(١٨٧) واول وقت العصر اذا خرج وقت الظہر علی القولین واٰخروقتہا ما لم تغرب الشمس )
١ لقولہ ںمن ادرک رکعةً من العصر قبل ان تغرب الشمس فقدادرکھا
ہے۔ تو سایہ اصلی کے علاوہ سایہ ساڑھے پانچ فٹ تک چلا جائے تو ایک مثل ہو گیا۔ اور سایہ اصلی کے علاوہ گیارہ فٹ تک سایہ لمبا ہو گیا تو دو مثل ہو گیا۔ فیح : گرمی کی شدت۔ لا ینقضی : ختم نہیں ہو گا ۔
ترجمہ:(١٨٧) عصر کا اول وقت جب کہ ظہر کا وقت نکل جائے دونوں قول پر۔اور اس کا آخری وقت جب تک سورج غروب نہ ہو جائے۔
ترجمہ: ١ حضورۖ کے قول کی وجہ سے کہ جس نے عصر کی ایک رکعت پائی تو اس نے عصر پالی ۔
تشریح: صاحبین کے قول کے مطابق مثل اول کے بعد عصر کا وقت شروع ہوگا۔اور امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق دو مثل کے بعد عصر کا وقت شروع ہوگا۔ اور بعض ائمہ نے دونوں حدیثوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ایک مثل کے بعد اور دو مثل سے پہلے وقت مہمل ہے یعنی نہ ظہر کا وقت ہے اور نہ عصر کا وقت ہے۔
نوٹ : احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ظہر کے بعد فورا عصر کا وقت شروع ہوتا ہے نہ دونوں کے درمیان وقت مہمل ہے اور نہ مشترک ہے۔ پہلی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ عصر کی آخری نماز دو مثل پر پڑھی گئی لیکن دوسری حدیث میں موجود ہے کہ غروب آفتاب تک عصر کا وقت موجود ہے ۔ البتہ آفتاب زرد ہونے کے بعد نماز مکروہ ہونے لگتی ہے۔ اس لئے آفتاب زرد ہونے سے پہلے عصر کی نماز پڑھنی چاہئے۔تاہم غروب سے پہلے عصر کی نماز پڑھیگا تو ادا ہوگی قضا نہیں ہوگی۔کیونکہ ابھی وقت باقی ہے۔ غروب آفتاب سے پہلے تک عصر کے وقت ہونے کی دلیل ۔
وجہ: (١) وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا (آیت ١٣٠ سورۂ طہ ٢٠) غروب سے پہلے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز عصر کا وقت سورج غروب ہونے سے پہلے تک ہے (٢) حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال من ادرک من الصبح رکعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادرک الصبح و من ادرک رکعة من العصر قبل ان تغرب الشمس فقدادرک العصر ( بخاری شریف ، باب من ادرک من الفجر رکعة ، ص ٨٢، نمبر ٥٧٩ ترمذی شریف، باب ماجاء فیمن ادرک رکعة من العصر قبل ان تغرب الشمس ص ٤٥ نمبر ١٨٦ ) سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے تو گویا کہ پوری عصر کی نماز پالی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غروب آفتاب سے پہلے تک عصر کا وقت ہے
آفتاب زرد ہو نے کے بعد نماز عصر ہو جائے گی البتہ مکروہ ہو گی ، اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔قال : دخلنا علی انس بن مالک بعد الظھر فقام یصلی العصر ....تلک صلوة المنافقین ، یجلس أحدھم حتی اذا اصفرت الشمس ،