Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

323 - 627
(١٧٩) و غسلہ بالماء افضل)   ١   لقولہ تعالی : فیہ رجال یحبون ان یتطھروا  انزلت فی اقوام کانوا یتبعون الحجارة المائ،  ٢  ثم ھو ادب، و قیل: سنة فی زماننا

لیا تو بالاجماع جائز ہو جائے گا ۔حالا نکہ وہ ایک ہی پتھر ہے ۔
تشریح:  یہ امام شافعی کو عقلی جواب ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ تین پتھر ہو نا چاہئے حالا نکہ اگر ایک ہی پتھر ہو اور اسکے تین کونے ہوں اور تینوں کونوں سے مقام صاف کر لے تو آپ کے یہاں بھی استنجاء ہو جاتا ہے ، حالانکہ پتھر تو ایک ہی ہے تین تو نہیں ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے یہاں بھی ظاہری حدیث پر عمل نہیں ہے ۔   
  لغت : المدر  :  ڈھیلا،  ینقیہ  :  صاف کردے۔ استجمر : جمر سے مشتق ہے پتھر سے مقام صاف کر نا ۔یوتر : طاق مرتبہ کسی کام کو کر نا ۔احرف : حرف سے مشتق ہے کنارہ ۔استنجاء : نجو سے مشتق ہے ، نجو کا معنی ہے پیخانہ اور باب استفعال میں جا کر استنجاء کا تر جمہ ہے پیخانہ ، یا پیشاب صاف کر نا ۔ 
ترجمہ:(١٧٩)  مقام کو پانی کے ساتھ دھونا افضل ہے۔
 ترجمہ:    ١  اللہ تعالی کے قول کی وجہ سے کہ صحابہ میں کچھ لوگ ہیں جو بہت زیادہ پاکی کو پسند کر تے ہیں ۔ یہ آیت ایسے حضرات کی شان میں نازل ہو ئی ہے جو پتھر کے بعد پانی استعمال کر تے تھے ۔ 
وجہ :(١)  اوپر کی آیت یہ ہے ۔ (فیہ رجال یحبون أن یتطھروا و اللہ یحب المطھرین  )آیت ١٠٨ سورة التوبة ٩)(٢)اور حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة عن النبی  ۖ قال:نزلت ھذہ الآیة فی اھل قباء (فیہ رجال یحبون أن یتطھروا )آیت ١٠٨ سورة التوبة ٩)قال کانوا یستنجون بالماء فنزلت فیھم ھذہ الآیة ۔( ابو داود شریف ، باب فی الاستنجاء بالماء ،ص ٧، نمبر ٤٤ سنن للبیھقی ، باب الاستنجاء بالماء ، ج اول ص ١٧٠، نمبر ٥١١)  اس آیت اور حدیث میں اھل قباء کی تعریف کی گئی ہے جو استنجاء کے لئے پتھر کے بعد پانی بھی استعمال کیا کر تے تھے ۔(٣)یہ حدیث بھی ہے ۔ سمعت انس بن مالک یقول کان النبی ۖ اذا خرج لحاجتہ اجیء انا وغلام معنا اداوة من ماء یعنی یستنجی بہ۔(بخاری شریف،باب الاستنجاء بالماء ص ٢٧ نمبر ١٥٠ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالماء ، ص ١١، نمبر ١٩ ) اس حدیث میں ہے کہ آپۖ پانی استعمال کر تے تھے ۔ اور یہ افضل ہے ۔
ترجمہ: ٢   پھر دھونا ادب ہے ۔ اور کہا گیا کہ ہمارے زمانے میں سنت ہے ۔
تشریح:  پتھر سے بھی استنجاء ہو جائے گا لیکن پانی سے دھو نا ادب ہے ۔ اور علماء نے فرمایا کہ اس زمانے میں سنت ہے ، کیونکہ حضور ۖ کے زمانے میں لوگ عموما کھجور استعمال کر تے تھے یا خشک غذا  استعمال کرتے تھے جسکی وجہ سے پیخانہ خشک ہو تا تھا اور پتھر سے تقریبا پورا صاف ہو جاتا تھا لیکن ہمارے زمانے میں لوگ تر غذائیں استعمال کرتے ہیں اسلئے پتھر سے پورا صاف نہیں ہو گا اسلئے پانی کا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter