Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

337 - 627
(١٨٩)ثم الشفق ہوالبیاض الذی فی الافق بعدالحمرة عندابی حنیفة وعندہما ہوالحمرة)
  ١  وہورایة عن ابی حنیفة وہو قول الشافعی لقولہں الشفق الحمرة

(شفق ابیض یا شفق احمر )
ترجمہ:(١٨٩)  شفق وہ سفید روشنی ہے جو افق میں سرخی کے بعد دیکھی جاتی ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ۔اور صاحبین کے نزدیک شفق وہ سرخی ہے۔ 
ترجمہ: ١   اور یہی ایک روایت امام ابو ابو حنیفہ  کا ہے، اور یہی قول امام شافعی  کا ہے حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ شفق وہ سرخی ہے ۔    
تشریح :آفتاب ڈوبنے کے بعد پہلے سرخی آتی ہے پھر سفید روشنی پھیلی ہوئی ہوتی ہے ۔پھر سفید روشنی لمبی سی ہوتی ہے جس کو بیاض مستطیر اور پھر بیاض مستطیل کہتے ہیں۔ اس کے بعد افق پر مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک سرخی کے بعد جو بیاض مستطیر ہوتی ہے وہاں تک مغرب کا وقت ہے۔ اس کے بعد عشا کا وقت شروع ہوتا ہے
شفق کیا ہے : ۔ افق کے قریب بھاپ اور نمی بہت ہو تی ہے ، سورج جب ڈوب جاتا ہے  تو اسکی روشنی بھاپ اور نمی سے گزر کر ہماری طرف آنے لگتی ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ بھاپ کے درمیان سے گزر کر روشنی آئے تو وہ لال نظر آتی ہے اور تھوڑی پھیلی ہو ئی نظر آتی ہے ، اسی لئے سورج ڈوبنے کے بعد جو روشنی نظر آتی ہے وہ لال ہوتی ہے جسکو شفق احمر کہتے ہیں ۔لیکن سورج جب بارہ ڈگری نیچے چلا جاتا ہے تو افق کے پاس جو بھاپ اور نمی ہے اس سے گزر کر روشنی نہیں آتی بلکہ سورج کی روشنی آسمان کی طرف لمبی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ، چونکہ وہ بھاپ اور نمی سے گزر کر نہیں آتی اسلئے وہ روشنی سفید نظر آتی ہے ، اور بہت ہلکی ہو تی ہے شفق احمر کے بعد مسلسل دیکھتے رہیں تب اس  کا پتہ چلے گا ورنہ جلدی پتہ نہیں چلتا ۔اسی کو شفق ابیض کہتے ہیں ۔ 
وجہ :   (١) فجر میں بیاض مستطیرفجر کا وقت ہے۔ اسی طرح بیاض مستطیر مغرب کا وقت ہونا چاہئے۔ کیونکہ دونوں ایک ہی طرح ہیں(٢) حدیث میں ہے  سمعت ابا مسعود الانصاری یقول ... ویصلی المغرب حین تسقط الشمس ویصلی العشاء حین یسود الافق وربما اخرھا حتی یجتمع الناس ۔ (ابوداؤد شریف، باب فی المواقیت ص ٦٢ ٦٣ نمبر ٣٩٤)اس حدیث میں ہے کہ آپۖ عشا کی نماز افق کالا ہونے کے بعد پڑھا کرتے تھے۔  اور افق مکمل کا لا اس وقت ہو گا جب سفید شفق بھی باقی نہ رہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ بیاض مستطیر تک مغرب کا وقت ہے۔جو سرخی کے بعد آتی ہے ۔کیونکہ افق کالا سفیدی غائب ہونے کے بعد ہی ہوگا ۔(٣)اس کی تائید اس اثر سے ہوتی ہے۔کتب عمر بن عبد العزیز ان صلوا صلوة العشاء اذا ذھب بیاض الافق فیما بینکم و بین ثلث اللیل (مصنف عبد الرزاق، باب وقت العشاء الاخرة ،ج اول ،ص ٥٥٦، نمبر  

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter