٢وقالا یجلس فی المغرب ایضًاجلسة خفیفة لانہ لابد من الفصل اذا لوصل مکروہ ولایقع الفصل بالسکتة لوجودہا بین کلمات الاذان فیفصل بالجلسة کما بین الخطبتین
کل من طعامہ فی مھل ، و یقضی المتوضی حاجتہ فی مھل ۔ ( مسند احمد ، حدیث المشائخ عن ابی بن کعب ، ج سادس ، ١٧٣ ، نمبر ٢٠٧٧٨ ) اس حدیث میں ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان فصل کر نا چاہئے ۔ (٢) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اتر نے والے فرشتے نے اذان کے بعد تھوڑی دیر کی اسکے بعد اقامت کہی ۔ حدیث یہ ہے ۔فجاء عبد اللہ بن زیدالی رجل من الانصار وقال فیہ فاستقبل القبلة،قال : اللہ اکبر ....ثم امھل ھنیة ، ثم قام فقال مثلھا ۔ (ابو داؤد شریف، باب کیف الاذان ص ٨٢ نمبر ٥٠٧ سنن بیھقی ، باب استقبال القبلة بالاذان و الاقامة ، ج اول ، ص ٥٧٦، نمبر ١٨٣٨) اس حدیث میں ہے کہ اذان کے بعد تھوڑی دیر رک کر اقامت کہی۔
البتہ مغرب کی نماز چونکہ ایک ہی وقت میں پڑھنی ہے اور تاخیر اچھی نہیںہے اسلئے مغرب میں اذان اور اقامت کے درمیان فصل نہ کرے ، اذان کے بعد جب مصلی کی طرف آئے گا بس اتنا ہی فصل کافی ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور صاحبین نے فرمایا کہ مغرب میں تھوڑی دیر بیٹھے اسلئے کہ فصل ضروری ہے اسلئے کہ وصل مکروہ ہے ۔ اور سکتے سے فصل نہیں ہو گا اسلئے کہ اتنا تو اذان کے جملون میں بھی پایا جاتا ہے اسلئے بیٹھ کر فصل کیا جائے گا جیسے کہ دو خطبے کے درمیان کیا جاتا ہے۔
تشریح : صاحبین فرماتے ہیں کہ مغرب میں بھی تھوڑی دیر بیٹھ کر فصل کرے ۔ جیسے کے جمعے کے دو خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کر تے ہیں۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان صرف تھوڑی دیر چپ رہ کر فصل کر نا کافی نہیں ہے اسلئے کہ اتنا فصل تو خود اذان کے جملوں کے درمیان بھی ہو جاتا ہے ، اسلئے تھوڑی دیر بیٹھ جائے اور فصل کرے ۔
وجہ : (١) حدیث میں اسکا ثبوت ہے کہ اترنے والے فرشتے نے اذان دی پھر تھوڑی دیر بیٹھا اسکے بعد اقامت کہی ۔حدیث یہ ہے ۔
۔سمعت ابن ابی لیلی رأیت رجلا کأن علیہ ثوبین أخضرین فقام علی المسجد فأذن ثم قعد قعدة ثم قام فقال مثلھا ۔ (ابو داؤد شریف، باب کیف الاذان ص ٨٢ نمبر٥٠٦) اس حدیث میں ہے کہ اذان کے بعد تھوڑی دیر بیٹھے پھر اقامت کہی ۔اور یہ چونکہ تمام نمازوں میںہے اسلئے مغرب کی نماز میں بھی تھوڑی دیر بیٹھے ۔ (٢) اوپر مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ اذان اور اقامت میں فصل کرے ۔عن ابی بن کعب قال : قال رسول اللہ ۖ : یا بلال اجعل بین اذانک و اقامتک نفسا یفرغ الآ کل من طعامہ فی مھل ، و یقضی المتوضی حاجتہ فی مھل ۔ ( مسند احمد ، حدیث