٣ولابی حنیفة قولں ابردوابالظہر فان شدة الحرمن فیح جہنم واشد الحر فی دیارہم فی ہذا الوقت٤ واذا تعارضت الاٰثارلاینقضی الوقت بالشک
وجبت الشمس وافطر الصائم ثم صلی العشاء حین غاب الشفق ثم صلی الفجر حین برق الفجر وحرم الطعام علی الصائم وصلی المرة الثانیة الظھر حین کان ظل کل شیء مثلہ لوقت العصر بالامس ثم صلی العصر حین کان ظل کل شیء مثلیہ ثم صلی المغرب لوقتہ الاول ثم صلی العشاء الآخرة حین ذھب ثلث اللیل ثم صلی الصبح حین اسفرت الارض ثم التفت الی جبرئیل فقال یا محمد ھذا وقت الانبیاء من قبلک والوقت فیما بین ھذین الوقتین۔ (ترمذی شریف،باب ماجاء مواقیت الصلوة عن النبی ۖ ص ٣٨ ابواب الصلوة نمبر ١٤٩ ابوداؤد شریف، باب المواقیت،ص ٦٢، نمبر ٣٩٣) اس حدیث میں تمام نماز کے اوقات بیان کئے گئے ہیں ۔اور ظہر کا آخری وقت ایک مثل بتایا گیا ہے ۔ اور ایک مثل کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے ۔ اسی حدیث کی بنا پر صاحبین بھی اس طرف گئے ہیں کہ ایک مثل تک ظہر کا وقت رہتا ہے۔ تا ہم احتیاط اسی میں ہے کہ ایک مثل کے بعد ظہر نہ پڑھے اور دو مثل سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے کیونکہ امام ابو حنیفہ کی ایک روایت بھی صاحبین کے مطابق ہے ۔
ترجمہ :٣ اور ابو حنیفة کی دلیل حضور علیہ السلام کا قول ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو اسلئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی گر می میں سے ہے ، اور عرب میں گرمی کی شدت ایک مثل پر بہت ہو تی ہے ۔
تشریح: اوپر کی حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن عمر أنھما حدثاہ عن رسول اللہ ۖ أنہ قال : اذا اشتد الحر فأبردوا بالصلوة ، فان شدة الحر من فیح جھنم ۔ (بخاری شریف، باب الابراد بالظہر فی شدة الحر، ص ٧٧ نمبر ٥٣٣ ابو داود شریف ، باب وقت صلاة الظھر ، ٦٤، نمبر ٤٠٢) اس حدیث میں ہے کہ نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو ، اور عرب میں ایک مثل پر گرمی بہت زیادہ ہو تی ہے اسلئے ٹھنڈا کر نے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مثل کے بعد نماز پڑھو اسلئے اشارة النص سے پتہ چلا کہ دو مثل تک ظہر کا وقت ہو نا چاہئے ۔
ترجمہ: ٤ اور جب دونوں حدیثیں متعارض ہو گئیں تو شک کی وجہ سے وقت ختم نہیں ہو گا ۔
تشریح : ۔ حضرت جبریل کی امامت والی حدیث اور ٹھنڈا کر کے نماز پڑھنے والی حدیث متعارض ہو گئیں ، تو شک ہو گیا کہ نماز کا وقت نکلا یا نہیں !اور پہلے سے ظہر کا وقت چل رہا تھا اسلئے شک کی بنا پر ظہر کا وقت ختم نہیں ہو گا بلکہ دو مثل تک باقی رہے گا ۔
لغت : فیٔ الزوال : ٹھیک دوپہر کے وقت جب سورج سر پر ہو تو اس وقت جو تھوڑا سا سایہ ہوتا ہے اس کو سایہ اصلی اور فیٔ الزوال کہتے ہیں۔اس کو چھوڑ کر ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو تو وہ ایک مثل سایہ کہلاتا ہے۔ مثلا ایک آدمی کا قد ساڑھے پانچ فٹ