Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

373 - 627
٣  ولابی حنفیةان التاخیرمکروہ فیکتفی بادنی الفصل احترازًاعنہ ٤  والمکان فی مسألتنا مختلف وکذا النغمة فیقع الفصل بالسکتةولاکذلک الخطبة ٥  وقال الشافعی  یفصل برکعتین اعتبارا بسائر الصلوٰة والفرق قد ذکرناہ 

المشائخ عن ابی بن کعب ، ج سادس ، ١٧٣ ، نمبر ٢٠٧٧٨ ) اسلئے  تھوڑی دیر بیٹھ کر فصل کرے ۔
ترجمہ: ٣   اور امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ مغرب میں تاخیر مکروہ ہے اسلئے ادنی فصل پر اکتفا کیا جائے گا ، کراہیت سے بچنے کے لئے ۔
تشریح :  امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ اوپر گزر چکا کہ مغرب کی نماز جلدی پڑھنی چاہئے ، اسلئے تاخیر مکروہ ہے اسلئے تھوڑا ساچپ رہ کر جو فصل ہو گا اتنا ہی کافی ہے تاکہ تاخیر کر نے کی کراہیت نہ ہو ۔ حدیث یہ ہے ۔ فقام الیہ ابو ایوب ... وقال اما سمعت رسول اللہ ۖ یقول لا تزال امتی بخیر او قال علی الفطرة مالم یؤخروا المغرب الی ان تشتبک النجوم ۔(ابو داؤد شریف ، باب فی وقت المغرب ص ٦٦ نمبر ٤١٨  ابن ماجہ ، باب وقت صلاة المغرب ، ص٩٧ ، نمبر ٦٨٩) اس حدیث میں ہے کہ مغرب کی نماز میں تاخیر مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ٤   اور مکان ہمارے مسئلے میں مختلف ہے ، اور ایسے ہی اقامت کہنے کا اسلوب بھی مختلف ہے ، اسلئے سکتہ ہی سے فصل ہو جائے گا ۔ اور خطبے میں ایسا نہیں ہے ۔ 
تشریح :  یہاں سے امام صاحبین کو امام ابو حنیفہ  کی جانب سے جواب ہے  ۔فرماتے ہیں کہ خطبہ اور اقامت کے درمیان دوفرق ہیں  ۔ ایک فرق یہ ہے کہ دونوں خطبوں کا مقام ایک ہی ہے ۔ جبکہ اذان کی جگہ مسجد سے باہر ہے ، اور اقامت کی جگہ مسجد کے اندر ہے ، تو دو جگہ ہونے کی  وجہ سے فصل ہو گیا ۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے پڑھنے کا انداز ایک ہی ہے ، اسلئے درمیان میں بیٹھ کر فصل کرے ، اور اذان پڑھنے کا انداز زور زور سے ہے اور آہستہ آہستہ ہے ، جبکہ اقامت کہنے کا انداز جلدی جلدی ہے اور کم آواز سے ہے ، اسلئے اس طرح بھی فصل ہو جائے گا ، اور اتنا ہی فصل کافی ہے ۔۔ نغمہ کا ترجمہ ہے  ،بولنے کا انداز ، بولنے کا اسلوب ۔ 
ترجمہ: ٥   اور امام شافعی  نے فر مایا کہ دو رکعت پڑھ کر فصل کرے اور نمازوں پر قیاس کرتے ہوئے ۔ اور دونوں کے درمیان جو فرق ہے وہ میں نے بیان کر دیا ۔ 
تشریح :امام شافعی  فرماتے ہیں کہ دو رکعت نفل پڑھ کر فصل کرے  ، جس طرح اور نمازوں میں نفل پڑھ کر فصل کر تے ہیں ۔
وجہ : (١)  مغرب کی اذان کے بعد نفل پڑھنے  کی دلیل یہ حدیث ہے ا۔عن عبد اللہ المزنی قال : قال رسول اللہ  ۖ : صلوا قبل المغرب رکعتین ، ثم قال : صلوا قبل المغرب رکعتین لمن شاء ۔ خشیة أن یتخذھا الناس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter