٢ و ھذا لان المسح غیر مزیل الا انہ اکتفی بہ فی موضع الاستنجاء فلا یتعداہ ٣ ثم یعتبر بالمقدارالمانع وراء موضع الاستنجاء عندابی حنیفة وابی یوسف لسقوط اعتبار ذالک الموضع،
٤ و عند محمد مع موضع الاستنجاء اعتباراً بسائر المواضع (١٨١)ولایستنجی بعظم ولابروث)
١ لان النبی ں نھی عن ذالک
ترجمہ: ٢ مخرج سے زیادہ میں دھونے کی ضرورت اسلئے ہے کہ پونچھنا نجاست کو زائل کر نے والا نہیں ہے مگر یہ کہ اسکے ذریعہ سے استنجاء کی جگہ میں اکتفاء کیا پس اس سے متعدی نہیں ہو گا ۔
تشریح: پیخانہ نکلنے کی جگہ سے زیادہ نجاست لگ جائے تواسکو دھونے کا حکم ہے اسکی وجہ بیان کر رہے ہیں ۔کہ پتھر سے پونچھنے سے نجاست مکمل طور پر ختم نہیں ہو گی ، کچھ نہ کچھ باقی ہی رہ جائے گی ، اسلئے پیخانہ نکلنے کی جگہ کو معاف کر دیا گیا کہ اتنا پیخانہ لگ جائے تو دھونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ابھی حدیث گزری کہ درھم کے برابر معاف ہے اور اس سے زیادہ لگے تو دھونا پڑے گا ۔
ترجمہ: ٣ پھر معاف کی ہوئی مقدار کا اعتبار کیا جائے گا استنجاء کی جگہ کے علاوہ کے ساتھ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک اس جگہ کے اعتبار کے ساقط ہونے کی وجہ سے ۔
تشریح: امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ پیخانہ نکلنے کی جو جگہ ہے اس پر لگے اوراسکے علاوہ ایک درھم کے برابر لگ جائے تو بھی معاف ہے تو گویا کہ تقریباً دو درھم کے برابر معاف ہوا یعنی پیخانہ نکلنے کی جگہ میں نجاست لگ جائے اور اسکے علاوہ ایک درھم اور کے برابر پیخانہ لگ جائے اور اسکو پتھر سے پونچھ لے تب بھی نماز جائز ہے دھونے کی ضرورت نہیں ، اس سے زیادہ لگے گی تو دھونے کی ضرورت ہو گی ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پیخانہ کی جگہ شریعت نے حدیث استنجاء کی وجہ سے ساقط کر دی اسلئے درھم والی حدیث کی وجہ سے درھم کی مقدار اسکے علاوہ ہو گی ۔ گویا کہ انکے یہاں سہولت زیادہ ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور امام محمد کے نزدیک استنجاء کی جگہ کے ساتھ ہے دوسری جگہ پر قیاس کرتے ہوئے ۔
تشریح : امام محمد فرماتے ہیں پیخانہ کی جگہ کے ساتھ کل ایک درھم معاف ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پیخانہ کے علاوہ دوسری جگہ نجاست لگ جائے تو کل ایک درھم معاف ہے تو اس پر قیاس کر تے ہوئے یہاں بھی پیخانہ کی جگہ کے ساتھ کل ایک درھم ہی معاف ہے ۔ یہ حدیث گزر چکی ہے ۔
ترجمہ: (١٨١) نہ استنجا کرے ہڈی سے، نہ لید سے۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ حضور ۖ نے اس سے منع فر مایا ہے ۔
وجہ : (١)یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز جو خود ناپاک ہو جیسے لید،سوکھا گوبر تو وہ دوسرے کو کیسے پاک کرے گی۔ اس لئے ناپاک چیز سے