دے اور ہر ایک کے لئے اقامت کہے ، اور یہ بھی ہے کہ پہلی کے لئے اذان دے اور باقی ہر ایک کے لئے اقامت کہے ۔
وجہ : ہر ایک کے لئے اذان دینے کی وجہ یہ بتائی کہ ادا نماز میں ہر ایک کیلئے اذان دیتے ہیں تو قضا نماز میں بھی ہر ایک کے لئے اذان دے تاکہ قضا نماز ادا کے مطابق ہو جائے ۔
اور پہلی نمازکے لئے اذان دے اور باقی کے لئے صرف اقامت کہے ، اسکی وجہ اوپر حدیث گزر چکی کہ غزوہ خندق کے موقع پر ایک نماز کے لئے اذان دی اور باقی کے لئے اقامت کہی ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ اذان لوگوں کو حاضر کر نے لئے ہے ، اور یہاں سب لوگ حاضر ہی ہیں ۔ (اسلئے دوبارہ اذان دینے کی ضرورت نہیں۔)
ترجمہ: ٢ ا ور امام محمد سے روایت ہے کہ باقی کے لئے بھی صرف اقامت ہی کہی جائے گی ۔ علماء فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سبھی ائمہ کا قول ہو ۔
تشریح : امام محمد سے روایت ہے کہ صرف پہلی کے لئے اذان دی جائے اور باقی ہر ایک کے لئے صرف اقامت کہی جائے ۔ امام ابو بکر رازی نے فرمایا کہ حنفیہ کے تینوں اماموں کا قول یہی ہے ۔ اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسکے مطابق اوپر کی حدیث بھی ہے ۔
ترجمہ : (٢٢٣) مناسب ہے کہ اذان اور اقامت وضو کے ساتھ کہے۔پس اگر اذان بغیر وضو کے دیدی تو جائز ہے۔
وجہ : (١) اذان میں نماز کی طرف بلانا ہے اور ذکر ہے اس لئے وضو کے ساتھ اذان کہے ۔اور اقامت کے بعد تو نماز ہی پڑھنا ہے تو دوسرے لوگ نماز میں مشغول ہوں اور خود نماز کی طرف بلانے والا وضو کرنے جائے تو کتنا برا معلوم ہوگا !۔اس لئے اقامت بغیر وضو کے کہنا مکروہ ہے۔البتہ اگر کہہ دیا تو اقامت ادا ہو جائے گی(٢) حدیث میں ہے عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یؤذن الا متوضیٔ ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی کراہیة الاذان بغیر وضوء ص ٥٠ نمبر ٢٠٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر وضو کے اذان اور اقامت کہنا اچھا نہیں ۔(٢) اور اذان دینا جائز ہے اسکی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن ابراھیم قال : لا بأس أن یوء ذن علی غیر وضو ء ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٩ فی الموء ذن یوء ذن و ھو علی غیر وضوء ، ج اول ، ص ١٩١ ، نمبر ٢١٨٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ اذان بغیر وضو کے دے تو جائز ہے ۔