Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

372 - 627
٢وقالا یجلس فی المغرب  ایضًاجلسة خفیفة لانہ لابد من الفصل اذا لوصل مکروہ  ولایقع الفصل بالسکتة لوجودہا بین کلمات الاذان فیفصل بالجلسة کما بین الخطبتین

کل من طعامہ فی مھل ، و یقضی المتوضی حاجتہ فی مھل ۔ ( مسند احمد ، حدیث المشائخ عن ابی بن کعب ، ج سادس ، ١٧٣ ، نمبر ٢٠٧٧٨ ) اس حدیث میں ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان فصل کر نا چاہئے ۔ (٢) ایک دوسری  حدیث میں ہے کہ اتر نے والے فرشتے نے اذان کے بعد تھوڑی دیر کی  اسکے بعد اقامت کہی ۔ حدیث یہ ہے ۔فجاء عبد اللہ بن زیدالی رجل من الانصار وقال فیہ فاستقبل القبلة،قال : اللہ اکبر ....ثم امھل ھنیة ، ثم قام فقال مثلھا ۔  (ابو داؤد شریف، باب کیف الاذان ص ٨٢ نمبر ٥٠٧ سنن بیھقی ، باب استقبال القبلة بالاذان و الاقامة ، ج اول ، ص ٥٧٦، نمبر ١٨٣٨)  اس حدیث میں ہے کہ اذان کے بعد تھوڑی دیر رک کر اقامت کہی۔ 
البتہ مغرب کی نماز چونکہ ایک ہی وقت میں پڑھنی ہے اور تاخیر اچھی نہیںہے اسلئے مغرب میں اذان اور اقامت کے درمیان فصل نہ کرے ، اذان کے بعد جب مصلی کی طرف آئے گا بس اتنا ہی فصل کافی ہے ۔ 
ترجمہ: ٢    اور صاحبین نے فرمایا کہ مغرب میں تھوڑی دیر بیٹھے اسلئے کہ فصل ضروری ہے اسلئے کہ وصل مکروہ ہے ۔ اور سکتے سے فصل نہیں ہو گا اسلئے کہ اتنا تو اذان کے جملون میں بھی پایا جاتا ہے اسلئے بیٹھ کر فصل کیا جائے گا جیسے کہ دو خطبے کے درمیان کیا جاتا ہے۔ 
تشریح : صاحبین  فرماتے ہیں کہ مغرب میں بھی تھوڑی دیر بیٹھ کر فصل کرے ۔ جیسے کے جمعے کے دو خطبوں  کے درمیان بیٹھ کر فصل کر تے ہیں۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان صرف تھوڑی دیر چپ رہ کر فصل کر نا کافی نہیں ہے اسلئے کہ اتنا فصل تو خود اذان کے جملوں کے درمیان بھی ہو جاتا ہے ، اسلئے تھوڑی دیر بیٹھ جائے اور فصل کرے ۔
وجہ : (١)  حدیث میں اسکا ثبوت ہے کہ اترنے والے فرشتے نے اذان دی پھر تھوڑی دیر بیٹھا اسکے بعد اقامت کہی ۔حدیث یہ ہے ۔
۔سمعت ابن ابی لیلی  رأیت رجلا کأن علیہ ثوبین أخضرین فقام علی المسجد فأذن ثم قعد قعدة ثم قام فقال مثلھا  ۔  (ابو داؤد شریف، باب کیف الاذان ص ٨٢ نمبر٥٠٦) اس حدیث میں ہے کہ اذان کے بعد تھوڑی دیر بیٹھے  پھر اقامت کہی ۔اور یہ چونکہ تمام نمازوں میںہے اسلئے مغرب کی نماز میں بھی تھوڑی دیر بیٹھے ۔  (٢) اوپر مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے کہ اذان اور اقامت میں فصل کرے  ۔عن ابی بن کعب قال : قال رسول اللہ  ۖ : یا بلال اجعل بین اذانک و اقامتک نفسا یفرغ الآ کل من طعامہ فی مھل ، و یقضی المتوضی حاجتہ فی مھل ۔ ( مسند احمد ، حدیث 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter