Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

324 - 627
٣  و یستعمل الماء الی ان یقع فی غالب ظنہ انہ قد طھر،ولا یقدربالمرات الا اذا کان موسوساً فیقدر بالثلاث فی حقہ،  وقیل بالسبع  (١٨٠)  و لو جاوزت النجاسة مخرجھا لم یجز الا الماء )

استعمال کر نا سنت ہے ، اسکے لئے یہ اثر دلیل ہے ۔قال علی بن ابی طالب انھم کانوا یبعرون بعرا وانتم تثلطون ثلطا فاتبعوا الحجارة الماء ۔(سنن للبیھقی،باب الجمع فی الاستنجاء بین المسح بالاحجار والغسل بالماء ،ج اول ،ص ١٧٢،نمبر ٥١٧) اس اثر میں ہے کہ تم لوگ پتلا پیخانہ کر تے ہو اسلئے پانی سے دھویا کرو ۔
ترجمہ: ٣   اور اس وقت تک پانی استعمال کر تا رہے کہ غالب گمان ہو جائے کہ وہ پاک ہو چکا ہے ۔ کتنی مرتبہ دھوئے  اسکو متعین نہیں کیا گیا ، مگر وسوسہ والا ہو تو اسکے حق میں تین کے ساتھ متعین کیا ، اور بعض حضرات نے کہا کہ سات کے ساتھ ۔
تشریح:  پانی استعمال کرنے کے لئے کوئی متعین تعداد سنت نہیں ہے ، بس اتنی بار دھوئے کہ ظن غالب ہو جائے کہ مقام پاک ہو گیا ہو گا ۔
حدیث میں ہے کہ نجاست زائل کرو ۔ عن اسماء بنت أبی بکر الصدیق : أن امرأة سألت النبی ۖ عن الثوب یصیبہ  الدم من الخیضة ؟ فقال رسول اللہ  ۖ : حتیہ ، ثم اقرصیہ بالماء ثم رشیہ ، و صلی فیہ ۔ ( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی غسل دم الحیض من الثوب ، ص ٣٥، نمبر ١٣٨)  اس حدیث میں ہے کہ کوشش کر کے خون زائل کرو اور پانی کی تعداد نہیں بتائی اسلئے تعداد ضروری نہیں صرف نجاست کا زائل ہو نا کافی ہے ۔
البتہ اگر وسوسہ اور شک والا ہو تو اسکو کہا جائے کہ تین مرتبہ دھو لیں ، کیونکہ کئی احادیث میں اعضاء کو تین مرتبہ دھونے کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ 
اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ تین مرتبہ استنجاء کے لئے پانی لیتے تھے ۔ عن عائشة أن النبی  ۖ کان یغسل مقعدتہ ثلاثاً ، قال ابن عمر : فعلناہ فوجدناہ دوائً و طھور ا۔( ابن ماجہ شریف ، باب الاستنجاء بالماء ، ص ٥٣ ، نمبر ٣٥٦) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ اپنے مقعد کو تین مرتبہ دھوتے تھے ۔ (٢) دوسری حدیث میں بھی اسکا تذکرہ ہے  ۔عن ابی ھریرة قال اذا ولغ الکلب فی الاناء فاھرقہ ثم اغسلہ ثلاث مرات (دار قطنی، باب ولوغ الکلب فی الاناء ج اور ص ٦٦ نمبر ١٩٣مصنف عبد الرزاق ،باب الکلب یلغ فی الاناء ،ج اول ص ٩٧ نمبر ٣٣٦) اس حدیث میں تین مرتبہ دھونے کا تذکرہ ہے ۔اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وسوسہ والے سات مرتبہ دھوئے ، انکا استدلال یہ ہے کہ کتے کے جوٹھے میں سات مرتبہ دھونے کا تذکرہ ہے ۔
ترجمہ: (١٨٠)  اگر نجاست مخرج سے زیادہ پھیل جائے تو اس میں جائز نہیں ہے مگر پانی  ،
تشریح:  شیخین کے نزدیک مخرج کے علاوہ ایک درہم کی مقدارسے زیادہ نجاست پھیل جائے اور امام محمد کے نزدیک مخرج کے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter