Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

332 - 627
١  وفیٔ الزوال ہو الفیٔ الذی یکون للاشیاء وقت الزوال ٢ لہما امامة جبریل فی الیوم الاوّل للعصر فی ہذا الوقت

کے بارے میں امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل تک رہتا ہے۔ اور اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوتا ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے
  وجہ :  (١)عن ابی ذر قال کنا مع رسول اللہ ۖ فی سفر فاراد المؤذن ان یؤذن للظھر فقال النبی ۖابرد، ثم اراد ان یؤذن فقال لہ ابرد،حتی رأینا فیء التلول فقال النبی ۖ ان شدة الحر من فیح جہنم فاذا اشتد الحر فابردوا بالصلوة ۔ (بخاری شریف، باب الابراد بالظہر فی السفر ص ٧٧ نمبر ٥٣٩ ابو داود شریف ، باب وقت صلاة الظھر ، ٦٤، نمبر ٤٠١) ٹیلہ پستہ قد ہوتا ہے اس کا سایہ نیچے نظرآنے لگے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل سے زیادہ ہو چکا ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ظہر کی نماز ایک مثل کے بعد پڑھی گئی ہے۔ اس لئے ظہر کا وقت دو مثل تک ہے  (٢)عن عبد اللہ بن عمر أنھما حدثاہ عن رسول اللہ  ۖ أنہ قال : اذا اشتد الحر فأبردوا بالصلوة ، فان شدة الحر من فیح جھنم ۔ (بخاری شریف، باب الابراد بالظہر فی شدة الحر، ص ٧٧ نمبر ٥٣٣ ابو داود شریف ، باب وقت صلاة الظھر ، ٦٤، نمبر ٤٠٢) اس حدیث میں بھی ہے کہ گرمی میں ظہر کی تاخیر کی ، اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ظہر کی نماز دو مثل پر پڑھی ہو گی کیونکہ عرب میں دو مثل تک گرمی رہتی ہے ۔
ترجمہ:  ١   اور فیء زوال وہ سایہ ہے جو چیزوں کا زوال کے وقت میں ہو تا ہے ۔
تشریح :  جب سورج دوپہر کے وقت سر پر آجائے ، اور پورب اور پچھم کے درمیان ٹھیک اتر یا دکھن کی طرف سورج ہو تو اس وقت کے سایہ کو فیء زوال ، یا سایہ اصلی کہتے ہیں ۔ اس سے تھوڑا سا ہٹ جائے تو وہ وقت زوال ہے اور اس وقت سے تمام ائمہ کے نزدیک ظہر کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ :٢   اور صاحبین کی دلیل حضرت جبرائیل کی امامت والی حدیث ہے ،پہلے دن میں عصر کے لئے اسی وقت میں ۔
تشریح : صاحبین فرماتے ہیں کہ جب سایہ ایک مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے ، اور عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ حضرت جبرائیل نے پہلے دن میں حضور ۖ کی عصر کی امامت ایک مثل پر کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ایک مثل پر عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ، اور دوسرے دن ظہر کی امامت ایک مثل پر کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل پر ختم ہو جاتا ہے ۔حدیث یہ ہے ۔  اخبرنی ابن عباس ان النبی ۖ قال امنی جبرئیل عند البیت مرتین فصلی الظہر فی الاولی منھما حین کان الفیء مثل الشراک ثم صلی العصر حین کان کل شیء مثل ظلہ ثم صلی المغرب حین 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter