Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

331 - 627
ں لا یغرنکم اذان بلال ولا الفجر المستطیل وانما الفجر المستطیرفی الافق ای المنتشرفیہا
 (١٨٥) واوّل وقت الظہر اذا ازالت الشمس )   ١  لا مامة جبریل ں فی الیوم حین زالت الشمس  (١٨٦) واٰخروقتہا عند ابی حنیفة اذا صارظل کل شییٔ مثلیہ  سوی فیٔ  الزوال وقالا اذا صار الظل مثلہ وہو روایة عن ابی حنیفة ) 

ہوتی ہے جو بہت مشکل سے نظر آتی ہے حدیث میں اسی کو فجر مستطیل  کہتے ہیں ۔اس کے تھوڑی دیر کے بعد محرابی شکل میں پھیلی ہوئی روشنی ہوتی ہے  جس کو صبح صادق کہتے ہیں۔بعض ماہرین فلکیات اس کو اٹھارہ ڈگری پر بتاتے ہیں اور بعض پندرہ ڈگری پر بتاتے ہیں۔ دلائل دونوں طرف ہیں ۔اسی صبح صادق کے وقت فجر کی نماز واجب ہوتی ہے۔اسی کی طرف مصنف نے البیاض المعترض کہ کر اشارہ کیا ہے۔ حدیث میں اس کی دلیل یہ ہے  عن سمرة بن جندب قال قال رسول اللہ ۖ لا یغرنکم من سحورکم  اذان بلال ولا  بیاض الافق المستطیل ھکذا  حتی یستطیرھکذا  (مسلم شریف ، باب بیان ان الدخول فی الصوم یحصل بطلوع الفجر،کتاب الصوم ص ٣٥٠ نمبر١٠٩٤  ٢٥٤٦ ابو داود شریف ، باب وقت السحور ،ص٣٤١، نمبر ٢٣٤٦ترمذی شریف ، باب ما جاء فی بیان الفجر ، ص ١٧٩ ، نمبر ٧٠٥)حدیث سے پتہ چلا کہ روشنی جو لمبائی میں ہو وہ صبح صادق نہیں ہے ۔ بلکہیستطیر یعنی افق میں پھیلی ہوئی روشنی صبح صادق ہے۔ (٢)آیت میں بھی اس طرف اشارہ ہے  وکلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر (آیت ١٨٧ سورة البقرة ٢) تبین سے مراد فجر کا خوب واضح ہونا ہے جوصبح صادق کے وقت ہوتا ہے۔
لغت: ۔ معترض : اعترض  سے مشتق ہے پھیلی ہوئی ۔اسفر : صبح کا بہت واضح ہو نا ۔ کاذب : جھوٹا ۔صبح کی پہلی روشنی ،جس سے دھوکا ہو تا ہے کہ شاید یہ صبح صادق ہو ۔ یبدو : ظاہر ہو تا ہے ۔ یعقبہ : عقب سے مشتق ہے ، اسکے بعد آتا ہے ۔ یغرنکم : غر سے مشتق ہے ،دھوکا دے ۔ مستطیر : طار سے مشتق ہے پھیلا ہوا ہونا ، متفرق ہو نا ۔ منتشر : انتشر سے مشتق ہے پھیلا ہوا ہونا۔
 ترجمہ: (١٨٥)  ظہر کا اول وقت جب سورج ڈھل جائے ۔
ترجمہ:  ١   جبریل علیہ السلام کی پہلے دن میں امامت کی وجہ سے جب سورج ڈھل گیا )
ترجمہ: (١٨٦)  اور اس کا آخری وقت امام ابو حنیفہ کے نزدیک جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو جائے سایہ اصلی کے علاوہ۔اور صاحبین کے نزدیک جب کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو جائے۔ امام ابو حنیفہ  کی بھی ایک روایت یہی ہے  
تشریح : ظہر کا اول وقت زوال کے فورا بعد سے شروع ہوتا ہے ۔اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔البتہ اس کے آخری وقت 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter