٣ و یستعمل الماء الی ان یقع فی غالب ظنہ انہ قد طھر،ولا یقدربالمرات الا اذا کان موسوساً فیقدر بالثلاث فی حقہ، وقیل بالسبع (١٨٠) و لو جاوزت النجاسة مخرجھا لم یجز الا الماء )
استعمال کر نا سنت ہے ، اسکے لئے یہ اثر دلیل ہے ۔قال علی بن ابی طالب انھم کانوا یبعرون بعرا وانتم تثلطون ثلطا فاتبعوا الحجارة الماء ۔(سنن للبیھقی،باب الجمع فی الاستنجاء بین المسح بالاحجار والغسل بالماء ،ج اول ،ص ١٧٢،نمبر ٥١٧) اس اثر میں ہے کہ تم لوگ پتلا پیخانہ کر تے ہو اسلئے پانی سے دھویا کرو ۔
ترجمہ: ٣ اور اس وقت تک پانی استعمال کر تا رہے کہ غالب گمان ہو جائے کہ وہ پاک ہو چکا ہے ۔ کتنی مرتبہ دھوئے اسکو متعین نہیں کیا گیا ، مگر وسوسہ والا ہو تو اسکے حق میں تین کے ساتھ متعین کیا ، اور بعض حضرات نے کہا کہ سات کے ساتھ ۔
تشریح: پانی استعمال کرنے کے لئے کوئی متعین تعداد سنت نہیں ہے ، بس اتنی بار دھوئے کہ ظن غالب ہو جائے کہ مقام پاک ہو گیا ہو گا ۔
حدیث میں ہے کہ نجاست زائل کرو ۔ عن اسماء بنت أبی بکر الصدیق : أن امرأة سألت النبی ۖ عن الثوب یصیبہ الدم من الخیضة ؟ فقال رسول اللہ ۖ : حتیہ ، ثم اقرصیہ بالماء ثم رشیہ ، و صلی فیہ ۔ ( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی غسل دم الحیض من الثوب ، ص ٣٥، نمبر ١٣٨) اس حدیث میں ہے کہ کوشش کر کے خون زائل کرو اور پانی کی تعداد نہیں بتائی اسلئے تعداد ضروری نہیں صرف نجاست کا زائل ہو نا کافی ہے ۔
البتہ اگر وسوسہ اور شک والا ہو تو اسکو کہا جائے کہ تین مرتبہ دھو لیں ، کیونکہ کئی احادیث میں اعضاء کو تین مرتبہ دھونے کا تذکرہ گزر چکا ہے۔
اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ تین مرتبہ استنجاء کے لئے پانی لیتے تھے ۔ عن عائشة أن النبی ۖ کان یغسل مقعدتہ ثلاثاً ، قال ابن عمر : فعلناہ فوجدناہ دوائً و طھور ا۔( ابن ماجہ شریف ، باب الاستنجاء بالماء ، ص ٥٣ ، نمبر ٣٥٦) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ اپنے مقعد کو تین مرتبہ دھوتے تھے ۔ (٢) دوسری حدیث میں بھی اسکا تذکرہ ہے ۔عن ابی ھریرة قال اذا ولغ الکلب فی الاناء فاھرقہ ثم اغسلہ ثلاث مرات (دار قطنی، باب ولوغ الکلب فی الاناء ج اور ص ٦٦ نمبر ١٩٣مصنف عبد الرزاق ،باب الکلب یلغ فی الاناء ،ج اول ص ٩٧ نمبر ٣٣٦) اس حدیث میں تین مرتبہ دھونے کا تذکرہ ہے ۔اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وسوسہ والے سات مرتبہ دھوئے ، انکا استدلال یہ ہے کہ کتے کے جوٹھے میں سات مرتبہ دھونے کا تذکرہ ہے ۔
ترجمہ: (١٨٠) اگر نجاست مخرج سے زیادہ پھیل جائے تو اس میں جائز نہیں ہے مگر پانی ،
تشریح: شیخین کے نزدیک مخرج کے علاوہ ایک درہم کی مقدارسے زیادہ نجاست پھیل جائے اور امام محمد کے نزدیک مخرج کے