Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

333 - 627
٣ولابی حنیفة قولں ابردوابالظہر فان شدة الحرمن فیح جہنم واشد الحر فی دیارہم فی ہذا الوقت٤ واذا تعارضت الاٰثارلاینقضی الوقت بالشک 

وجبت الشمس وافطر الصائم ثم صلی العشاء حین غاب الشفق ثم صلی الفجر حین برق الفجر وحرم الطعام علی الصائم وصلی المرة الثانیة الظھر حین کان ظل کل شیء مثلہ لوقت العصر بالامس ثم صلی العصر حین کان ظل کل شیء مثلیہ ثم صلی المغرب لوقتہ الاول ثم صلی العشاء الآخرة حین ذھب ثلث اللیل ثم صلی الصبح حین اسفرت الارض ثم التفت الی جبرئیل فقال یا محمد ھذا وقت الانبیاء من قبلک والوقت فیما بین ھذین الوقتین۔ (ترمذی شریف،باب ماجاء مواقیت الصلوة عن النبی ۖ ص ٣٨ ابواب الصلوة نمبر ١٤٩ ابوداؤد شریف، باب المواقیت،ص ٦٢، نمبر ٣٩٣) اس حدیث میں تمام نماز کے اوقات بیان کئے گئے ہیں ۔اور ظہر کا آخری وقت ایک مثل بتایا گیا ہے ۔ اور ایک مثل کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے ۔ اسی حدیث کی بنا پر صاحبین بھی اس طرف گئے ہیں کہ ایک مثل تک ظہر کا وقت رہتا ہے۔ تا ہم احتیاط اسی میں ہے کہ ایک مثل کے بعد ظہر نہ پڑھے اور دو مثل سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے کیونکہ امام ابو حنیفہ  کی ایک روایت بھی صاحبین کے مطابق ہے ۔ 
ترجمہ :٣   اور ابو حنیفة  کی دلیل حضور علیہ السلام کا قول ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو اسلئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی گر می میں سے ہے ، اور عرب میں گرمی کی شدت ایک مثل پر بہت ہو تی ہے ۔
تشریح: اوپر کی حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن عمر أنھما حدثاہ عن رسول اللہ  ۖ أنہ قال : اذا اشتد الحر فأبردوا بالصلوة ، فان شدة الحر من فیح جھنم ۔ (بخاری شریف، باب الابراد بالظہر فی شدة الحر، ص ٧٧ نمبر ٥٣٣ ابو داود شریف ، باب وقت صلاة الظھر ، ٦٤، نمبر ٤٠٢)  اس حدیث میں ہے کہ نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو ، اور عرب میں ایک مثل پر گرمی بہت زیادہ ہو تی ہے اسلئے ٹھنڈا کر نے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مثل کے بعد نماز پڑھو اسلئے اشارة النص سے پتہ چلا کہ دو مثل تک ظہر کا وقت ہو نا چاہئے ۔
ترجمہ: ٤   اور جب دونوں حدیثیں متعارض ہو گئیں تو شک کی وجہ سے وقت ختم نہیں ہو گا ۔
تشریح : ۔ حضرت جبریل  کی امامت والی حدیث اور ٹھنڈا کر کے نماز پڑھنے والی حدیث متعارض ہو گئیں ، تو شک ہو گیا کہ نماز کا وقت نکلا یا نہیں !اور پہلے سے ظہر کا وقت چل رہا تھا اسلئے شک کی بنا پر ظہر کا وقت ختم نہیں ہو گا بلکہ دو مثل تک باقی رہے گا ۔
لغت :  فیٔ الزوال  :  ٹھیک دوپہر کے وقت جب سورج سر پر ہو تو اس وقت جو تھوڑا سا سایہ ہوتا ہے اس کو سایہ اصلی اور فیٔ الزوال کہتے ہیں۔اس کو چھوڑ کر ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو تو وہ ایک مثل سایہ کہلاتا ہے۔ مثلا ایک آدمی کا قد ساڑھے پانچ فٹ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter