(١٧٩) و غسلہ بالماء افضل) ١ لقولہ تعالی : فیہ رجال یحبون ان یتطھروا انزلت فی اقوام کانوا یتبعون الحجارة المائ، ٢ ثم ھو ادب، و قیل: سنة فی زماننا
لیا تو بالاجماع جائز ہو جائے گا ۔حالا نکہ وہ ایک ہی پتھر ہے ۔
تشریح: یہ امام شافعی کو عقلی جواب ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ تین پتھر ہو نا چاہئے حالا نکہ اگر ایک ہی پتھر ہو اور اسکے تین کونے ہوں اور تینوں کونوں سے مقام صاف کر لے تو آپ کے یہاں بھی استنجاء ہو جاتا ہے ، حالانکہ پتھر تو ایک ہی ہے تین تو نہیں ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے یہاں بھی ظاہری حدیث پر عمل نہیں ہے ۔
لغت : المدر : ڈھیلا، ینقیہ : صاف کردے۔ استجمر : جمر سے مشتق ہے پتھر سے مقام صاف کر نا ۔یوتر : طاق مرتبہ کسی کام کو کر نا ۔احرف : حرف سے مشتق ہے کنارہ ۔استنجاء : نجو سے مشتق ہے ، نجو کا معنی ہے پیخانہ اور باب استفعال میں جا کر استنجاء کا تر جمہ ہے پیخانہ ، یا پیشاب صاف کر نا ۔
ترجمہ:(١٧٩) مقام کو پانی کے ساتھ دھونا افضل ہے۔
ترجمہ: ١ اللہ تعالی کے قول کی وجہ سے کہ صحابہ میں کچھ لوگ ہیں جو بہت زیادہ پاکی کو پسند کر تے ہیں ۔ یہ آیت ایسے حضرات کی شان میں نازل ہو ئی ہے جو پتھر کے بعد پانی استعمال کر تے تھے ۔
وجہ :(١) اوپر کی آیت یہ ہے ۔ (فیہ رجال یحبون أن یتطھروا و اللہ یحب المطھرین )آیت ١٠٨ سورة التوبة ٩)(٢)اور حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال:نزلت ھذہ الآیة فی اھل قباء (فیہ رجال یحبون أن یتطھروا )آیت ١٠٨ سورة التوبة ٩)قال کانوا یستنجون بالماء فنزلت فیھم ھذہ الآیة ۔( ابو داود شریف ، باب فی الاستنجاء بالماء ،ص ٧، نمبر ٤٤ سنن للبیھقی ، باب الاستنجاء بالماء ، ج اول ص ١٧٠، نمبر ٥١١) اس آیت اور حدیث میں اھل قباء کی تعریف کی گئی ہے جو استنجاء کے لئے پتھر کے بعد پانی بھی استعمال کیا کر تے تھے ۔(٣)یہ حدیث بھی ہے ۔ سمعت انس بن مالک یقول کان النبی ۖ اذا خرج لحاجتہ اجیء انا وغلام معنا اداوة من ماء یعنی یستنجی بہ۔(بخاری شریف،باب الاستنجاء بالماء ص ٢٧ نمبر ١٥٠ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالماء ، ص ١١، نمبر ١٩ ) اس حدیث میں ہے کہ آپۖ پانی استعمال کر تے تھے ۔ اور یہ افضل ہے ۔
ترجمہ: ٢ پھر دھونا ادب ہے ۔ اور کہا گیا کہ ہمارے زمانے میں سنت ہے ۔
تشریح: پتھر سے بھی استنجاء ہو جائے گا لیکن پانی سے دھو نا ادب ہے ۔ اور علماء نے فرمایا کہ اس زمانے میں سنت ہے ، کیونکہ حضور ۖ کے زمانے میں لوگ عموما کھجور استعمال کر تے تھے یا خشک غذا استعمال کرتے تھے جسکی وجہ سے پیخانہ خشک ہو تا تھا اور پتھر سے تقریبا پورا صاف ہو جاتا تھا لیکن ہمارے زمانے میں لوگ تر غذائیں استعمال کرتے ہیں اسلئے پتھر سے پورا صاف نہیں ہو گا اسلئے پانی کا