Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

376 - 627
١  لان الاذان للاستحضاروہم حضور ٢  قال وعن محمدانہ یقام لما بعدہا قالوا یجوز ان یکون ہذا قولہم جمیعا،  (٢٢٣) وینبغی ان یؤذن ویقیم علیٰ طہر فان اذن علی غیر وضوء  جاز)
 
چاہے تو اقامت پر اکتفاء کرے 
تشریح :  بہت سی نماز فوت ہو گئی ہوں تو دو قسم کے اختیار ہیں ، ایک تو ہر ایک کے لئے اذان دے اور ہر ایک کے لئے اقامت کہے ، اور یہ  بھی ہے کہ پہلی کے لئے اذان دے اور باقی  ہر ایک کے لئے اقامت کہے ۔
 وجہ :  ہر ایک کے لئے اذان دینے کی وجہ یہ بتائی کہ ادا نماز میں ہر ایک کیلئے اذان دیتے ہیں  تو قضا نماز میں بھی ہر ایک کے لئے اذان دے تاکہ قضا نماز ادا کے مطابق ہو جائے ۔
اور پہلی نمازکے لئے اذان دے اور باقی کے لئے صرف اقامت کہے ، اسکی وجہ اوپر حدیث گزر چکی کہ غزوہ خندق کے موقع پر ایک نماز کے لئے اذان دی اور باقی کے لئے اقامت کہی ۔
ترجمہ : ١   اسلئے کہ اذان لوگوں کو حاضر کر نے لئے ہے ، اور یہاں سب لوگ حاضر ہی ہیں ۔  (اسلئے دوبارہ اذان دینے کی ضرورت نہیں۔)
ترجمہ:  ٢   ا ور امام محمد  سے روایت ہے کہ باقی کے لئے بھی صرف اقامت ہی کہی جائے گی ۔ علماء فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ سبھی ائمہ کا قول ہو ۔
تشریح :  امام محمد  سے روایت ہے کہ صرف پہلی کے لئے اذان دی جائے اور باقی ہر ایک کے لئے صرف اقامت کہی جائے ۔ امام ابو بکر رازی  نے فرمایا کہ حنفیہ کے تینوں اماموں کا قول یہی ہے ۔ اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسکے مطابق اوپر کی حدیث بھی ہے ۔  
ترجمہ : (٢٢٣)  مناسب ہے کہ اذان اور اقامت وضو کے ساتھ کہے۔پس اگر اذان بغیر وضو کے دیدی تو جائز ہے۔  
وجہ : (١) اذان میں نماز کی طرف بلانا ہے اور ذکر ہے اس لئے وضو کے ساتھ اذان کہے ۔اور اقامت کے بعد تو نماز ہی پڑھنا ہے تو دوسرے لوگ نماز میں مشغول ہوں اور خود نماز کی طرف بلانے والا وضو کرنے جائے تو کتنا برا معلوم ہوگا !۔اس لئے اقامت بغیر وضو کے کہنا مکروہ ہے۔البتہ اگر کہہ دیا تو اقامت ادا ہو جائے گی(٢) حدیث میں ہے  عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال لا یؤذن الا متوضیٔ ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی کراہیة الاذان بغیر وضوء ص ٥٠ نمبر ٢٠٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغیر وضو کے اذان اور اقامت کہنا اچھا نہیں ۔(٢) اور اذان دینا جائز ہے اسکی دلیل یہ اثر ہے ۔ عن ابراھیم قال : لا بأس أن یوء ذن علی غیر وضو ء ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٩ فی الموء ذن یوء ذن و ھو علی غیر وضوء ، ج اول ، ص ١٩١ ، نمبر ٢١٨٩)  اس اثر سے معلوم ہوا کہ اذان بغیر وضو کے دے تو جائز ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter