٣ ولابی حنفیةان التاخیرمکروہ فیکتفی بادنی الفصل احترازًاعنہ ٤ والمکان فی مسألتنا مختلف وکذا النغمة فیقع الفصل بالسکتةولاکذلک الخطبة ٥ وقال الشافعی یفصل برکعتین اعتبارا بسائر الصلوٰة والفرق قد ذکرناہ
المشائخ عن ابی بن کعب ، ج سادس ، ١٧٣ ، نمبر ٢٠٧٧٨ ) اسلئے تھوڑی دیر بیٹھ کر فصل کرے ۔
ترجمہ: ٣ اور امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ مغرب میں تاخیر مکروہ ہے اسلئے ادنی فصل پر اکتفا کیا جائے گا ، کراہیت سے بچنے کے لئے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ اوپر گزر چکا کہ مغرب کی نماز جلدی پڑھنی چاہئے ، اسلئے تاخیر مکروہ ہے اسلئے تھوڑا ساچپ رہ کر جو فصل ہو گا اتنا ہی کافی ہے تاکہ تاخیر کر نے کی کراہیت نہ ہو ۔ حدیث یہ ہے ۔ فقام الیہ ابو ایوب ... وقال اما سمعت رسول اللہ ۖ یقول لا تزال امتی بخیر او قال علی الفطرة مالم یؤخروا المغرب الی ان تشتبک النجوم ۔(ابو داؤد شریف ، باب فی وقت المغرب ص ٦٦ نمبر ٤١٨ ابن ماجہ ، باب وقت صلاة المغرب ، ص٩٧ ، نمبر ٦٨٩) اس حدیث میں ہے کہ مغرب کی نماز میں تاخیر مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور مکان ہمارے مسئلے میں مختلف ہے ، اور ایسے ہی اقامت کہنے کا اسلوب بھی مختلف ہے ، اسلئے سکتہ ہی سے فصل ہو جائے گا ۔ اور خطبے میں ایسا نہیں ہے ۔
تشریح : یہاں سے امام صاحبین کو امام ابو حنیفہ کی جانب سے جواب ہے ۔فرماتے ہیں کہ خطبہ اور اقامت کے درمیان دوفرق ہیں ۔ ایک فرق یہ ہے کہ دونوں خطبوں کا مقام ایک ہی ہے ۔ جبکہ اذان کی جگہ مسجد سے باہر ہے ، اور اقامت کی جگہ مسجد کے اندر ہے ، تو دو جگہ ہونے کی وجہ سے فصل ہو گیا ۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے پڑھنے کا انداز ایک ہی ہے ، اسلئے درمیان میں بیٹھ کر فصل کرے ، اور اذان پڑھنے کا انداز زور زور سے ہے اور آہستہ آہستہ ہے ، جبکہ اقامت کہنے کا انداز جلدی جلدی ہے اور کم آواز سے ہے ، اسلئے اس طرح بھی فصل ہو جائے گا ، اور اتنا ہی فصل کافی ہے ۔۔ نغمہ کا ترجمہ ہے ،بولنے کا انداز ، بولنے کا اسلوب ۔
ترجمہ: ٥ اور امام شافعی نے فر مایا کہ دو رکعت پڑھ کر فصل کرے اور نمازوں پر قیاس کرتے ہوئے ۔ اور دونوں کے درمیان جو فرق ہے وہ میں نے بیان کر دیا ۔
تشریح :امام شافعی فرماتے ہیں کہ دو رکعت نفل پڑھ کر فصل کرے ، جس طرح اور نمازوں میں نفل پڑھ کر فصل کر تے ہیں ۔
وجہ : (١) مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھنے کی دلیل یہ حدیث ہے ا۔عن عبد اللہ المزنی قال : قال رسول اللہ ۖ : صلوا قبل المغرب رکعتین ، ثم قال : صلوا قبل المغرب رکعتین لمن شاء ۔ خشیة أن یتخذھا الناس