Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

374 - 627
٦ قال یعقوب  رأیت ابا حنیفة یؤذن فی المغرب ویقیم ولایجلس بین الاذان والاقامة وہذا یفید ما قلناہ ٧  وان المستحب کون المؤذن عالما بالسنة لقولہ ں ویؤذن لکم خیارکم(٢٢٠) ویؤذن للفائتة ویقیم )   ١ لانہ ںقضی الفجر غداة لیلة التعریس باذان واقامة  ٢  وہو حجة علی الشافعی 

سنة  ۔ ( ابو داود شریف ، باب الصلاة قبل المغرب ، ص ١٩٢، نمبر١٢٨١ بخاری شریف ، باب کم بین الاذان و الاقامة و من ینتظر اقامة الصلاة ، ص ٨٧، نمبر ٦٢٥)  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھے  (٢)  حدیث میں ہے ۔ عن عبد اللہ بن مغفل عن النبی  ۖ قال : بین کل اذانین صلوة لمن شاء ۔ ( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الصلوة قبل المغرب ، ص ٤٥، نمبر ١٨٥) اس حدیث میں ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفل ہے اسلئے نفل پڑھ کر فصل کرے ۔
ترجمہ:  ٦   یعقوب یعنی حضرت امام ابو یوسف  نے فرمایا کہ میں نے امام ابو حنیفہ   کو دیکھا کہ مغرب کی اذان دیتے اور اقامت کہتے اور اذان اور اقامت کے درمیان نہیں بیٹھتے ، اور یہ وہی بات ہے جو امام ابو حنیفہ  نے اوپر کہی ۔یہ عبارت جامع صغیر ، باب الاذان ، ص ٨٤ ، کی ہے  
ترجمہ: ٧   اور مستحب یہ ہے کہ موء ذن  سنت کو جاننے والا ہو ۔ حضور کے قول کی وجہ سے کہ تمہارے لئے تم میں سے اچھا آدمی اذان دے ۔
تشریح :   اذان کے سنتوں اور مسائل سے واقف ہو ایسا آدمی اذان دے تو بہتر اور مستحب ہے ۔ اسلئے کہ حدیث میں ہے کہ تم سے جو دین کے اعتبار سے اچھا آدمی ہو وہ آذان دے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس قال : قال رسول اللہ  ۖ : لیوء ذن لکم خیارکم و لیوء مکم قراوء کم ۔ (ابوداود شریف ، باب من أحق بالامامة ، ٩٤ ، نمبر ٥٩٠  ابن ماجہ شریف ، باب فضل الاذان و ثواب الموء ذنین ، ص ١٠٤، نمبر ٧٢٦ )  اس حدیث میں ہے کہ تم میں سے جو اچھا ہو وہ اذان دے ۔ 
ترجمہ: (٢٢٠)  اذان دے گا فوت شدہ نماز کے لئے اور اقامت کہے گا ۔
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ حضور علیہ السلام نے لیلة التعریس کی صبح کو فجر قضا کی اذان اور اقامت کے ساتھ ۔
تشریح :  نماز فوت ہو جائے تو جب اسکو ادا کرے گا تو اذان بھی دے گا اور اقامت بھی کہے گا ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن أبی ھریرة فی ھذا الخبر قال : فقال رسول اللہ  ۖ : تحولوا عن مکانکم الذی أصابتکم فیہ الغفلة ، قال فأمر بلالا فأذن و أقام و صلی ۔ ( ابوداود شریف ، باب فی من نام عن صلوة أو نسیھا ،ص ٦٩، نمبر ٤٣٦) غزوہ خیبر میں فجر کی نماز قضا ہو گئی تھی جس میں حضرت بلال کو اذان اور اقامت کا حکم دیا ۔ جس سے معلوم ہوا کہ فوت شدہ نماز کے لئے اذان بھی دے گااور اقامت بھی کہے گا ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter