١ وفیٔ الزوال ہو الفیٔ الذی یکون للاشیاء وقت الزوال ٢ لہما امامة جبریل فی الیوم الاوّل للعصر فی ہذا الوقت
کے بارے میں امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل تک رہتا ہے۔ اور اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوتا ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے
وجہ : (١)عن ابی ذر قال کنا مع رسول اللہ ۖ فی سفر فاراد المؤذن ان یؤذن للظھر فقال النبی ۖابرد، ثم اراد ان یؤذن فقال لہ ابرد،حتی رأینا فیء التلول فقال النبی ۖ ان شدة الحر من فیح جہنم فاذا اشتد الحر فابردوا بالصلوة ۔ (بخاری شریف، باب الابراد بالظہر فی السفر ص ٧٧ نمبر ٥٣٩ ابو داود شریف ، باب وقت صلاة الظھر ، ٦٤، نمبر ٤٠١) ٹیلہ پستہ قد ہوتا ہے اس کا سایہ نیچے نظرآنے لگے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل سے زیادہ ہو چکا ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ظہر کی نماز ایک مثل کے بعد پڑھی گئی ہے۔ اس لئے ظہر کا وقت دو مثل تک ہے (٢)عن عبد اللہ بن عمر أنھما حدثاہ عن رسول اللہ ۖ أنہ قال : اذا اشتد الحر فأبردوا بالصلوة ، فان شدة الحر من فیح جھنم ۔ (بخاری شریف، باب الابراد بالظہر فی شدة الحر، ص ٧٧ نمبر ٥٣٣ ابو داود شریف ، باب وقت صلاة الظھر ، ٦٤، نمبر ٤٠٢) اس حدیث میں بھی ہے کہ گرمی میں ظہر کی تاخیر کی ، اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ظہر کی نماز دو مثل پر پڑھی ہو گی کیونکہ عرب میں دو مثل تک گرمی رہتی ہے ۔
ترجمہ: ١ اور فیء زوال وہ سایہ ہے جو چیزوں کا زوال کے وقت میں ہو تا ہے ۔
تشریح : جب سورج دوپہر کے وقت سر پر آجائے ، اور پورب اور پچھم کے درمیان ٹھیک اتر یا دکھن کی طرف سورج ہو تو اس وقت کے سایہ کو فیء زوال ، یا سایہ اصلی کہتے ہیں ۔ اس سے تھوڑا سا ہٹ جائے تو وہ وقت زوال ہے اور اس وقت سے تمام ائمہ کے نزدیک ظہر کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ :٢ اور صاحبین کی دلیل حضرت جبرائیل کی امامت والی حدیث ہے ،پہلے دن میں عصر کے لئے اسی وقت میں ۔
تشریح : صاحبین فرماتے ہیں کہ جب سایہ ایک مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے ، اور عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ حضرت جبرائیل نے پہلے دن میں حضور ۖ کی عصر کی امامت ایک مثل پر کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ایک مثل پر عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ، اور دوسرے دن ظہر کی امامت ایک مثل پر کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل پر ختم ہو جاتا ہے ۔حدیث یہ ہے ۔ اخبرنی ابن عباس ان النبی ۖ قال امنی جبرئیل عند البیت مرتین فصلی الظہر فی الاولی منھما حین کان الفیء مثل الشراک ثم صلی العصر حین کان کل شیء مثل ظلہ ثم صلی المغرب حین