٢ ولناوقولہ ںاوّل وقت المغرب حین تغرب الشمس واٰخروقتہ حین یغیب الشفق ٣ و ما رواہ کان للتحرز عن الکراہیة
لوقتہ الاول ثم صلی العشاء الآخرة حین ذھب ثلث اللیل ثم صلی الصبح حین اسفرت الارض ثم التفت الی جبرئیل فقال یا محمد ھذا وقت الانبیاء من قبلک والوقت فیما بین ھذین الوقتین۔ (ترمذی شریف،باب ماجاء مواقیت الصلوة عن النبی ۖ ص ٣٨ ابواب الصلوة نمبر ١٤٩ ابوداؤد شریف، باب المواقیت،ص ٦٢، نمبر ٣٩٣) ا س حدیث میں ہے کہ دوسرے دن مغرب کی نماز اس وقت پڑھی جس وقت پہلے دن پڑھی تھی ۔ اسلئے مغرب کا وقت ایک ہی رہے گا ۔(٢) عن سلمة قال کنا نصلی مع النبی ۖ المغرب اذا توارت بالحجاب ۔ ( بخاری شریف ، باب وقت المغرب ، ص ٧٩ ، نمبر ٥٦١ ابو داود شریف ، باب وقت المغرب ، ص ٦٤، ٤١٧) اس حدیث میں ہے کہ سورج ڈوبتے ہی نماز پڑھتے تھے جس سے معلوم ہوا کہ سورج ڈوبنے کے فورا بعد مغرب کا وقت ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول کہ مغرب کا اول وقت جب سورج ڈوب جائے ، اور اسکا آخر وقت جب شفق غائب ہو جائے ۔حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ ان للصلاة أولا و آخراً ....و ان اول وقت المغرب حین تغرب الشمس و ان آخروقتھا حین یغیب الشفق ۔ ( ترمذی شریف ، باب منہ ( یعنی ما جاء فی مواقیت الصلوة ) ص ٣٨ ، نمبر ١٥١ مسلم شریف ، باب اوقات الصلوة الخمس ، ص ٢٢١، نمبر ٦١٢ ١٣٨٩) اس حدیث میں ہے کہ مغرب کا وقت شفق غائب ہو نے تک ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور جو روایت کی ہے وہ کراہیت سے بچنے کے لئے ہے ۔
تشریح : ہم یہ کہتے ہیں کہ مغرب کا اصلی وقت تو شفق ڈوبنے تک ہے ، یعنی شفق ڈبنے تک بھی پڑھے گا تو ادا ہو گی قضا نہیں ہو گی البتہ بغیر عذر کے موخر کر نے سے مکروہ ہو گا ، اسلئے امامت جبریل میں موخر اسلئے نہیں کیا کہ مکروہ نہ ہو ۔ موخر کر نے سے مکروہ ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ قدم علینا ابو ایوب غازیا و عقبہ عامر یومئذ علی مصر ، فأخر المغرب فقام الیہ ابو ایوب فقال : أما سمعت رسول اللہ ۖ یقول : لا تزال أمتی بخیر ، أو قال : علی الفطرة ، ما لم یو ء خر واالمغرب الی أن تشتبک النجوم ۔ ( ابو داود شریف ، باب وقت المغرب، ص ٦٤، نمبر ٤١٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب کی نماز موء خر کر نا مکروہ ہے ۔