فی اکتفائہ بالاقامة (٢٢١) فان فاتتہ صلوٰت اذن للاولیٰ واقام) ١ لما روینا (٢٢٢) وکان مخیّرًا فی الباقی ان شاء اذن واقام ( ١ لیکون القضاء علی حسب الادائ) وان شاء اقتصر علی الاقامة )
وجہ : تعریس : کا ترجمہ ہے مسافر کا رات کے آخیر میں آرام کے لئے اترنا ، لیلة التعریس کا ترجمہ ہو گا مسافر جو رات کے آخیر میں آرام کے لئے اترے تھے اسکا واقعہ ۔ یہ غزوہ خیبر میں پیش آیا تھا ۔
ترجمہ : ٢ اور یہ امام شافعی پر حجت ہے صرف اقامت پر اکتفا ء کر نے کے سلسلے میں ۔
امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ فوت شدہ نماز کے لئے صرف اقامت کہی جائے گی ، اور اذان نہیں کہی جائے گی ۔
وجہ : انکی دلیل یہ حدیث ہے جس میں فوت شدہ نماز کے لئے صرف اقامت کہی گئی ہے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ھریرة حین قفل من غزوة خیبر سار لیلة ۔۔....ثم توضأ رسول اللہ ۖ ، و امر بلالا فأقام الصلوة فصلی بھم الصبح ۔ ( مسلم شریف ، باب قضاء الصلوة الفائتة و استحباب تعجیل قضائھا ، ص ٢٣٨، نمبر ٦٨٠ ١٥٦٠) اس حدیث میں صرف اقامت کا تذکرہ ہے اسلئے امام شافعی کے نزیک فائتہ نماز کے لئے صرف اقامت کہی جائے گی ۔۔ ہماری اوپر کی حدیث انکے خلاف حجت ہے ۔
ترجمہ: (٢٢١) بہت سی فائتہ نمازوں میں پہلی کے لئے اذان دے اور اقامت کہے۔
ترجمہ: ١ اس حدیث کی بنا پر جو میں نے پہلے روایت کی۔
تشریح: اور اگر بہت سی نمازیں ہوں تو اختیار ہے چاہے ہر ایک کے لئے اذان دے اور ہر ایک کے لئے اقامت کہے اور چاہے تو صرف پہلی کے لئے اذان دے اور باقی ہر ایک کے لئے اقامت کہے۔
وجہ: اوپر کی حدیث یہ ہے ۔ قال عبد اللہ ان المشرکین شغلوا رسول اللہ ۖ عن اربع صلوات یوم الخندق حتی ذھب من اللیل ماشاء اللہ فامر بلالا فاذن ثم اقام فصلی الظہر ثم اقام فصلی العصر ثم اقام فصلی المغرب ثم اقام فصلی العشاء (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل تفوتہ الصلوات بایتھن یبدأ ص ٤٣ نمبر ١٧٩ نسائی شریف ، باب کیف یقضی الفوائت من الصلوة ص ٧٢ نمبر ٦٢٣) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ اذان دے اور باقی کے لئے اقامت کہے۔
(٢)اذان کامقصد لوگوں کو باہر سے بلانا ہے اور ہر ایک اذان میں سب جمع ہو چکے ہیں اس لئے باقی نمازوں کے لئے اذان دینے کی چنداں حاجت نہیں ہے۔
ترجمہ: (٢٢٢) اور اختیار ہے باقی میںچاہے تو اذان دے اور اقامت کہے ( ١ تاکہ قضا ادا کے مطابق ہو جائے ) اور