٦ قال یعقوب رأیت ابا حنیفة یؤذن فی المغرب ویقیم ولایجلس بین الاذان والاقامة وہذا یفید ما قلناہ ٧ وان المستحب کون المؤذن عالما بالسنة لقولہ ں ویؤذن لکم خیارکم(٢٢٠) ویؤذن للفائتة ویقیم ) ١ لانہ ںقضی الفجر غداة لیلة التعریس باذان واقامة ٢ وہو حجة علی الشافعی
سنة ۔ ( ابو داود شریف ، باب الصلاة قبل المغرب ، ص ١٩٢، نمبر١٢٨١ بخاری شریف ، باب کم بین الاذان و الاقامة و من ینتظر اقامة الصلاة ، ص ٨٧، نمبر ٦٢٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھے (٢) حدیث میں ہے ۔ عن عبد اللہ بن مغفل عن النبی ۖ قال : بین کل اذانین صلوة لمن شاء ۔ ( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الصلوة قبل المغرب ، ص ٤٥، نمبر ١٨٥) اس حدیث میں ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفل ہے اسلئے نفل پڑھ کر فصل کرے ۔
ترجمہ: ٦ یعقوب یعنی حضرت امام ابو یوسف نے فرمایا کہ میں نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا کہ مغرب کی اذان دیتے اور اقامت کہتے اور اذان اور اقامت کے درمیان نہیں بیٹھتے ، اور یہ وہی بات ہے جو امام ابو حنیفہ نے اوپر کہی ۔یہ عبارت جامع صغیر ، باب الاذان ، ص ٨٤ ، کی ہے
ترجمہ: ٧ اور مستحب یہ ہے کہ موء ذن سنت کو جاننے والا ہو ۔ حضور کے قول کی وجہ سے کہ تمہارے لئے تم میں سے اچھا آدمی اذان دے ۔
تشریح : اذان کے سنتوں اور مسائل سے واقف ہو ایسا آدمی اذان دے تو بہتر اور مستحب ہے ۔ اسلئے کہ حدیث میں ہے کہ تم سے جو دین کے اعتبار سے اچھا آدمی ہو وہ آذان دے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس قال : قال رسول اللہ ۖ : لیوء ذن لکم خیارکم و لیوء مکم قراوء کم ۔ (ابوداود شریف ، باب من أحق بالامامة ، ٩٤ ، نمبر ٥٩٠ ابن ماجہ شریف ، باب فضل الاذان و ثواب الموء ذنین ، ص ١٠٤، نمبر ٧٢٦ ) اس حدیث میں ہے کہ تم میں سے جو اچھا ہو وہ اذان دے ۔
ترجمہ: (٢٢٠) اذان دے گا فوت شدہ نماز کے لئے اور اقامت کہے گا ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ حضور علیہ السلام نے لیلة التعریس کی صبح کو فجر قضا کی اذان اور اقامت کے ساتھ ۔
تشریح : نماز فوت ہو جائے تو جب اسکو ادا کرے گا تو اذان بھی دے گا اور اقامت بھی کہے گا ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن أبی ھریرة فی ھذا الخبر قال : فقال رسول اللہ ۖ : تحولوا عن مکانکم الذی أصابتکم فیہ الغفلة ، قال فأمر بلالا فأذن و أقام و صلی ۔ ( ابوداود شریف ، باب فی من نام عن صلوة أو نسیھا ،ص ٦٩، نمبر ٤٣٦) غزوہ خیبر میں فجر کی نماز قضا ہو گئی تھی جس میں حضرت بلال کو اذان اور اقامت کا حکم دیا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ فوت شدہ نماز کے لئے اذان بھی دے گااور اقامت بھی کہے گا ۔