Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

335 - 627
(١٨٨)واول وقت المغرب اذا غربت الشمس واٰخروقتہا مالم یغب الشفق )   ١ وقال الشافعی مقدارمایصلی فیہ ثلث رکعات لان جبریلں اَمَّ فی یومین فی وقت واحد.  

فکانت بین قرنی شیطان أو علی قرنی الشیطان ، قام  فنقر أربعا لا یذکر اللہ عز وجل فیھا الا قلیلا ً۔ ( ابو داود شریف ، باب وقت العصر ، ص ٦٤، نمبر ٤١٣)  اس حدیث میں ہے کہ سورج زرد ہو جائے تو اس وقت منافق کی نماز ہو تی ہے اسلئے سورج زرد ہو تے وقت نماز مکروہ ہے ۔  البتہ نماز ہو جائے گی ۔ اسلئے کہ ابھی وقت ہے ۔دوسری حدیث بھی ہے  عن عبد اللہ بن عمران النبی ۖ قال اذا صلیتم الفجر ... فاذا صلیتم العصر فانہ وقت الی أن تصفر الشمس  (مسلم شریف، باب اوقات الصلوات الخمس ص ٢٢٢ نمبر ٦١٢ ترمذی شریف،باب ماجاء فی مواقیت الصلواة ص ٤٠ نمبر ١٥١)  اس حدیث میں سورج زرد ہو نے تک مستحب وقت بتایا ہے ۔
ترجمہ: (١٨٨)  مغرب کا اول وقت جب سورج ڈوب جائے اور اس کا آخر وقت جب تک کہ شفق غائب نہ ہو جائے۔ 
تشریح :  مغرب کے اول وقت کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے ۔اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مغرب کی نماز دونوں دن سورج غروب ہونے کے بعد ہی پڑھائی اس لئے کہ مستحب وقت وہی ہے۔ لیکن مغرب کا آخری وقت حقیقت میں شفق کے غروب ہونے تک ہے۔    
وجہ :   اس کی دلیل یہ حدیث ہے  عن عبد اللہ بن عمران النبی ۖ قال اذا صلیتم الفجر ... فاذا صلیتم المغرب فانہ وقت الی ان یسقط الشفق (مسلم شریف، باب اوقات الصلوات الخمس ص ٢٢٢ نمبر ٦١٢ ١٣٨٥ ترمذی شریف،باب ماجاء فی مواقیت الصلواة ص ٤٠ نمبر ١٥١)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب کا وقت شفق کے غروب ہونے تک رہتا ہے۔شفق کی دو قسمیں ہیں ۔ شفق احمر ۔ اور شفق ابیض ۔ یہاں شفق سے کون سی شفق مراد ہے اسکی تفصیل آگے آرہی ہے ۔
ترجمہ: ١   امام شافعی نے فر مایا کہ مغرب کا وقت اتنی مقدار ہے جس میں تین رکعت پڑھ سکے ۔ اسلئے کہ حضرت جبریل  نے دونوں دنوں میں مغرب کی امامت ایک ہی وقت میں کی ہے ۔ 
تشریح :  چونکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دونوں دنوں میں ایک ہی وقت میں مغرب کی امامت کی ہے اسلئے امام شافعی  کے نزدیک مغرب کا وقت صرف اتنا ہے کہ آدمی صرف مغرب کی تین رکعتیں پڑھ سکے ۔ موسوعة میں ہے۔ قال الشافعی  : لا وقت للمغرب الا واحد ، و ذالک حین تجب الشمس ، و ذالک بین فی حدیث امامة جبریل النبی ۖ و فی غیرہ ۔ ( موسوعة ، باب وقت المغرب ، ج ثانی  ص ٢٩، نمبر ١٠٠١)  حدیث یہ ہے ۔ عن عباس ان النبی ۖ قال امنی جبرئیل عند البیت مرتین .... ثم صلی المغرب حین وجبت الشمس وافطر الصائم ..... ثم صلی المغرب 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter