Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

327 - 627
٢ و لو فعل یجزیہ لحصول المقصود،٣و معنی النھی فی الروث النجاسة،  و فی العظم کونہ زاد الجن(١٨٢) ولا بطعام)   ١ لانہ اضاعة و اسراف

استنجا کرنا جائز نہیں ہے (٢)ایسی چیز جو چکنی ہو جیسے ہڈی اس سے مقام صاف نہیں ہوگا صرف نجاست مزید پھیل جائے گی اس لئے اس سے بھی استنجا جائز نہیں ہے  (٣) اسکے لئے حدیث یہ ہے عن ابی ھریرة قال: اتبعت النبی  ۖ و خرج لحاجتہ فکان لا یلتفت ، فدنوت منہ فقال : ((ابغنی احجاراً أستنفض بھا ، او نحوہ ۔ و لا تأتینی بعظم و لا روث)) ۔ ( بخاری شریف ، باب الاستنجاء بالحجارة ، ص ٢٧، نمبر ١٥٥ مسلم شریف ، باب الاستطابة ص١٣٠ نمبر ٦٠٧٢٦٢ ) اس حدیث میں ہے  کہ ہڈی اور لید نہ لانا اس سے معلوم ہوا کہ لید اور ہڈی سے استنجاء کر نا صحیح نہیں ہے ۔
ترجمہ:  ٢   اور اگر استنجاء کر لیا تو کافی ہو جائے گا ۔مقصود حاصل ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح :  ہڈی اور لید سے استنجاء کر نا اچھا نہیں ہے لیکن اگر کر لیا تو استنجاء ہو جائے گا اسلئے کہ اس سے صفائی کر نے سے صفائی ہو جائے گی ، اور مقصود حاصل ہو جائے گا ۔
ترجمہ:  ٣    لید کے بارے میں روکنے کی وجہ نجاست ہے ، اور ہڈی کے بارے میں یہ ہے کہ جنات کی خوراک ہے ۔
تشریح :  لید سے استنجاء کرنے سے اسلئے منع فرمایا کہ وہ نا پاک چیز ہے ،  اور ناپاک چیز تو اور مقام کو ناپاک کرے گی  اسلئے اس سے استنجاء کر نا اچھا نہیں ۔حدیث میں اسکا ثبوت ہے ،حدیث یہ ہے ۔انہ سمع عبد اللہ یقول : أتی النبی  ۖ الغائط فأمرنی ان أتیہ بثلاثة احجار فوجدت حجرین و التمست الثالث فلم أجد ، فأخذت روثة فأتیتہ بھا فأخذالحجرین و ألقی الروثة و قال ھذا رکس ۔ ( بخاری شریف ، باب لا یستنجی بروث ، ص ٢٧ ، نمبر ١٥٦ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالحجرین ، ص ١٠ ،نمبر ١٧)اس حدیث میں ہے کہ لید ناپاک ہے ۔
اور ہڈی ایک تو چکنی ہو تی ہے اس سے پونچھے گا تو نجاست اور پھیل جائے گی ، اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ جنات کی خوراک ہے اور حضور ۖ  نے اس سے استنجاء کر نے سے منع فرمایا ہے ۔ حدیث یہ ہے۔ عن عبد اللہ بن مسعود قال : قال رسول اللہ  ۖ : لا تستنجو بالروث و لا بالعظام فانہ زاد اخوانکم من الجن۔(ترمذی شریف ، باب ما جاء فی کراھیة ما یستنجی بہ ، ص ١١، نمبر ١٨  بخاری شریف ، باب ذکر الجن ،ص ٦٤٧، نمبر ٣٨٦٠)   اس حدیث میں ہے کہ ہڈی جن کی خوراک ہے ۔
ترجمہ: (١٨٢)  اور نہ کھانے سے استنجاء صحیح ہے ۔
 ترجمہ :  ١    اسلئے کہ اس میں مال کو ضائع کر نا ہے اور اسراف کر نا ہے ۔
 تشریح :  کھانے کی چیز مثلا روٹی سے استنجاء کر نا اچھا نہیں ہے ۔ ایک وجہ یہ ہے کہ وہ محترم چیز ہے اور محترم چیز کو استنجاء صاف 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter