Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

334 - 627
(١٨٧) واول وقت العصر اذا خرج وقت الظہر علی القولین واٰخروقتہا  ما لم  تغرب الشمس )  
  ١   لقولہ ںمن ادرک رکعةً من العصر قبل ان تغرب الشمس فقدادرکھا

ہے۔ تو سایہ اصلی کے علاوہ سایہ ساڑھے پانچ فٹ تک چلا جائے تو ایک مثل ہو گیا۔ اور سایہ اصلی کے علاوہ گیارہ فٹ تک سایہ لمبا ہو گیا تو دو مثل ہو گیا۔ فیح : گرمی کی شدت۔ لا ینقضی :  ختم نہیں ہو گا ۔
 ترجمہ:(١٨٧)  عصر کا اول وقت جب کہ ظہر کا وقت نکل جائے دونوں قول پر۔اور اس کا آخری وقت جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔
ترجمہ:   ١   حضورۖ کے قول کی وجہ سے کہ جس نے عصر کی ایک رکعت پائی تو اس نے عصر پالی ۔
تشریح:  صاحبین کے قول کے مطابق مثل اول کے بعد عصر کا وقت شروع ہوگا۔اور امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق دو مثل کے بعد عصر کا وقت شروع ہوگا۔ اور بعض ائمہ نے دونوں حدیثوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ایک مثل کے بعد اور دو مثل سے پہلے وقت مہمل ہے یعنی نہ ظہر کا وقت ہے اور نہ عصر کا وقت ہے۔  
نوٹ : احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ظہر کے بعد فورا عصر کا وقت شروع ہوتا ہے نہ دونوں کے درمیان وقت مہمل ہے اور نہ مشترک ہے۔ پہلی  حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ عصر کی آخری نماز دو مثل پر پڑھی گئی لیکن دوسری حدیث میں موجود ہے کہ غروب آفتاب تک عصر کا وقت موجود ہے ۔ البتہ آفتاب زرد ہونے کے بعد نماز مکروہ ہونے لگتی ہے۔ اس لئے آفتاب زرد ہونے سے پہلے عصر کی نماز پڑھنی چاہئے۔تاہم غروب سے پہلے عصر کی نماز پڑھیگا تو ادا ہوگی قضا نہیں ہوگی۔کیونکہ ابھی وقت باقی ہے۔ غروب آفتاب سے پہلے تک عصر کے وقت ہونے کی دلیل ۔
 وجہ: (١)  وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا (آیت ١٣٠ سورۂ طہ ٢٠) غروب سے پہلے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز عصر کا وقت سورج غروب ہونے سے پہلے تک ہے (٢) حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان  رسول اللہ  ۖ قال من ادرک من الصبح رکعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادرک الصبح و من ادرک  رکعة من العصر قبل ان تغرب  الشمس فقدادرک العصر (  بخاری شریف ، باب من ادرک من الفجر رکعة ، ص  ٨٢،   نمبر ٥٧٩ ترمذی شریف، باب ماجاء فیمن ادرک رکعة من العصر قبل ان تغرب الشمس ص ٤٥ نمبر ١٨٦ ) سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے تو گویا کہ پوری عصر کی نماز پالی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غروب آفتاب سے پہلے تک عصر کا وقت ہے 
آفتاب زرد ہو نے کے بعد نماز عصر ہو جائے گی البتہ مکروہ ہو گی ، اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔قال : دخلنا علی انس بن مالک بعد الظھر فقام یصلی العصر ....تلک صلوة المنافقین ، یجلس أحدھم حتی اذا اصفرت الشمس ، 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter