١ و فی بعض النسخ الا المائع، و ھذا یحقق اختلاف الروایتین فی تطھیرالعضو بغیر الماء علی ما بینا
ساتھ ایک درہم کی مقدار سے زیادہ نجاست پھیل جائے تو پانی سے دھونا ضروری ہے۔ اب پتھر سے صاف کرنا کافی نہیں ہوگا
وجہ: (١) مخرج کو مجبوری کے درجہ میں پتھر سے صاف کرنا کافی قرار دیا اس لئے اس سے زیادہ پھیل جائے تو پانی سے دھونا ضروری ہوگا (٢) حضرت علی کے قول سے تائید ہوتی ہے۔ قال علی بن ابی طالب انھم کانوا یبعرون بعرا وانتم تثلطون ثلطا فاتبعوا الحجارة الماء ۔(سنن للبیھقی،باب الجمع فی الاستنجاء بین المسح بالاحجار والغسل بالماء ،ج اول ،ص ١٧٢،نمبر ٥١٧) اس سے معلوم ہوا کہ پتھر اس وقت کافی ہوگا جب نجاست مخرج تک ہو جیسا کہ صحابہ خشک پا خانہ کرتے تھے تو مخرج تک ہوتا تھا ۔لیکن مخرج سے زیادہ ہو تو پانی استعمال کرنا ہوگا ۔(٢) اس حدیث میں ہے کہ درھم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز لوٹانی ہوگی اسلئے پیخانہ نکلنے کے مخرج سے زیادہ ہو تو وہ درھم کی مقدار سے زیادہ ہو جائے گا اسلئے اب پانی سے دھونا ہو گا ، حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ اذا کان فی الثوب قدر الدرھم من الدم غسل الثوب و أعیدت الصلاة (دار قطنی ، باب قدر النجاسة التی تبطل الصلوة ص ٣٨٥ نمبر ١٤٨٠سنن للبیھقی ، باب ما یجب غسلہ من الدم ، ج اول ، ص ٥٦٦ ، نمبر ٤٠٩٣) اس حدیث میں ہے کہ درھم کے برابر نجاست ہو تو نماز لوٹائے گا ،اسلئے یہاں بھی مخرج سے زیادہ نجاست پھیل جائے تو وہ درھم سے زیادہ ہو جائے گا اسلئے پانی سے دھو نا ہو گا ۔
ترجمہ: ١ اور بعض نسخے میں ہے مگر بہنے والی چیز ۔ یہ دو روایتوں کا اختلاف ہے عضو کے پاک کر نے کے بارے میں ، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ۔
تشریح : پیخانہ کے مقام کو پانی سے دھو سکتے ہیں ، اور بعض روایت میں ہے کہ ہر اس بہنے والی چیز سے دھو سکتے ہیں جو نجاست کو زائل کر دے، مسئلہ نمبر ١٦١ میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک پانی کے علاوہ بہنے والی نجاست کو اکھیڑنے اور زائل کر نے والی ہو تو اس سے نجاست پاک کر نا جائز ہے ۔ اسی طرح اس سے پا خانہ کا مقام دھونا بھی جائز ہے ۔ انکا استدلال اس حدیث سے ہے ۔ قالت عائشة ما کان لاحد انا الا ثوب واحد تحیض فیہ فاذا اصابہ شیء من دم قالت بریقھا فقصعتہ بظفرھا ۔ (بخاری شریف، باب ھل تصلی المرأة فی ثوب حاضت فیہ ص ٤٥ نمبر ٣١٢ ابو داؤد شریف ، باب المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٣٦٤) اس حدیث میں ہے کہ حیض کا خون تھوک سے پاک کیا کرتیں تھیں اور تھوک پانی نہیں ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ پانی کے علاوہ سے بھی نجاست پاک کی جا سکتی ہے ۔
اسی دونوں روایتوں کی بنیاد پر بعض نسخے میں صرف ماء ، کا لفظ ہے اور بعض نسخے میں ماء کے ساتھ مائع ،یعنی ہر وہ بہنے والی چیز بھی ہے۔