Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

325 - 627
  ١ و فی بعض النسخ الا المائع، و ھذا یحقق اختلاف الروایتین فی تطھیرالعضو بغیر الماء علی ما بینا 

ساتھ ایک درہم کی مقدار سے زیادہ نجاست پھیل جائے تو پانی سے دھونا ضروری ہے۔ اب پتھر سے صاف کرنا کافی نہیں ہوگا  
وجہ:  (١) مخرج کو مجبوری کے درجہ میں پتھر سے صاف کرنا کافی قرار دیا اس لئے اس سے زیادہ پھیل جائے تو پانی سے دھونا ضروری ہوگا (٢) حضرت علی کے قول سے تائید ہوتی ہے۔  قال علی بن ابی طالب انھم کانوا یبعرون بعرا وانتم تثلطون ثلطا فاتبعوا الحجارة الماء ۔(سنن للبیھقی،باب الجمع فی الاستنجاء بین المسح بالاحجار والغسل بالماء ،ج اول ،ص ١٧٢،نمبر ٥١٧) اس سے معلوم ہوا کہ پتھر اس وقت کافی ہوگا جب نجاست مخرج تک ہو جیسا کہ صحابہ خشک پا خانہ کرتے تھے تو مخرج تک ہوتا تھا ۔لیکن مخرج سے زیادہ ہو تو پانی استعمال کرنا ہوگا ۔(٢) اس حدیث میں ہے کہ درھم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز لوٹانی ہوگی اسلئے پیخانہ نکلنے کے مخرج سے زیادہ ہو تو وہ درھم کی مقدار سے زیادہ ہو جائے گا اسلئے اب پانی سے دھونا ہو گا ، حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ  ۖ اذا کان فی الثوب قدر الدرھم من الدم غسل الثوب و أعیدت الصلاة (دار قطنی ، باب قدر النجاسة التی تبطل الصلوة ص ٣٨٥ نمبر ١٤٨٠سنن للبیھقی ، باب ما یجب غسلہ من الدم ، ج اول ، ص ٥٦٦ ، نمبر ٤٠٩٣)  اس حدیث میں ہے کہ درھم کے برابر نجاست ہو تو نماز لوٹائے گا ،اسلئے یہاں بھی مخرج سے زیادہ نجاست پھیل جائے تو وہ درھم سے زیادہ ہو جائے گا اسلئے پانی سے دھو نا ہو گا ۔
ترجمہ: ١   اور بعض نسخے میں ہے مگر بہنے والی چیز ۔  یہ دو روایتوں کا اختلاف ہے عضو کے پاک کر نے کے بارے میں ، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ۔
 تشریح  :  پیخانہ کے مقام کو پانی سے دھو سکتے ہیں ، اور بعض روایت میں ہے کہ ہر اس بہنے والی چیز سے دھو سکتے ہیں جو نجاست کو زائل کر دے،  مسئلہ نمبر ١٦١ میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ امام ابو حنیفہ  کے نزدیک پانی کے علاوہ بہنے والی نجاست کو اکھیڑنے اور زائل کر نے والی ہو تو اس سے نجاست پاک کر نا جائز ہے ۔ اسی طرح اس سے پا خانہ کا مقام دھونا بھی جائز ہے ۔ انکا استدلال اس حدیث سے ہے ۔ قالت عائشة ما کان لاحد انا الا ثوب واحد تحیض فیہ فاذا اصابہ شیء من دم قالت بریقھا فقصعتہ بظفرھا ۔ (بخاری شریف، باب ھل تصلی المرأة فی ثوب حاضت فیہ ص ٤٥ نمبر ٣١٢ ابو داؤد شریف ، باب المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٣٦٤)  اس حدیث میں ہے کہ حیض کا خون تھوک سے پاک کیا کرتیں تھیں اور تھوک پانی نہیں ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ پانی کے علاوہ سے بھی نجاست پاک کی جا سکتی ہے ۔  
 اسی دونوں  روایتوں کی بنیاد پر بعض نسخے میں صرف ماء ، کا لفظ ہے اور بعض نسخے میں ماء کے ساتھ مائع ،یعنی ہر وہ بہنے والی چیز بھی ہے۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter